پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے ڈاکٹروں کا دورہ چکوٹھی
29 ستمبر 2019 2019-09-29

بھارت کے بانی وزیراعظم جواہرلال نہرو کا دعوی تھا کہ بھارت جمہوری روایات اور سیکولر اقدار کا حامل ملک ہے لیکن اس وقت بھارت میں جو کچھ ہورہا ہے اسے دیکھتے ہوئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ بھارت سیکولر ملک ہے اور نہ جمہوری ملک ہے بلکہ یہ نسلی تعصب ومذہبی عدم برداشت کا شکار اور جمہوری اقدار سے تہی ملک ہے۔یہاں مسلمانوں، کرسچین،دلت اور دیگر اقوام کو جینے کے حق سے محروم کردیا گیا اور ان کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔ اس وقت مقبوضہ جموں کشمیر کی صورت حال اسی تعصب ودشمنی کا تسلسل ہے۔یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بھارتی حکمران کشمیریوں کی نسل کشی کے فرعونی منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔وہ آبادیوں کو مسمار اور قبرستانوں کو آباد کرنا چاہتے ہیں ۔بھارتی حکمرانوں کی اہل کشمیر کے ساتھ حد سے بڑھی ہوئی دشمنی کا محرک۔۔۔ پاکستان ہے۔اس لئے کہ کشمیری مسلمان پاکستان سے محبت رکھتے ہیں،وہ پاکستان کے نام پر جیتے اور پاکستان کے نام پر مرتے ہیں۔وہ تمام ترنامساعدحالات کے باوجود پاکستان کے ساتھ محبت و الفت کا رشتہ نبھا رہے ہیں۔ یوں تو1947ء سے لے آج تک بھارت اہل کشمیرسے ایک ہی رشتہ نبھارہاہے اوروہ ہے دشمنی،عداوت اور خونریزی کا لیکن5اگست کے دن جب بھارت نے دفعہ 370 اور 35 اے کاخاتمہ کیااس کے بعدبھارت کی کشمیریوں کے ساتھ دشمنی حدووحساب سے باہرہوچکی ہے۔

وادی کشمیر میں ظلم حد سے بڑھ چکا ہے،ہر طرف آگ کے شعلے بڑھک رہے ، لاشے اٹھ رہے ،خواتین بیوہ اور بچے یتیم ہورہے ۔دوماہ سے مسلسل کرفیوجاری ہے، ادویات ناپید اورغذائی بحران پیدا ہوچکا ہے۔ ہسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں مگر بھارتی حکمرانوں کی بے حسی اور ڈھٹائی کی انتہا ہے کہ دانستہ ادویات و علاج معالجہ کی سہولتیں ناپید کر دی گئی ہیں۔ بھارتی فوجیوں کی سنگینی اورسفاکی اس حدتک بڑھ چکی ہے کہ زندوں کوگولیوں سے بھوناجارہااورزخمیوں کو موت کے گھاٹ اتاراجارہاہے۔

پروفیسرڈاکٹرجاویداکرم پاکستان کے معروف ماہر معالج ہیں۔وہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر اور خدمت انسانیت کے جذبے سے سرشار ہیں۔وہ’’ پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن ‘‘ کے پریذیڈنٹ بھی ہیں۔ ڈاکٹر جاوید اکرم اور’’ پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن ‘‘سے وابستہ دیگرڈاکٹرواپنی بے پناہ پیشہ وارانہ مصروفیات میں سے خدمت خلق کے لئے بھی وقت نکالتے رہتے ہیں۔جیسے ہی کشمیری مسلمانوں پرمصائب وآلام کے پہاڑٹوٹے توڈاکٹراکرم اپنی تمام مصروفیات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے ساتھیوں سمیت مقبوضہ جموں کشمیر جا کر اپنے بھائیوں کے علاج معالجہ کے لئے کمربستہ ہوگئے۔ اس پرخطرمگرمبارک کام میں ڈاکٹر جاوید اکرم کے شریک سفر ڈاکٹر ناصر ہمدانی، ڈاکٹر احمد انور، ڈاکٹر حفیظ الرحمن، ڈاکٹر رائے احمد، ڈاکٹر الیاس، ڈاکٹر عابد علی، ڈاکٹر ابو ذرسلیم، ڈاکٹر جاوید اقبال، ڈاکٹر رانا عارف، ڈاکٹر نعیم مغل، ڈاکٹر شکیل احمد، ڈاکٹر عمران افضل، ڈاکٹر حسن افتخار، ڈاکٹر ساجد مقبول، ڈاکٹر محمد ثاقب، ڈاکٹر ابرار خان، ڈاکٹر عبدالرحیم قریشی، ڈاکٹر عفان سلیم، ڈاکٹر عبداللہ خرم، ڈاکٹر طاہرہ حسن، مس سنیل شبیر، ڈاکٹر انعام الحق، ڈاکٹر انعام شکیل، ڈاکٹر اسوہ اکرم اور دیگر تھے۔

طے شدہ شیڈول کے مطابق ماہرڈاکٹروں اوردیگرسٹاف پرمشتمل یہ قافلہ سب سے پہلے اسلام آبادپہنچا۔یہاں قافلے کاایک نمائندہ وفدانڈین ایمبیسی گیااوران سے کہا’’ہم ڈاکٹرہیں،ہمارامقصدبلاتفریق نسل ومذہب دکھی انسانیت کی خدمت ہے۔ڈاکٹرہونے کے ہم آپ سے ملتمس ہیں کہ ہمیں ویزے دیے جائیں تاکہ ہم مقبوضہ جموں کشمیر جا کر زخمیوں کاعلاج کرسکیں۔‘‘ مگرانڈین ایمبیسی کے افسران نے روایتی خباثت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ویزے دینے سے انکار کر دیا اور کہا گیا کہ وہاں زخمیوں بیماروں کوعلاج معالجہ کی تمام سہولتیں میسرہیں۔ ڈاکٹرصاحبان نے جواباً انڈین ایمبیسی کے افسروں کوکہااگرایسی بات ہے تب بھی گزارش ہے کہ آپ ہمیں ویزے ضرور دیں ۔اس میں بھارتی حکومت کاہی فائدہ ہے۔ہم وہاں جائیں گے حالات کامشاہدہ کریں گے واپس آکرآپ کے حق میں پریس کانفرنس کریں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ بھارتی حکومت زخمیوں کاپوری طرح خیال رکھ رہی ہے۔بعدازاں 8 ستمبر کی صبح 90 ڈاکٹروں کایہ قافلہ سوات سے چلااورشام کے وقت مظفرآبادپہنچا۔ خدمت انسانیت کے جذبے سے سرشار عظیم ڈاکٹروں کا یہ قافلہ میڈیکل سپیشلسٹ ، آئی سپیشلسٹ، آرتھوپیڈک سپیشلسٹ اور پیرامیڈیکل سٹاف کے کم وبیش 90افراد پر مشتمل تھا۔ اگلے روز یہ قافلہ بہن،بھائیوں،بچوں اوربزرگوں کے علاج معالجہ کے لئے چکوٹھی کی طرف روانہ ہواتاہم چکوٹھی انتظامیہ نے قافلے کو راستے میں ہی روک لیااوربتایاگیاکہ حالات کشیدہ ہونے،نومحرم کے جلوسوں کی وجہ سے راستے بندہونے اوربھارتی فوج کی مسلسل فائرنگ کی وجہ سے آگے جاناممکن نہیں ہے۔ چنانچہ ڈاکٹرزصاحبان ادھرہی ادویات کے سٹالزلگادیے گیئے اور مقامی لوگوں کاعلاج کیاجانے لگاڈاکٹروں کااصرارتھاکہ ہم ہرصورت آگے جائیں گے۔انتظامیہ کو آخر چاروناچار قافلے کو اجازت دیناہی پڑی یہ قافلہ چکوٹھی بارڈرکے قریب ایک آرمی سینٹرپرپہنچاجہاں وطن کے سجیلے جوان اور پاک فوج کے بہادرسپوت بھارت کے مقابلے میں دفاع وطن کے لئے آہنی چٹان بن کرکھڑے ہیں۔

سالارقافلہ ڈاکٹرجاویداکرم کاکہناتھا کہ ہمارا بھارتی ایمبیسی سے رابطہ اورچکوٹھی کاوزٹ خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہے ۔ استعمار نے دنیا کے بہت سے خطوں کو میدانِ جنگ بنا کر رکھ دیا ہے تاہم ان تمام باتوں سے قطع نظر جنگ بھڑکانے والا جو بھی ہو ،مارنے والا کوئی بھی ہو اور جس کو مارا جا رہا ہو وہ بھلے بے گناہ ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ ڈاکٹر اور معالج کا کام علاج کرنا اور زندگی بچانا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں کہا جاتا ہے’’ڈاکٹر۔۔۔پہلے ڈاکٹر ہے بعد میں کچھ اور ہے‘‘۔ سو انسانیت کا تقاضا ہے کہ ایسے حالات میں جب وادی میںہزاروں لوگ زخموں سے لہو لہان ہیں۔بھارتی فوج کے اسلحہ سے نہ صرف لوگ زخمی ہوتے ہیں بلکہ جسموں میں زہر پھیل رہا ہے۔جس سے صورت حال از حد سنگین ہو چکی ہے۔ان حالات میں ضروری ہے کہ بھارتی حکومت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ڈاکٹروں کو زخمیوں کی مدد کرنے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی اجازت دے۔


ای پیپر