Pandemic, cases, ratio, Pakistan, Asad Umar
کیپشن:   فائل فوٹو
29 اکتوبر 2020 (11:31) 2020-10-29

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ 70 روز بعد پاکستان میں وبا کے مثبت کیسز کا تناسب 3 فیصد سے زیادہ ہو گیا۔

اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ این سی او سی نے چند عوامی سرگرمیوں پر پابندیاں سخت کر دی ہیں۔ تاہم ، بیماری کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو صرف اسی صورت میں قابو کیا جاسکتا ہے جب لوگ احتیاطی تدابیر پر خود عملدرآمد کریں۔

واضح رہے کہ محکمہ صحت پنجاب نے عالمی وبا کے کیسز میں اضافے کے بعد ملک میں جزوی پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری صحت محمد عثمان نے کہا کہ عالمی وبا کے مریضوں کی تعداد 3 فیصد ہونے پر جزوی پابندیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 30 اکتوبر سے صوبہ پنجاب کے دارلحکومت لاہور کے شاپنگ مال، دکانیں اور ریسٹورنٹس رات 10 بجے بند ہوا کریں گے، تفریحی پارک شام 6 بجے بند ہوں گے جب کہ شادی ہالز کا وقت پہلے ہی رات 10 بجے تک ہے۔

خیال رہے کہ پابندیوں کا یہ اطلاق ادویات کی دکانوں، بیکریوں اور دودھ دہی کی دکانوں پر نہیں ہو گا۔

اس سے قبل پوری دنیا میں عالمی وبا کی دوسری لہر کے پیش نظر حکومت پاکستان نے نیا حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق گھروں سے باہر نکلنے پر عوام کو ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے گھروں سے باہر نکلنے پر ماسک کا استعمال لازمی قرار دیدیا ہے۔ اب بازاروں اور شاپنگ مال وغیرہ میں بھی ماسک کا استعمال لازم ہو گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں اس وقت عالمی وبا کی دوسری لہر شروع ہو چکی ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے ایس او پیز پر عملدرآمد ضروری ہے اور یومیہ تعداد 400 سے بڑھ کر 700 ہو چکی ہے۔


ای پیپر