کشمیر پر غا صبا نہ قبضہ اور اقوا مِ عا لم
29 ستمبر 2019 2019-09-29

آ ج سے تین روز قبل، وز یرِاعظم عمرا ن خا ن نے یو این او کے 74 ویںاجلا س میں اقوا مِ عا لم کو خطا ب کر تے ہو ئے جو تقر یر کی و ہ یو ں تو چا ر نکا ت پر مشتمل تھی، مگر اْس کا بجا طو ر پر سب سے اہم نکتہ اب تک متنا ز عہ چلے آ رہے کشمیر پر بھا ر ت کے غا صبا نہ قبضے سے متعلق تھا۔ بے شک وز یرِ اعظم پا کستان کا یہ کہنا کہ کشمیر پہ اب صلح صفا ئی نہیں،کا رو ائی کا وقت ہے، دو ٹو ک اور کھر ے بیا ن کے زمر ے میں آ تا ہے۔ مجھے یہا ں یہ کہنے میں کو ئی عا ر نہیں کہ اب ضر ورت اس امر کی ہے کہ وز یرِ اعظم کے اس قوت بخش بیا ن کے بعد کو ئی لمبا و قفہ نہیں ا ٓنا چا ہیے بلکہ اس سلسلے میں عملی کا رو ا ئی کو فوری طو ر پر آ گے بڑ ھا نا چا ہیے۔ایک اہم سو ال یہ ہے کہ کب تک، آ خر کب تک، بھا رت مقبو ضہ کشمیر پہ کر فیو جا ری رکھ سکتا ہے؟ آ خر ایک روز تو کر فیو اٹھے گا۔ کیو ں بھا رتی حکو مت یہ نہیں غو ر کر تی کہ تب اْسے کس قسم کے ردِ عمل کا سا منا کرنا پڑے گا۔ ایک عا م سمجھ بو جھ کا حا مل شخص بھی وہا ں کے محصو ر کشمیر یو ں اور بھا ر تی فو ج کے تصا دم کے نتیجے میں بہنے وا لی خو ن کی ند یو ں کا بخو بی تصو ر کر سکتا ہے۔یہ تصا دم اسی لا کھ محصو ر کشمیر یو ں اور اْن پہ مسلط نو لا کھ بھا ر تی فو ج کے ما بین ہو گا۔تا حا ل مقبو ضہ وا دی میں سینکڑ وں کی تعدا د میں کشمیر ی ر ہنما اور ہز ا روں کی تعدا د میں شہر ی جیلو ں میں بند ہیں۔ مگر یہ کب تک چل سکتا ہے؟

ایک اچھا شگو ن یہ ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی کشمیر میں حا لات کی سنگینی کا اند ا ز ہ کر تے ہو ئے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی 5 اگست سے پہلے کی خصوصی حیثیت بحال کی جائے اور مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے او آئی سی، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کو پوری آزادی دے۔ یہ مطالبہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر او آئی سی رابطہ گروپ کے وزراء خارجہ اجلاس کے اعلامیہ میں کیا گیا جو صائب اقدام ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور او آئی سی ارکان کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ او آئی سی رابطہ گروپ نے صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کے بعد متفقہ قرارداد کی منظوری دی جس میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی بدتر ہوتی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

او آئی سی کا مقبوضہ جموں کشمیرکی خصوصی حیثیت کی بحالی او رکشمیریوں کے خلاف بھارتی مظالم اور کرفیو کے خاتمہ سے متعلق اعلامیہ عالم اسلام اور پاکستانی و کشمیری عوام کے جذبات کی بھرپور تر جمانی کرتا ہے۔ اسلامی تنظیم کی جانب سے اس نوعیت کے بیان کی ضرورت بھی تھی تاکہ دنیا کشمیر میں بھارتی بربریت کا سختی سے نوٹس لے اور خطے میں خوفناک جنگ کے جو بادل چھارہے ہیں اس سے بچا جاسکے۔ کیونکہ کشمیرعوام کا مسئلہ انسانی ہے، یہ زمین کے ایک ٹکڑے کی جنگ نہیں۔ بھارت کو صرف کشمیر کی زمین چاہیے، اسے 80 لاکھ انسانوں کی امیدوں، خوابوں اور مستقبل سے کوئی سروکار نہیں۔ مودی یوں تو کشمیریوں کو دل سے لگانے کی بات کرتے ہیں مگر وہ کشمیریوں کا قاتل ہے۔ مسلم امہ کو آج کے منعقدہ اجتماعات سے اس حقیقت پر اپنے یقین کو مستحکم کرنا چاہیے کہ مسلمانوں کا اللہ کے سوا کوئی والی وارث اور مددگار نہیں۔ جو کچھ کرنا ہے عالم اسلام کو خود کرنا ہوگا۔ ادھر او آئی سی کی قرارداد میں کہا گیا کہ کشمیر مسئلہ بین الاقوامی تنازع ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے اور اس بات کی یقین دہانی کرائے کہ مسئلہ کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل تک متنازعہ علاقے کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔ قرارداد میں کشمیریوں کی حق خود ارادیت اور بھارتی غاصبانہ قبضے سے آزادی کے لیے جائز جدوجہد کی حمایت کا اعادہ کیا گیا اور کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔ او آئی سی نے انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کی سفارشات پر عملدرآمد کرے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن مقرر کرے۔ دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مذہب کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، نفرت انگیز تقاریر اور اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ کسی بھی معاشرے میں بنیادی حقوق سے محرومی انتہا پسندی کو جنم دیتی ہے۔ ترکی صدر رجب طیب اردوان نے کہا پورا مقبوضہ کشمیر جیل بن چکا ہے۔ وہاں خونریزی کا بھی خدشہ موجود ہے۔ بھارت میں گائے کا گوشت کھانے پر مسلمانوں کو زندہ جلایا جارہا ہے۔ پوری دنیا میں مسلمان نفرت انگیز تقاریر کا آسان ہدف ہیں۔ میڈیا کے مطابق نیویارک میں پاکستان اور ترکی کے زیر اہتمام نفرت انگیز گفتگو سے نمٹنے کے حوالے سے گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں ترک صدر رجب طیب اردوان بھی شریک ہوئے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا بھر کی مختلف برادریوں کے درمیان برداشت اور باہمی تعاون کے لیے نفرت انگیز بیانیے کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔ بالخصوص نفرت انگیز تقاریر اور اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہم ایک ہی اسلام پر یقین رکھتے ہیں جس کی تعلیمات رسول اکرم ﷺ نے دیں۔ مغربی لوگوں کو معلوم ہی نہیں مسلمان پیغمبر اسلام ﷺ سے کس قدر عقیدت رکھتے ہیں اور رسول پاکؐ کی شان میں گستاخی سے ہر مسلمان کا دل بے انتہا مجروح ہوتا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر انسانیت کے خلاف بدترین جرائم کی وجہ بنتی ہے اور دنیا میں اس کے سب سے زیادہ متاثر مسلمان ہیں۔ اِس مقا م پہ ہما را تر ک صد ر کا شکر یہ ادا کر نا یو ں بھی فر ض بنتا ہے کہ انہو ں نے آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلے سے ہونے والے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔ علاوہ ازیں عمران خان نے ایک ٹویٹ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اٹھانے اور اس دیرینہ تنازعے کے حل کی ضرورت پر زور دینے پر ترک صدر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کیا۔ نیویارک ٹائمز کے ادارتی بورڈ سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کررہاہے۔ مقبوضہ کشمیر میں خونریزی کا خطرہ ہے اور دنیا کو اس سے بچنے کے لیے فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ وقت آگیا ہے کہ عالم اسلام مغرب سے فیصلہ کن مکالمہ کا آغاز کرے اور کشمیر و فلسطین سمیت عالم اسلام کو درپیش چیلنجز سے نمٹے کا روڈ میپ دنیا کی عالمی طاقتوں کے سامنے پیش کرے۔گو یا با ت چیت کے لا روں لپو ں کا وقت گذ ر چکا ہے ، اور عملی کا رو ائی کا وقت آ ن پہنچا ہے۔


ای پیپر