29 ستمبر 2019 2019-09-29

جنا ب عمران خان کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر میں یقینی طور پر مذہب، وطن اور سماج کے حوالے سے بہت سارے اچھے اور جذباتی نکات ہوں گے مگر میں بہت زیادہ برس پہلے میٹرک کر چکا لہٰذا اب میں تقریروں پر تالیاں نہیں بجاتا بلکہ اعمال، کردار اور نتائج دیکھتا ہوں۔ میٹرک سے پہلے سکول لیول پر ہونے والے تقریری مقابلوں میں وہی جیتتا تھا جس کے والد اسے زیادہ اچھی اور جذباتی تقریر لکھ کر دیتے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی سکھاتے تھے کہ فلاں موقعے پرفلاں آیت، فلاں شعر اور فلاں نعرہ لگاتے ہوئے کس طرح ہاتھ ہلانا ہے یعنی باڈی لینگوئج۔جو اچھی تقریر کرلیتا تھا وہ مقابلہ جیت جاتا تھا اورہمارا ہیرو بن جاتا تھا مگر میٹرک کے بعد علم ہوا کہ تقریر تو محض اظہار ہے جبکہ اعمال اور کردار ہی اصل ہیں۔ کشمیر پر عملی صورتحال یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کو اپنے آئین میں متنازع علاقہ ظاہر کرنے والی آئینی ترمیم ختم کرنے کے بعد اپنا اٹوٹ انگ بنا چکا، وہ ہندوستانی شہریوں کو کشمیر کی ریاست میں جائیدادیں خریدنے، کاروبار کرنے اور ملازمتیں اختیار کرنے کی اجازت دے چکا اور اس تاریخی بددیانتی کے بعد وہاں دو ماہ سے کرفیو نافذ ہے، کشمیریوں کے احتجاج سے بچنے کے لئے معاملات زندگی کو معطل رکھا جا رہا ہے۔ جناب عمران خان نے نریندر مودی سے کرفیو ختم کرنے کا درست مطالبہ کیا مگر وہ بھارتی آئین میں کی جانے والی ترامیم کے خلاف کیوں نہیں بولے، ان کے خاتمے کامطالبہ کیوں نہیں کیا، ہمارا مطالبہ صرف کرفیو کا خاتمہ کیوں رہا؟

ہمارے اند رایک طبقے نے تیزی سے اہمیت حاصل کی ہے۔یہ طبقہ فیس بک اور ٹوئیٹر کا طبقہ ہے جو ظاہر پر مرتا ہے۔ یہ ٹوئیٹس اور پوسٹس کے خوبصورت الفاظ سے بے حد متاثر ہوتا ہے۔ خوبصورت افیکٹس سے بنی ڈی پیز یعنی ڈسپلے پکچرز دیکھتا ہے تو محبت کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ انگریزی بولنا ہی اصل مقصد ،منزل اور کمال ہے جبکہ انگریزی تو محض موقف کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔بات جناب عمران خان کی امریکا میں کونسل آن فارن ریلیشنز کے پلیٹ فارم سے شروع ہوئی، جب عمران خان نے انگریزی میں بات کی تو بہت ساروں نے کہا کہ جتنی انگریزی عمران خان نے بولی ہے اتنی انگریزی کسی اور ( یعنی نواز شریف) کو بولنی پڑجاتی تو پرچیوں کے تین ٹرک بن جاتے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بات درست ہو کہ نواز شریف کروڑوں اردو میڈیم پاکستانیوں کی طرح بہت روانی سے انگریزی نہ بول سکتے ہوں لیکن اگر وہ ایک غیر ملکی پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر چاہے جتنی بھی رواں انگریزی میں یہ کہتے کہ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی نے القاعدہ کو افغانستان میں لڑنے کے لئے تربیت دی تو میں ان کی تمام تر انگریزی کے باوجود انہیں جاہل اور غدار قرار دیتا کیونکہ وہ طالبان اور القاعدہ کے درمیان فرق بارے نہیں جانتے، کیونکہ وہ اس بیان کے اثرات کی سنگینی سے واقف نہیں کہ اس وقت مشرق وسطیٰ اور سعودی عرب کے حالات سے جنم لینے والی القاعدہ مغرب کی دشمن نمبر ون ہے۔ میں سمجھتا کہ یہ پاکستان پر افغانستان کی طرح حملہ کروانے اور پاکستانی فوج کو نشانہ بنوانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے جو غداری سے بھی بڑھ کر ہے ۔مجھے اسی پلیٹ فارم پر پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا ردعمل یاد آ گیا جو اسی قسم کے ملتے جلتے سوال کا جواب تھا کہ مجاہدین ( یعنی طالبان) امریکا ہی کے پسندیدہ تھے جب وہ ان کے ذریعے سوویت یونین کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اور اب وہ برے بن گئے ہیں تواس میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں ہے، پالیسی خود امریکا نے بدلی ہے۔ نواز شریف اگر بہت اچھی انگریزی میں یہ کہتے کہ پاک فوج میں نچلے درجے کے افسران کو اسامہ بن لادن کے بارے میں علم تھا تو میں اسے انتہائی احمقانہ اور غیر ذمہ دارانہ بیان سمجھتا کہ اس کے ذریعے ہمارے دشمن کہتے کہ اگر نچلے درجے کے افسران اس حد تک جا سکتے ہیں تو پھر پاکستان میں فوج کا کوئی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم نہیں ہے اور اس غیر ذمے دار ملک کے ایٹمی اثاثے بھی محفوظ نہیں ہیں۔ میں عمران خان کی انگریزی پر تالیاں ضرور بجاتا مگر میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے میٹرک کے بعد تقریروں پر تالیاں بجانی بند کر دی ہیں، اب میں مو¿قف ، عمل اور کردار دیکھتا ہوں۔ عمران خان کی باتوں نے میرے ہاتھ پاﺅں ٹھنڈے کر دئیے ہیں، ماتھے پر پسینہ آ گیا ہے۔اگر میں اس احمقانہ خیال کا مالک ہوں کہ انگریزی ہی عقل ، سمجھ ، فراست اور ذہانت ہے تو پھر مجھے چاہئے کہ کسی انگریز کو اپنے ملک کا وائسرائے بنوانے کی مہم چلالوں۔

ہم صحافی لوگ اسے ’ کونٹینٹ‘ کہتے ہیں جس میں تقریر کا اظہاریہ بھی شامل ہوتا ہے مگر اس سے زیادہ الفاظ، معانی اور ان کے اثرات اہم ہوتے ہیں۔ عمران خان کی تقریر میں اچھی انگریزی کے باوجود تین نمایاںغلطیاں رہیں، یہ غلطیاں کسی بھی سفارتی تقریر کا حصہ نہیں ہونی چاہئیں، ہاں، کنٹینری تقریر کا جزو ہوسکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ انہوں نے ایک ہی فقرے میں تمام اسلامی ممالک کے سربراہان کو قصوروار ٹھہرا دیا، دوسری یہ کہ انہوں نے تمام امیر ممالک پر چوروں کو تحفظ دینے کا الزام عائد کر دیا اور تیسری غلطی یہ کہ انہوں نے بار بار اپنے مخالف مودی کا نام لیا، مجھے یوں لگ رہا تھا کہ وہ اپنا موقف سفارتی انداز میں پیش کرنے کے بجائے بھارتی وزیراعظم سے اپنا فون نہ اٹھانے کا بدلہ لے رہے ہوں ۔ پہلی اور دوسری غلطی تحریر کے بین السطور مطالب سے تعلق رکھتی ہے کہ جب آپ کسی سے مدد کے خواہاں ہوں تو آپ اسے طعنے نہیں دے سکتے۔ اقوام متحدہ دنیا کا سب سے بڑا سفارتی پلیٹ فارم ہے اور اسے سفارتی انداز میں ہی استعمال کرناچاہیے۔ سفارتکاری میں سب سے اہم امر تہذیب ہے۔ عمران خان کو مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کا ضرور حوالہ دینا چاہیے تھا مگر اسے دنیا کے اقتصادی مفادات اور بھارت کے سوا ارب سے زائد انسانوں کی مارکیٹ ہونے کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہئے تھا۔جوہری جنگ کی دھمکی بھی سوچ سمجھ کر دینی چاہئے کہ یہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لئے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

چلیں ! مان لیتے ہیں کہ آپ کا آئی کیو لیول سٹیٹس، ٹوئیٹ ، ڈسپلے پکچر اور تقریر سے ہی متاثر ہونے والا ہے،آپ کے ان کے پیچھے چھپے ہوئے چہروں اور حقائق تک پہنچنے کی اہلیت نہیں رکھتے مگر کیا آپ کی یادداشت بھی متاثر ہے کہ اچھی تقریر کرنے والے جناب عمران خان نے اپنی تقریروں کے ذریعے ہی کہا تھا کہ وہ کرپشن کا خاتمہ کریں گے مگر جب ان کی حکومت کا پہلا سال ختم ہوا ہے توان کی ماتحت وزارتوں اور محکموں میں ڈیڑھ سو ارب روپوں کی بے ضابطگیوں اور گھپلوں کو پکڑا گیا ہے۔ جناب عمران خان اور ان کے حواری کہتے تھے کہ وہ بجلی دو روپے یونٹ اورپٹرول چھیالیس روپے لٹر دیں گے اور کہا کرتے تھے کہ جب حکمران کرپٹ ہوں تو مہنگائی ہوتی ہے توکیا مہنگائی اس وقت پاکستان میں اپنے عروج پر نہیں ہے۔ہمیں یقینی طور پر اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقریر کے ساتھ پاکستان کے داخلی معاملات نہیں جوڑنے چاہئیں مگر اس میں مشترک جناب عمران خان کی ذات ہے لہٰذا یہ سوال بے جا اور غیر متعلقہ ہرگز نہیں ہے کہ جناب عمران خان نے گذشتہ آٹھ ، نو برسوں میں بالعموم اور وفاقی سطح پر ذمہ داریاں ملنے کے بعد باالخصوص اس ایک برس میں تقریروں کے سوا دوجا کیا ، کیا ہے۔ میں موصوف کی حکمرانی کے زمینی حقائق دہرا دیتا ہوں کہ پاکستان میں ہر شعبہ بحران اور تنزل کا شکار ہے جبکہ بھارت مقبوضہ کشمیرکو اپنا اٹوٹ انگ بنا چکا ہے مگر موصوف نے اپنی تقریر میں بھارتی آئین کی شق تین سو ستر کا ذکر تک نہیں کیاکہ یہی ایک عملی بات تھی، باقی سب اپنے سپورٹروں کو احمق بنانے کے لئے جذباتی لفاظی تھی، جی ہاں، عملی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے کہ میٹرک میں فیل ہونے والا تقریری مقابلہ جیت گیا ہے۔


ای پیپر