تبدیلی اور افسران کی تبدیلی!
29 ستمبر 2018 2018-09-29

حال ہی میں کچھ انتہائی اچھے افسروں کو چن چن کر تبدیل کیا جا رہا ہے ان افسروں میں زیادہ تر نگران حکومت میں تعینات ہوئے تھے، ممکن ہے نگران حکومت میں تعینات ہونے والے اچھے افسروں کو چن چن کر اس لئے ہٹایا جا رہا ہو کہ وہ موجودہ حکومت کو اس کی مرضی یا خواہش کے مطابق ”بھاری مینڈیٹ“ دلوانے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکے، حالانکہ یہ کام فوجی افسران کے کرنے والا ہوتا ہے جس میں کچھ عدالتی افسران بھی ان کے مددگار ہوتے ہیں، بے چارے سول افسران ایک حد تک ہی کردار ادا کر سکتے ہیں مگر الیکشن سے پہلے اور بعد میں اندھا دھند تبادلوں کی صورت میں سب سے زیادہ اذیت کا سامنا انہیں ہی کرنا پڑتا ہے۔ بدنام ہونے کے لئے اس ملک میں صرف ”سول بیورو کریسی“ ہی رہ گئی ہے فوجی اور عدالتی افسروں نے بھی کم لوٹ مار نہیں کی۔ مگر نظام نے چونکہ ہمیشہ کمزور کو اپنی گرفت میں لیا ہے لہٰذا صرف احد چیمہ اور فواد حسن فواد ہی گرفتار ہوں گے انہوں نے یقیناً کرپشن کی ہو گی مگر ان کا اصل قصور یہ ہے کہ ان کے نام کے ساتھ کوئی جنرل وغیرہ یا جسٹس وغیرہ نہیں لگا ہوا۔ اب وہ یقیناً سوچتے ہوں گے کاش سول سروس جائن کرنے کے بجائے کوئی اور سروس جائن کر لیتے۔ جس میں جتنی مرضی لوٹ مار کر لیتے کوئی پوچھنے والا نہ ہوتا، ابھی پچھلے دنوں لاہور نیوز میں برادرم حسن رضا اور سید عثمان نے ایک ”تماشا“ لگایا جس میں سول افسروں کے بڑے بڑے بنگلے زیربحث آئے، اور مختلف اداروں میں سیاسی مداخلت کا بھی تذکرہ ہوا، میں نے عرض کیا ”ہمارے حکمرانوں کو صرف سول افسروں کے بنگلے اور کرپشن ہی کیوں دکھائی دیتی ہے؟ فوجی اور عدالتی افسروں کے بھی بڑے بڑے بنگلے ہیں ان میں بھی بے شمار ایسے ہیں جن کی لوٹ مار سول افسران سے شاید زیادہ ہو، وزیراعظم عمران خان ان کی بات کیوں نہیں کرتے؟ کوئی پالیسی ان کے لئے بھی بننی چاہیئے.... ایسا نہ ہوا تو سول سروس کا سارا ”چارم“ ہی ختم ہو جائے گا، پھر کوئی افسر نہیں بننا چاہے گا، پھر سارے جج بننا چاہیں گے یا جرنیل بننا چاہیں گے کیونکہ انہیں پتہ ہو گا یہاں وہ جو مرضی کریں ہر طرح کا تحفظ انہیں حاصل ہو گا۔ پچھلے دنوں مجھے ایک سیشن ہاﺅس میں جانے کا اتفاق ہوا وہ تقریباً دو ایکڑ پر محیط تھا۔ ہمارے حکمران یہ جرا¿ت کر سکتے ہیں کوئی پالیسی ان بنگلوں کے حوالے سے بھی بنائیں؟ ”تبدیلی“ لانی ہے تو پوری لائیں، ادھوری تبدیلی نظام کو پہلے سے زیادہ برباد کر کے رکھ دے گی، یہ اچھی بات ہے آپ نے سول افسروں کو اور صرف سول افسروں کو کرپشن بھی نہیں کرنے دینی، انہیں بڑے بنگلوں میں بھی نہیں رہنے دینا، ان سے بڑی گاڑیاں چھین کر چھوٹی گاڑیاں دینی ہیں، ان کے گھر پر ملازم بھی نہیں ہوں گے، پھر ان کے پاس پیچھے ایک ”چھنکنا“ ہی رہ جائے گا جسے بجا بجا کر وہ موجودہ حکمرانوں کو ناکام بنانے کا ہر حربہ آزمائیں گے، اور اس میں کامیاب بھی ہو جائیں گے، ہم تو سمجھا سمجھا کر تھک گئے ہیں افسروں کے بنگلے مت دیکھیں، یہ بنگلے کون سے انہوں نے خود اپنے لئے تعمیر کئے ہیں یا یہ بنگلے کون سے ریٹائرمنٹ اور تبادلے کے بعد وہ سر پر اٹھا کر ساتھ لے جائیں گے، دیکھنے والی چیز ان کی کارکردگی ہے جسے پہلے کوئی حکمران پیش نظر رکھتا تھا نہ اب رکھا جا رہا ہے، ”کارکردگی“ کا دوسرا نام ”سفارش“ ہے جس کی سفارش اچھی ہے اس کی کارکردگی خودبخود اچھی ہو جائے گی جس کی سفارش اچھی نہیں اس کی کارکردگی بھی اس کی سفارش کے عین مطابق ہی ہوتی ہے، میرے ایک جاننے والے افسر نے اپنی ایک اچھی پوسٹنگ کے لئے ایک ”سیاسی سفارش“ کروائی، سفارش کرنے والے کو بتایا گیا اس افسر کی کارکردگی اچھی نہیں اور مالی لحاظ سے اس کی شہرت بھی اچھی نہیں، لہٰذا اسے تعینات نہیں کیا جاسکتا.... پھر اس افسر نے ایک تگڑی ”فوجی سفارش“ ڈھونڈی، جس کے فوراً بعد اس کی ”کارکردگی“ بھی اچھی ہو گئی، وہ ”دیانتدار“ بھی ہو گیا اور اپنے من پسند عہدے پر تعینات بھی ہو گیا، پس ثابت ہوا اگر کسی نے من پسند عہدہ حاصل کرنا ہو، اور خود کو دیانتدار اور اہل بھی ثابت کرنا ہو تو پھر وہ سیاسی سفارش ڈھونڈنے کے بجائے کوئی ”تگڑی سفارش“ ڈھونڈے جس کے آگے ہمارے تبدیلی والے وزیراعظم بھی خود کو بے بس محسوس کریں، سیاسی معاملات میں عثمان بزدار جیسوں کا انتخاب کر کے یہ حکومت کس حد تک کامیاب ہوتی ہے؟ اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا، ہم مروت اور لحاظ کے مارے ہوئے لوگ ابھی تک اپنے غصے اور جذبات کو قابو میں رکھے ہوئے ہیں، مگر انتظامی معاملات میں یہ حکمران جس جس قسم کے بدترین افسروں کا صرف اور صرف ”تگڑی سفارشوں“ پر انتخاب کرتے چلے جا رہے ہیں، انہیں اعلیٰ عہدوں سے نوازتے چلے جا رہے ہیں اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں مستقبل میں موجودہ حکمرانوں کو بدترین مسائل اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا ذمہ دار وہ میڈیا یا کسی اور کو نہیں ٹھہرا سکیں گے.... ابھی پچھلے دنوں پی ٹی آئی کی حکومت کے قیام کو ابھی چند ہی روز گزرے تھے ہمارے سول افسران نے تبادلوں کے معاملے میں ارکان اسمبلی کی مداخلت پر اپنے اعلیٰ افسروں کو خط لکھے جن کا میڈیا میں بہت چرچا ہوا وزیراعظم عمران خان اور چیف سیکرٹری پنجاب نے بھی اس کا نوٹس لیا کہ سول افسران کے اس عمل سے حکمرانوں کی بڑی بدنامی ہوئی۔ اس پر دونوں افسران کو شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا گیا وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں سرکاری افسران سے اپنے خطاب میں بھی سول افسران کے اس عمل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا، بلکہ میں تو سمجھتا ہوں اس موقع پر جس انداز میں وہ گفتگو فرما رہے تھے وہ ہر گز ان کے منصب کے شایان شان نہیں تھی، یوں محسوس ہو رہا تھا وہ ابھی تک کنٹینر پر ہی چڑھے ہوئے ہیں، اس سارے عمل کے بعد مجھے یقین ہے کہ ہمارے سرکاری افسران وزیراعظم کی اداروں میں سیاسی مداخلت کو ختم کرنے کی پالیسی کو آئندہ محض ان کے قول و فعل کا تضاد سمجھ کر نظرانداز کر دیا کریں گے اور تبادلوں و دیگر معاملات کے ضمن میں ارکان اسمبلی کی مداخلت کو ہی اہمیت دیں گے، جیسے نام نہاد تبدیلی سے پہلے دیتے تھے.... ویسے ان دونوں افسران نے بھی بڑی زیادتی کی، ارکان اسمبلی کے بجائے کوئی فوجی یا عدالتی شخصیت کسی تبادلے کے لئے ان سے کوئی سفارش کرتی، یا خود ان کے اپنے باسز یعنی چیف سیکرٹری یا ایڈیشنل چیف سیکرٹری وغیرہ یا ان کا کوئی ”بیج میٹ“ وغیرہ ان سے سفارش

کرتا ایسی صورت میں وہ ان کے خلاف کسی شخصیت کو خط لکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے، ابھی حال ہی میں سندھ پولیس میں اعلیٰ درجے پر انتہائی گھٹیا درجے کے ایک پولیس افسر کو تعینات کیا گیا، گریڈ 22 کے ایک نفیس پولیس افسر کو ہٹا کر گریڈ اکیس کے ایک گھٹیا پولیس افسر کی تعیناتی کے پیچھے پوری ایک داستان ہے جو کسی روز عرض کروں گا.... اس طرح ایف آئی اے میں اعلیٰ سطح پر ایک تقرری ایک اہم ”عدالتی شخصیت“ کی سفارش پر ہوئی.... ان حالات میں آج کل ہم مسلسل سفر میں ہیں، ہم اصل میں اس تبدیلی کو ڈھونڈنے نکل پڑے ہیں جس کے ”سنہرے خواب“ ہمیں دکھائے گئے تھے۔ یہ شاید کبھی نہ ختم ہونے والا سفر ہے ”ابھی ”عشق“ کے ا متحان اور بھی ہیں“۔

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا


ای پیپر