پنجاب پولیس کی لاہور پر یلغار
29 ستمبر 2018 2018-09-29

ہمارے ملک میں ٹیکس اور موت دونوں بر حق ہیں جن کی حقیقت سے انکار ناممکن ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کا موقف جب یہ اپوزیشن میں تھے تو یہ تھا کہ ان ڈائریکٹ ٹیکس جو کہ مجموعی ریونیو کا 80 فیصد ہیں یہ غلط ہیں کیونکہ ان کی زد میں غریب طبقہ پھنس جاتا ہے۔ Regressive Taxation ایک اصطلاح ہے جس کے مطابق ایک غریب آدمی امیر آدمی سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ ان ڈائریکٹ ٹیکس ٹیکس جمع کرنے کا غلط طریقہ ہے جس کا عوامی تاثر سٹریٹ کرائم سے مشابہت رکھتا ہے یعنی جب گلی کے تاریک موڑ پر ڈاکو آپ کو گن پوائنٹ پر روکتے ہیں تو صرف اتنا کہا جاتا ہے کہ تمہارے پاس جو کچھ ہے نکال دو۔ یہی کام جب حکومت کرتی ہے تو اسے ہم ان ڈائریکٹ ٹیکس کا نام دیتے ہیں ۔ عمران خان جب وزیر اعظم نہیں تھے تو انہوں نے کہا کہ اس وقت 4000 ارب روپیہ ٹیکسوں کی شکل میں موصول ہو رہا ہے ہم حکومت میں آ کر اس کو 8000 ارب روپے کریں گے ان سے پوچھا گیا کہ یہ کیسے ہو گا تو ان کا جواب تھا کہ میں آپ کو کر کے دکھاؤں گا۔ یہ جواب اس وقت تو ہماری سمجھ میں نہیں آیا لیکن اب آہستہ آہستہ جیسے جیسے برف پگھل رہی ہے منظر واضح ہوتے جا رہے ہیں۔

ایسے ہی بہت سے مناظر میں ایک منظر لاہور کا ہے جہاں پنجاب پولیس نے نئے ٹریفک جرمانوں کی شکل میں Tax at gun point کا ایسا بازار گرم کیا ہے کہ عوام بلبلا اٹھے ہیں۔ آئی جی پنجاب نے مراسلہ نمبر 503551-54isb مورخہ 22 ستمبر 2018 جاری فرمایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں اور 6000 وارڈن کے اس پر قابو نہ پانے کی بناء پر ٹریفک چالان پر جرمانے کی رقم موٹر سائیکل کے لیے 200 سے بڑھا کر 2000 اور گاڑی کے لیے 500 سے بڑھا کر 10000 کر دی گئی ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہر میں کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے جس میں روزانہ 5000 سے زیادہ خلاف ورزیوں پر چالان کیے جا رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق لاہور پولیس روزانہ کم از کم ایک کروڑ روپے کے جرمانے کر کے حکومت کے لیے کمائی کا ذریعہ بن رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بجلی کے بل یا پٹرول کی قیمت میں مبلغ 2 روپے اضافہ کے لیے تو وزیر اعظم تک سے منظوری لی جاتی ہے لیکن آپ 200 سے 2000 روپے تک جرمانہ بڑھانے کے لیے یعنی دس گناہ اضافہ کے لیے آئی جی پولیس کسی کو جواب دہ نہیں ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سکھا شاہی پر حکومت کی طرف سے مکمل خاموشی ہے ٹیکس اور جرمانوں کے معاملات اب چونکہ صوبائی حکومت کے دائرہ کار میں ہیں 

لہٰذا یہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ناک کے نیچے اتنا بڑا قانون بن گیا مگر انہیں کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ پولیس نے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا مزید اہتمام یہ کیا ہے کہ اگر 15 دن کے اندر پیسے جمع نہ کرائے گئے تو جرمانہ کی رقم دوگنی ہو جائے گی یہ وہی سلوک ہے جو ڈاکو اس شخص کے ساتھ کرتے ہیں جسے لوٹنے کے لیے روکا جائے مگر اس کے پاس کچھ نہ ہو۔

لاہور میں کچھ عرصہ پہلے ایک بہت بڑا سکینڈل سامنے آیا تھا کہ ٹریفک وارڈن جعلی چالان بک استعمال کرکے بنک والوں کی ملی بھگت سے چالان کی رقم اپنی جیبوں میں ڈال رہے تھے یہ کروڑوں روپے کا کیس تھا جس میں کچھ لوگ پکڑے گئے۔ اس منظر میں پہلی بات تو یہ ہے کہ جرمانے کی رقم میں 10 گنا اضافہ وزارت خزانہ کی مداخلت کے بغیر قطعی غیر قانونی ہے پھر متعلقہ فنانس ڈیپارٹمنٹ سے اس کا گزٹ نوٹیفکیشن ہونا چاہیے تھا اس پر ایک عوامی رابطہ مہم شروع ہوئی چاہیے تھی تاکہ عوام کو آگاہی دی جائے مگر آئی جی صاحب نے بیک جنبش قلم اس غیر آئینی اور ظالمانہ قانون کو پاس کر کے نافذ بھی کر دیا ہے کیونکہ آئی جی صاحب کو پتہ ہے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ہیں لہٰذا خیر ہے فکر کی کوئی بات نہیں۔

علاوہ ازیں عوام کو بتائے بغیر لاہور میں ای چالان سسٹم متعارف ہو چکا ہے جس کا عوام کو اس وقت پتہ چلا جب چالان ان کے گھر کے پتوں پر موصول ہونا شروع ہوئے اس میں اشارہ توڑنے پر کمپیوٹرائزڈ چالان ہوتا ہے جو گاڑی کے کاغذات میں درج پتے پر بھیج دیا جاتا ہے۔

اگر پنجاب پولیس واقعی عوام سے ہیلمٹ کی پابندی کروانا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ یہ تھا کہ پولیس جب کسی کو روکے تو اسے کہا جائے کہ وہ ہیلمٹ خرید کر لائے اور اپنی موٹر سائیکل لے جائے۔ اس سلسلے میں پولیس اپنے پاس سے بھی قیمتاً ہیلمٹ مہیہ کر سکتی ہے صرف کمپنی کے ساتھ کو آرڈینیشن چاہیے۔ ٹریفک خلاف ورزیاں روکنے کا ایک اور طریقہ یہ بھی ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے کو روکا جائے اور شہر کے مختلف مقامات پر ٹریفک پولیس کی طرف سے لیکچرز کا اہتمام کیا جائے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے یہ لیکچر اٹینڈ کرنا ضروری قرار دیا جائے اس کے لیے حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد آخری اور موثر طریقہ خصوصاً ریڈ سگنل کراس کرنے والوں کے لیے یہ ہے کہ انہیں حراستی مراکز میں رکھا جائے ، جس کی مدت ایک سے سات دن تک ہونی چاہیے۔ جتنی ریڈ سگنل خلاف ورزی ہو رہی ہے اس کے پیش نظر شہر کے اہم چوراہوں پر ای بینرز نصب کیے جائیں جو کہ موٹر وے پر لگے بینرز کی طرح خود کار نظام کے تحت ہوں جیسے ہی اشارہ سرخ ہو بیئرر ڈاؤن ہو جائے اس پر پہلے Awareness دی جائے یہ ریڈ سگنل جمپ کرنے والوں کو روکنے کا زبردستی طریقہ ہے اس پر شروع میں معمولی حادثات ہوں گے مگر اس کو رائج کرنے سے شہر میں پولیس وارڈن کی ضرورت کم ہو جائے گی۔ یہ سارے اقدامات جرمانوں کا متبادل ہیں۔ اشارہ کی خلاف ورزی پر پکڑے جانے والوں کو چوائس دیں کہ وہ 3 دن کے لیے جیل جانا پسند کریں گے یا بھاری جرمانہ ادا کریں گے اس کا مقصد یہ ہے کہ نان افورڈنگ شہریوں کو مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔ جرمانے کی اتنی بڑی رقم جہاں ایک طرف شریوں کی سماجی زندگی کے لیے وہاں جان ہے دوسری طرف یہ اربوں روپیہ خورد برد ہونے کے بے پناہ امکان ہیں اس قانون سے ٹریفک وارڈن کے اندر رشوت لے کر چھوڑنے کے رجحانات میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ جب گاڑی والے کو 10 ہزار جرمانہ کیا جا رہا ہے تو وہ ایک ہزار کا نوٹ وارڈن کو تھما کر بچ جائے گا انہی خرابیوں کی وجہ سے تو ہمارا ٹیکس نظام خراب ہوا ہے کہ بھاری ٹیکسوں کی بجائے شہری ٹیکس اہل کاروں سے ڈیل کر لیتے ہیں۔

آئی جی صاحب کے جس مراسلے کا ذکر شروع میں کیا گیا ہے اس میں انہوں نے پولیس کی نفری میں کمی کو جرمانے میں 10 گنا اضافے کا جواز بنایا ہے۔ عذر گناہ بد تر از گناہ۔ کسی بھی مسئلے کو معاشرتی رجحانات سے الگ تھلگ کر کے حل نہیں کیا جا سکتا۔ آئی جی صاحب صرف ٹریفک کو دیکھتے ہیں انہیں یہ نہیں پتہ کے گزشتہ 2 دہائیوں سے لاہور میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بجلی کی رفتار سے کالونیاں بنائی جا رہی ہیں اگر واہگہ بارڈر آڑے نہ آتا تو لاہور اب تک امرتسر کے ساتھ مل چکا ہوتا۔ لاہور کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے پیچھے سیاسی قوتیں تھیں جنہوں نے کھربوں روپے کما کر لاہور کی آبادی کو اس لیول پر پہنچا دیا ہے کہ جہاں ٹریفک کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے یہ لاہور اور اہل لاہور کے خلاف ایک سازش تھی دور دراز زمینیں کو ڑیوں کے بھاؤ خرید کر وہاں سرکاری پیسے سے ہائی ویز اس طرح سے گزاری گئیں کہ قیمتوں میں راتوں رات دس دس گنا اضافہ کر دیا گیا آج ہم اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ لاہور کے شہری مسائل کی روک تھام کے لیے لاہور کی جانب نقل مکانی کا طوفان کم کرنا ہو گا تاکہ زرعی زمینوں کو رہائشی کالونیوں سے بچایا جا سکے۔ مگر فی الوقت ہمارا موضوع ٹریفک جرمانوں میں بے تحاشا اضافہ ہے اس طرح کے اقدامات پنجاب میں رنجیت سنگھ کی حکومت کے کازوال کا باعث بنے تھے۔ بنیادی حقائق وقت اور عمل واقعے کے ساتھ تبدیل نہیں ہو جاتے ٹیکسوں کا بوجھ پہلے ہی بہت زیادہ ہے اوپر سے 10 گناہ جرمانوں کی بھر مار گویا غریب عوام کو کندچہری سے ذبح کرنے کے مترادف ہے جبکہ اس کا متبادل حل موجود ہے۔


ای پیپر