خان صاحب جنگ کے علاوہ کوئی آپشن ہے تو بتائیں
29 ستمبر 2019 2019-09-29

فلسطین کا ایشو پوری دنیا جانتی ہے لیکن کچھ نہیں کرتی۔ اگر آپ دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ کشمیر میں بہت ظلم ہو رہا ہے تو میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ان ممالک کا میڈیا آپ سے پہلے وہاں پہنچتا ہے اور پوری دنیا کو بتاتا ہے کہ وہاں کتنا ظلم ہو رہا ہے ۔ جب آپ اسمبلی میں کشمیر کے نام پر سیاسی تقرریں کر رہے تھے اس وقت بی بی سی واحد نشریاتی ادارہ تھا جو پوری دنیا کو بتا رہا تھا کہ کشمیر میں کتنا ظلم ہو رہا ہے ۔لہذا آپ کو انھیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے ۔ یہاں تک کہ آپ کو بھی بی بی سی کی رپورٹوں سے معلوم ہوا کہ کشمیر میں کتنا ظلم ہو رہا ہے ۔ لہذا آپ دنیا کو بتانے کی زحمت مت کریں۔

خان صاحب آپ نے تقریباً تمام ممالک کے سربراہان سے کشمیر مدعے پر بات کی ہے ۔ ان میں سے کسی نے آپ سے یہ کہا کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے ۔آپ نے بتایا تو علم ہوا کہ کشمیر میں کتنا ظلم ہو رہا ہے ۔ پریس کانفرنس میں جب آپ دنیا کے میڈیا کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ کشمیر میں بہت ظلم ہو رہا ہے تو وہ حیران نہیں ہوتے کیونکہ وہ سب جانتے ہیں۔

جب بین الاقوامی میڈیاآپ سے سوال کرتا ہے کہ اگر ہندوستان بات چیت نہیں کرتا تو آپ کی کیا حکمت عملی ہو گی؟ آپ تھوڑا سا شرما کر اور زیر لب مسکرا کر جواب دیتے ہیں کہ ہم ہندوستان سے جنگ نہیں کریں گے لیکن جنگ کے علاوہ ہر وہ آپشن استعمال کریں گے جو ممکن ہے ۔ آپ کے اس جواب پر میڈیا ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگتا ہے کہ ہر ممکن آپشن کیا ہو سکتا ہے ؟ خان صاحب خدا کے لیے بتا دیں کہ جنگ کے علاوہ وہ ہر ایک آپشن جو آپ نے استعمال کرنا ہے وہ ہے کیا؟

کیا پاکستان ہندوستان کی معیشیت پر اثر انداز ہو سکتا ہے ؟ کیا پاکستان ہندوستان کا پانی بند کر سکتا ہے ؟ کیا پاکستان ہندوستان پر تجارتی پابندیاں لگا سکتا ہے ؟ کیا پاکستان پڑوسی ممالک کو ہندوستان پر دباو ڈالنے پر مجبور کر سکتا ہے ؟ کیا پاکستان ہندوستان کی برآمدات کو کم کر سکتا ہے ؟ کیا پاکستان ہندوستان کے خلائی پروگراموں کو ناکام کر سکتا ہے ؟ یقینا ان تمام سوالات کے جوبات ‘‘نہیں’’ میں ہوں گے۔ کیونکہ ہندوستان پر اثر انداز ہونے کے لیے پاکستان کے پاس جنگ کے علاوہ کوئی بھی آپشن نہیں ہے اور آپ تو ہر فورم پر اس آپشن کو استعمال کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔

آپ فی الوقت جو آپشن استعمال کر رہے ہیں وہ شور مچانے، پروپیگنڈا کرنے اور دنیا کو بتانے کا ہے کہ کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے ۔ اگر یہ آپشن اتنا ہی موثر ہوتا اور دنیا کو بتانے سے آپ کچھ کروا سکتے تو سب سے پہلے ڈنمارک کو مجبور کرتے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے پر بھارت پر تجارتی پابندیاں لگائے۔ کیونکہ ڈنمارک واحد ملک ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک پر تجارتی پابندیاں لگاتا ہے ۔ لیکن پابندیاں لگانا تو دور کی بات آپ تو ڈنمارک کو سلامتی کونسل میں کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر قرارداد لانے کے لیے بھی راضی نہیں کر سکے۔

آپ اپنے قریبی، دیرینہ دوست اور بقول محمد بن سلمان کے سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر شہزادہ محمد بن مسلمان کو ہندوستان کے ظلم کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد لانے پر راضی نہیں کر سکے۔

آپ دبئی کے شیخ کو مودی کو ایوارڈ دینے سے نہیں روک سکے۔ آپ ابوظہبی کے شیخ کو مودی کو گارڈ آف آنر دینے سے بھی نہیں روک سکے۔ آپ صدر ٹرمپ سے کشمیریوں کے حق میں ایک بھی لفظ نہیں کہلوا سکے۔ آپ ٹرمپ کو مودی کے جلسے میں جانے سے نہیں روک سکے۔ آپ ایتھوپیا، صومالیہ، سوڈان جیسے ممالک کو کشمیر کے مدعا پر اپنے ساتھ کھڑا نہیں کر سکے۔ خان صاحب آپ صرف یہ بتائیں کہ جنگ کے علاوہ وہ تمام ممکنہ آپشن کیا ہیں جو ابھی تک آپ نے استعمال نہیں کیے۔ جنگ کے علاوہ وہ کونسے جادوئی اقدامات ہیں جو آپ کے ذہن میں ہیں اور جھلی دنیا اس ذہانت و فطانت تک پہنچ نہیں پا رہی ہے ۔ اگر کوئی آپشن آپ کے پاس ہے تو اس کی لسٹ بنا کر میڈیا کو دے دیں تا کہ دنیا بھی آپ کی صلاحیتوں سے آگاہ ہو سکے۔


ای پیپر