کشمیر، عملی اقدامات کی ضرورت!
29 ستمبر 2019 2019-09-29

ارشادِباری تعالیٰ ہے ’’ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے‘‘ ملکوں کی سلامتی کا دارومدار

دفاعی اور معاشی مضبوطی پر ہوتا ہے ہم نے دفاعی طور پر تو اپنے آپ کو مضبوط کیا لیکن معاشی طور پر ہم کرپٹ حکمرانوں کے نرغے میں رہے جنھوں نہ صرف معاشی لحاظ سے پاکستان کو کمزور کیا بلکہ معا شرے میں کرپشن کی روایات کو جنم دیا اور یہی وجہ ہے کہ ہم معاشی طور پر کمزور ہوئے اور دنیا میں میں بھی سر اُٹھا کر چلنے کے قابل نہ رہے دوسری طرف ہمارے دشمن نہ صرف اقتصادی ترقی میں ہمیں پیچھے چھوڑ گے بلکہ اُنھوں نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے اچھے روابط بھی قا ئم کر لیے آج پا کستان جن مسائل کا شکار ہے اس کا خمیازہ قوم بھگت رہی ہے عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران جو گٹھ جوڑ انڈیا اور امریکہ کا دکھائی دے رہا ہے اُس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی امریکی صدر کا بار بار میڈیا کے سامنے آکر ثالثی کا راگ الاپنا ایک دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں امریکہ کبھی بھی مسئلہ کشمیر کی ثالثی میں کردار ادا نہیں کرے گا ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس ٹاک جو پرائم منسٹر عمران خان کے ساتھ تھی اُس میں امریکی صدر نے عمران خان کی تعریفوں کے پُل تو باندھے اور جس انداز سے ثالثی کروانے کا کہا کہ دوسرا فریق انڈیا اگر راضی ہوا تو میں ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہوں یہ پاکستان اور کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے اور کچھ بھی نہیں کیونکہ امریکہ انڈیا کوکشمیر کے معاملہ پر گو ہیڈ دے چکا ہے امریکی گورنمنٹ کسی صورت بھی کشمیر کے حق میں بیان دے کر انڈیا کو ناراض نہیں کرنا چاہتی حکومت کو ڈونلڈ ٹرمپ سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کرنے کی بجاے انڈیاکے خلاف سخت موقف اپنانا چاہیے امریکہ پاکستان کو صرف افغانستان سے نکلنے کے لیے ٹشوپیپر کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے ٹرمپ سے کچھ نہیں ملنا نہ وزیر اعظم کچھ بڑا کرسکیں گے

شائنگ انڈیا کا میک اپ کرکے مودی ٹرمپ کی محبوبہ بنا۔

پاکستان کیخلاف ایک نئی کولڈ وار ڈاکٹرین شروع ہو چکی آزاد کشمیر پر حملے کا بھی خطرہ اپنی جگہ موجودہے مودی کی باڈی لینگوئج کے پیچھے امریکی اور اسرائیلی طاقت ہے وہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے درپے ہیں۔امریکی ،اسرائیلی اور بھارتی پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کیخلاف سینہ سپر ہوچکے ہیں۔اس میں کوئی دوسری تیسری رائے نہیں ہے۔امریکی پینٹاگون اور سینٹکام کیا چاہتی ہے اسکا اندازہ ابھی تک نہیں ہوسکا،۔مودی شائننگ انڈیا اور سو ارب انسانوں کی منڈی، ابھرتی معیشت کا سہانا خواب دکھا کر سعودی عرب ، عرب امارات اور امریکیوں کی محبوبہ بنا ہوا ہے، ان کے ساتھ ہاتھ اس دن ہوگا جس دن مودی کے چہرے سے شائننگ انڈیا کا میک اپ اترے گا۔

یہ وقت ہے کہ خارجہ پالیسی کو بدلا جائے وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو اُجاگر تو کیا ًلیکن اس کے مراعات حاصل کرنا مشکل ہو گا کیونکہ انڈیا کا محور اسرئیلی اور امریکی تھینک ٹینک کے گرد گھومتا ہے کشمیری نوجوانوں کی لاشوں پر سیاست انڈین حکمران نریندرمودی کو مہنگی پڑے گی ہندوازم کی پروردہ حکومت نے پچاس ہزار آر ایس ایس کے دہشت گرد مقبوظہ وادی میں بھیج کر مظلوم کشمیریوں پر ظلم کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اسی لاکھ کشمیری مفلوج ہو چکے ہیں نو لاکھ انڈین فوجی اُن پر مسلط ہیں پاکستانی حکومت کو اب کوئی عملی اقدام اُٹھانے کی ضرورت ہے خارجہ محاذ پر ہم ہر دور میں پیچھے رہے ہیں کوئی ملک یہاں تک کہ او آئی سی بھی ہمارا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں دکھ تو اس بات کا ہے کہ دشمن تو تاک لگائے بیٹھا ہے لیکن ہم نے ملک و قوم کے لیے کچھ نہ کیا ذرا سوچیے ؟


ای پیپر