Pakistan Army chief,Qamar Javed Bajwa,Musharaf,Rahil Sharif,
29 اکتوبر 2020 (15:27) 2020-10-29

اسد شہزاد

اس میں کسی قسم کے شک وشبہ والی کوئی بات نہیں کہ پاک فوج کا شمار اس وقت دُنیا کی بہترین افواج میں کیا جاتا ہے۔ نامساعد حالات اور وسائل کی کمی کے باوجود پاک افواج دُنیا کی مضبوط ترین قوت مانی جاتی ہیں۔ ہمارے لیے یہ بات نہایت قابلِ فخر ہے کہ ہمیں جنرل ایوب خان، جنرل محمد موسیٰ خان، جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ جیسے بہترین سپہ سالار میسر آئے۔ انٹرنیشنل میڈیا ’’The Mesh News‘‘ کے مطابق 2016ء میں دُنیا کے ٹاپ 10 جرنیلوں میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سرفہرست رہے۔ برطانیہ میں ہونے والے مقابلے Exercise Cambrian Patrol میں پاک آرمی نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اسی طرح بیجنگ چین میں ہونے والے Sniping Competition میں پاک فوج نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ پاکستان کی گوریلا فوج ایس ایس جی  (سپیشل سروسز گروپ) دُنیا اور بالخصوص دُشمن ملک بھارت کیلئے ایک خوف کی علامت ہے۔ ان تمام معاملات میں فوج کے سربراہ یعنی آرمی چیف کا نہایت اہم کردار ہوتا ہے کہ وہ اپنی عسکری قوت کو کس حد تک اور کہاں تک لے جانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ یہاں پر ہم پاکستان کے ان تمام چیف آف آرمی سٹاف کا مختصر تذکرہ کرتے ہیں جنہوں نے کسی نہ کسی حوالے سے پاکستان کی تاریخ پر اپنے ان منٹ نقوش چھوڑے۔

-1 کمانڈر انچیف جنرل سر فرینک والٹر میسروی:

پاکستان کے پہلے آرمی چیف جنرل سرفرینک والٹر میسروی تھے۔ اس وقت آرمی چیف کے عہدے کو کمانڈرانچیف کا نام دیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی فوجی خدمات کا آغاز 1913ء میں کیا۔ مختلف عہدوں سے ہوتے ہوئے 15اگست 1947ء میں پاک فوج کے کمانڈر انچیف مقرر ہوئے۔ گورنر جنرل پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے حکم کو نظرانداز کرنے پر قائداعظمؒ کے ساتھ اختلاف پیدا ہو گئے اور اپنی مدت ملازمت پوری نہ کرسکے لہٰذا 11فروری 1948ء کو انہیں عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔ جنرل فرینک 1893ء میں پیدا ہوئے اور 1974ء میں وفات پائی۔

-2 کمانڈرانچیف جنرل ڈگلس گریسی:

پاک آرمی کے دوسرے اور آخری انگریز سپہ سالار، 1894ء میں انگلستان میں پیدا ہوئے۔ فوجی زندگی کا آغاز 1915ء میں کیا، لاتعداد خدمات انجام دیں۔ 11فروری 1948ء میں جنرل فرینک کے استعفے کے بعد پاک آرمی کے کمانڈرانچیف بنے۔ پاکستان کے پہلے ڈپٹی کمانڈرانچیف بھی رہے۔ 27اکتوبر 1947ء کو جب وہ ڈپٹی کمانڈر انچیف تھے، اندرون خانہ بھارت کی حمایت کی اور قائداعظمؒ کے حکم کو نظرانداز کرتے ہوئے کشمیر میں بھارتی فوج کی مداخلت پر پاک فوج کو کارروائی کرنے کا حکم نہ دیا بلکہ پاک بھارت افواج کے سپریم کمانڈر فیلڈمارشل جنرل کلائوڈ آوکن لیک (Claude Auchinlec) کو شکایت کردی کہ محمد علی جناحؒ بھارت کے خلاف فوجی کارروائی چاہتے ہیں جس پر جنرل کلائوڈ کو دہلی سے کراچی آنا پڑا تاکہ وہ قائداعظمؒ کو قائل کرسکیں کہ ان حالات میں فوجی کارروائی مناسب نہیں، جس میں وہ کامیاب رہے۔ 

-3 کمانڈر انچیف اور فیلڈمارشل جنرل ایوب خان:

پاکستان کے پہلے مسلمان فوجی سپہ سالار، 14مئی 1907ء میں پیدا ہوئے۔ اپنی فوجی سروس کا آغاز 1928ء میں کیا، دوسری جنگ عظیم میں برما کے محاذ پر نمایاں کارنامے سرانجام دیئے۔ جنوری 1951ء میں پاک آرمی کے پہلے مسلمان کمانڈر انچیف بنا دیئے گئے۔ 1954ء تا 1956ء مرکزی وزیردفاع اور اکتوبر 1958ء تا مارچ 1959ء تک صدر پاکستان کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہیں مرکزی کابینہ نے اتفاق رائے سے فیلڈمارشل کا اعزاز دیا۔ 1962ء میں انہوں نے قوم کو صدارتی آئین دیا۔ 1965ء کی جنگ کامیابی سے جیتی۔25مارچ 1969ء میں انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور پھر وفات 20اپریل 1974ء تک خاموش زندگی گزار دی۔ ان کا دور پاکستان کی تاریخ کا سنہرا دور کہا گیا۔

-4 کمانڈر انچیف جنرل محمد موسیٰ خان:

افغانستان کے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے جنرل موسیٰ 20اکتوبر 1908ء میں پیدا ہوئے۔ بعدازاں بلوچستان میں آکر آباد ہو گئے۔ 20نومبر 1926ء کو ہزارہ پانیئر میں بطورِ سپاہی بھرتی ہوئے۔ 1935ء میں کمیشن حاصل کیا اور فرنٹیئر فورس بٹالین میں بھیج دیئے گئے۔ 1947ء میں بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی پائی۔ 1952ء میں ترقی دے کر انہیں مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ 1955ء میں سٹاف آفیسر بنا کر کراچی اور 1957ء میں لیفٹیننٹ جنرل بنا کر فوج کا چیف آف سٹاف مقرر کیا گیا۔ 1958ء میں مارشل لاء لگنے پر انہیں ترقی دے کر فوج کا کمانڈر انچیف بنا دیا گیا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں کارہائے نمایاں انجام دیئے اور پاک افواج کو فتح سے ہمکنار کیا۔ آٹھ سال تک فوج کے سپہ سالار رہے۔ ستمبر 1966ء میں عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد ستمبر 1966ء سے مارچ 1969ء تک مغربی پاکستان کے گورنر بھی رہے۔

-5 کمانڈر انچیف جنرل آغا محمد یحییٰ خان:

پاکستان کے پانچویں آرمی چیف، 1917ء میں پیدا ہوئے۔ 1938ء میں فوج میں کمیشن حاصل کیا، 34برس میں میجر جنرل اور 49سال کی عمر میں لیفٹیننٹ جنرل بنا دیئے گئے۔ انڈین ملٹری اکیڈمی میں شمولیت پر انہیں کنگر کیڈٹ کے طور پر منتخب کرلیا گیا۔ کمیشن ملنے پر ’’وار سسٹر رجمنٹ‘‘ کی سیکنڈ بٹالین سے منسلک ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم میں مصر، سوڈان، لیبیا، قبرص، عراق اور اٹلی میں خدمات انجام دیں۔ مارچ 1966ء میں لیفٹیننٹ جنرل اور ستمبر 1966ء میں جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی اور پھر اس کے ساتھ ہی انہیں بری فوج کا کمانڈر انچیف بنا دیا گیا۔ ان کا عہد سقوط ڈھاکہ کے المیہ پر اختتام پذیر ہوا۔ 20دسمبر 1971ء کو مستعفی ہوئے اور 9اگست 1980ء میں وفات پا گئے۔

-6 کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل گل حسن خان:

پاک آرمی کے چھٹے کمانڈر انچیف، واحد جنرل جو فورسٹار نہیں تھے۔ فوجی زندگی کا آغاز 1933ء میں کیا، فروری 1922ء میں پولیس ہڑتال کو ناکام بنانے کے لیے ان سے فوج کی مدد مانگی گئی جس پر انہوں نے انکار کردیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سول چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں 3مارچ 1972ء میں آرمی چیف کے عہدے سے ہٹا دیا اور آسٹریا کا سفر بنا کر روانہ کردیا۔ پاکستان کی تاریخ کے سب سے کم مدت کے آرمی چیف جو صرف تین ماہ کمانڈر انچیف رہے۔ ملازمت مدت 20دسمبر 1971ء تا 3مارچ 1972ء، 1929ء میں پیدا ہوئے اور 1999ء میں وفات پائی۔

-7 چیف آف آرمی سٹاف جنرل ٹکا خان:

پاکستان آرمی کے ساتویں آرمی چیف، 1915ء میں پیدا ہوئے۔ فوجی زندگی کا آغاز 1940ء میں انڈین آرمی سے کیا۔ جنگ عظیم دوئم میں صحرائے اعظم اور برما کے محاذوں پر فوجوں کی کمان کی۔ جنگ کے خاتمہ کے بعد ڈیرہ دون اکیڈمی میں بحیثیت انسٹرکٹر خدمات انجام دیں۔ 1949ء میں کمانڈر اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ سے گریجویشن مکمل کی۔ 1955ء میں بریگیڈیئر کے عہدہ پر ترقی پائی۔ اپریل 1965ء میں ’’رن کچھ‘‘ کے محاذ پر دُشمن کو ناکوں چنے چبوائے۔ اسی سال انہیں ستارہ پاکستان کے اعزاز سے نوازا گیا۔ 1969ء میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پائی۔ مارچ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیے گئے۔ 8اپریل 1971ء تا 2ستمبر 1971ء تک مشرقی پاکستان کے گورنر رہے۔ 14اگست 1971ء کو انہیں ہلال قائداعظمؒ اور 8دسمبر کو ہلال جرأت کا اعزاز ملا۔ مارچ 1972ء تا 28فروری 1976ء تک پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت میں مشیر دفاع اور پھر وزیر دفاع کی حیثیت سے 4جولائی 1977ء تک کام کیا، 2002ء میں وفات پائی۔

-8 چیف آف آرمی سٹاف جنرل محمد ضیاء الحق:

پاکستان کے آٹھویں آرمی چیف، 1924ء میں جالندھر میں پیدا ہوئے۔ مئی 1935ء میں کمیشن حاصل کیا، 19برس تک مختلف انسٹرکشن سٹاف اور کمان کی آسامیوں پر تعینات رہے۔ 1964ء میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پائی اور کوئٹہ کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کے انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔ 1960ء سے 1968ء تک کے درمیانی عرصہ میں ایک کیولری رجمنٹ کی قیادت کی۔ مئی 1969ء میں آرمرڈ ڈویژن کے کرنل کمانڈٹ اور پھر بریگیڈیئر بنا دیئے گئے۔ 1973ء میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پائی۔ اپریل 1975ء میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدہ پر ترقی دے کر انہیں کور کمانڈر بنا دیا گیا۔ یکم مارچ 1976ء کو فورسٹار جنرل بنے اور پھر چیف آف آرمی سٹاف کی حیثیت سے پاکستان آرمی کی قیادت سنبھال لی۔ 17اگست 1988ء کو ایک فضائی حادثہ میں جاں بحق ہوئے۔

-9 چیف آف آرمی سٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ:

پاک فوج کے سابقہ کمانڈر انچیف اعظم گڑھ یوپی کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ جوانی میں ہجرت کرکے پاکستان آ گئے اور 1950 ء  میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے چھٹے کورس میں شمولیت اختیار کی۔ 1952ء میں بلوچ رجمنٹ میں بطور انفنٹری افسر کمیشن ملا۔اور 30 بلوچ رجمنٹ میں شامل ہوئے سپیشل سروسز گروپ میں شامل رہ کر فوج خدمات انجام دیں۔ مارچ 1987ء میں ان کو ترقی دے کر جنرل بنایا گیا اور جنرل خالد محمود عارف کی جگہ وائس چیف آف آرمی سٹاف بنایا گیا۔ 

18اگست 1988 کو صدر ضیا الحق کی ناگہانی وفات سے اگلے روز غلام اسحاق خان نے جنرل اسلم بیگ کو چیف آف آرمی سٹاف بنا دیا۔ وہ چاہتے تو اس موقع پر مارشل لا نفاذ کرکے اپنے اقتدار کے لیے راستہ ہموار کرسکتے تھے لیکن انہوں نے 1988ء کو انتخابات کے ذریعے پاکستان کو جمہوریت کی راہ پر لگانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جنرل اسلم بیگ اس حوالے سے بھی منفرد ہیں کہ یہ پاک فوج کے پہلے چیف آف آرمی سٹاف تھے کہ جنہوں نے کاکول اکیڈیمی سے ٹریننگ لی، جبکہ ان سے پہلے کے تمام جنرل پاکستان بننے سے پہلے ڈیرہ ڈوں اکیڈیمی سے تربیت یا فتہ تھے۔

-10 چیف آف آرمی سٹاف جنرل آصف نواز جنجوعہ:

پاکستان فوج کے دسویں آرمی چیف، 1939ء میں پیدا ہوئے۔ فوجی زندگی کا آغاز 1957ء میں کیا۔ نہایت باکردار اور مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔ ان کے دور میں سندھ کے اندر ڈاکوراج قائم تھا، جس پر سابق وزیراعظم نواز شریف نے انہیں سندھ آپریشن کے لیے کہا چنانچہ 1992ء میں سندھ آپریشن شروع کیا گیا، مکمل اختیارات مانگنے پر نواز شریف سے اختلافات پیدا ہو گئے۔ اسی فوج آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کا قائد الطاف حسین جو جناح پور بنانے کے خواب دیکھ رہا تھا، ملک سے راہ فرار اختیار کرلی اور برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ نواز شریف کے ساتھ اختلافات شدت اختیار کر گئے، اسی دوران اچانک ان کی موت واقع ہو گئی جس کا الزام نواز شریف پر آیا کہ انہیں زہر دے کر ہلاک کیا گیا۔ بعدازاں رپورٹ میں بتایاگیا کہ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے واقع ہوئی۔ پاکستان کی تاریخ کے پہلے چیف آف آرمی سٹاف جو بطورِآرمی چیف اچانک جاں بحق ہوئے، 16اگست 1991ء سے 8جنوری 1993ء تک آرمی چیف رہے۔

-11 چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبدالوحید کاکڑ:

پاک آرمی کے گیارہویں چیف آف آرمی سٹاف، 1937ء میں پیدا ہوئے اور اپنی عسکری زندگی کا آغاز 1959ء میں کیا۔ جنرل آصف جنواز جنجوعہ کی اچانک وفات پر سابق وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے پانچ سینئر جرنیلوں کو سپرسیڈ کر کے انہیں فورسٹار جنرل کے عہدہ پر ترقی دی اور انہیں چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے اپوزیشن دور میں جب تحریک زوروں پر تھی تو جنرل کاکڑ نے صدر غلام اسحق خان اور وزیراعظم نواز شریف کو بیک وقت مستعفی ہونے پر مجبور کردیا۔ معین قریشی کو نگران وزیراعظم بنایا گیا۔ اکتوبر 1995ء میں جنرل ظہیرالاسلام عباسی کو حکومت کا تختہ اُلٹنے کی سازش میں گرفتار کرلیا گیا اور انہیں سات سال کی سزا سنائی گئی۔ ان پر الزام تھا کہ وہ حکومت کا خاتمہ کر کے ملک میں خلافت کا نظام لانا چاہتے تھے۔ وحید کاکڑ 12جنوری 1993ء سے 11جنوری 1996ء تک آرمی چیف رہے۔

-12 چیف آف آرمی سٹاف جنرل جہانگیر کرامت:

پاک آرمی کے بارہویں سپہ سالار، 1941ء میں پیدا ہوئے۔ اپنے کیریئر کا آغاز 1961ء میں بطورِ کمیشنڈ آفیسر کیا۔ 11جنوری 1996ء میں انہوں نے بحیثیت آرمی چیف اپنا عہدہ سنبھالا۔ 1998ء میں انہوں نے نیشنل سکیورٹی کونسل کی تجویز پیش کی جو وزیراعظم نواز شریف کو نہایت ناگوار گزری جسے انہوں نے مسترد کردیا اور جنرل کرامت سے استعفیٰ مانگ لیا لہٰذا انہوں نے بغیر کسی اختلاف اور سیاسی چپقلش کے 7اکتوبر 1998ء کو اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش کردیا۔ ان کے دور میں 11مئی 1998ء میں پاکستان ایٹمی قوت بن کر اُبھرا۔ شدید امریکی دبائو کے باوجود انہوں نے نواز شریف کو ایٹمی دھماکہ کرنے پر مجبور کیا، بطور آرمی چیف ان کا عہد پاک افواج کے لیے بہترین دور تھا۔

-13 چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف:

پاکستان کے تیرہویں آرمی چیف، 1943ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ فوجی سروس کا آغاز بطورِ سیکنڈ لیفٹیننٹ 1964ء میں کیا۔ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل بنے۔ وزیراعظم نواز شریف نے سپرسیڈ کرتے ہوئے آرمی چیف مقرر کیا۔ کارگل ایشو پر اختلافات اس قدر بڑھے کہ 12اکتوبر 1999ء کو جنرل مشرف نے حکومت کا تختہ اُلٹ دیا اور نواز شریف سمیت پوری فیملی کو ملک بدر کردیا ۔ آئین میں سترہویں ترمیم کے ذریعے تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی عائد کردی۔ 11ستمبر 2001ء میں افغانستان پر امریکی چڑھائی کی حمایت کی۔نومبر 2007ء میں صدارت کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔

-14 چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی:

پاک آرمی کے چودھویں چیف آف آرمی سٹاف، 1952ء میں گوجر خان میں پیدا ہوئے۔ فوجی زندگی کا آغاز 1971ء میں کیا۔ بلوچ رجمنٹ سے تھے، ترقی کرتے کرتے فورسٹار جنرل اور پھر آرمی چیف مقرر ہوئے۔ ان کا دور دہشت گردوں سے نپٹنے میں گزرا۔ سوات، جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان کے دہشت گردوں کا صفایا کیا۔ بدلے میں دہشت گردوں نے 10اکتوبر 2009ء میں جی ایچ کیو راولپنڈی اور 22مئی 2012ء کو مہران بیس کراچی پر حملہ کیا۔ ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کی خودساختہ امریکی کارروائی میں انہی کے دور کا اہم واقعہ ہے جس کے باعث فوج کو خاصی بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل کیانی کو سیاسی مخالفت کا خاصا سامنارہا مگر بہ احسن طریق 2013ء میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔

-15 چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف:

پاکستان کے نامور سپوت، 1956ء میں پیدا ہوئے۔ دو اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’’نشان حیدر‘‘ حاصل کرنے والا قابلِ فخر خاندان سے ان کا تعلق ہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں ان کے ماموں راجہ عزیز بھٹی شہید نے نشان حیدر حاصل کیا اور پھر 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں ان کے بڑے بھائی میجر شبیر شریف شہید نے نشان حیدر کا اعزاز حاصل کیا۔ والد بھی فوج میں میجر کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔ ان کا دور سیاسی وجغرافیائی اعتبار سے اعصاب شکن اور سخت ترین دور ہے، مگر ان کی حکمت عملیوں کے باعث فوج کا مورال بلند سے بلند تر ہوا۔ ضرب عضب کی صورت میں دہشت گردوں کو عبرت ناک انجام تک پہنچایا۔ بردباری، تحمل، جوانمردی اور سپہ سالاری کے حوالے سے ان کا کردار تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ 1976ء میں اپنی عسکری زندگی کا آغاز کرنے والے راحیل شریف نہایت عزت ووقار کے ساتھ 28نومبر 2016ء کو اپنے عہدہ سے سبکدوش ہوئے۔

-16 چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ (پاکستان کے موجودہ سپہ سالار):

پاکستان کے سولہویں اور موجودہ آرمی چیف، 2جنوری 1959ء کو گکھڑمنڈی میں پیدا ہوئے۔ فوجی زندگی کا آغاز 24اکتوبر 1980ء میں کیا، آپ کا تعلق 16بلوچ رجمنٹ سے تھا۔ 62 پی ایم اے لانگ کورس سے ہیں۔  اگست 2013ء میں لیفٹیننٹ جنرل ہوئے تو 10کور راولپنڈی کے کورکمانڈر بنا دیئے گئے۔ 2013ء سے 2015ء تک کورکمانڈر رہے۔ 10کور ہی میں بطورِ چیف آف سٹاف اور ناروان ایریا میں فارمیشن ڈویژن کی کمانڈر کی۔ کشمیر جیسے حساس معاملات میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی جس پر وہ مکمل عبور رکھتے ہیں۔ سیاسی، دفاعی، جغرافیائی اور معیشت ومعاشرت جیسے گھمبیر مسائل انہیں ورثہ میں ملے۔ وزیراعظم نواز شریف نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے چار سینئر جرنیلوں کو سپرسیڈ کر کے چیف آف آرمی سٹاف کے عہدہ پر فائز کیا۔ آنے والے ملکی حالات ان کے سامنے ناگ کی طرح پھن پھیلائے کھڑے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ ایک نہایت منجھے ہوئے تجربہ کار اور مضبوط اعصاب کے مالک جرنیل ہیں۔

موجودہ بدترین سیاسی وقومی صورتحال اور اندرونی وبیرونی دبائو کو جس خندہ پیشانی اور تحمل وبرداشت کے ساتھ کنٹرول کررہے ہیں، یہ ان کے مضبوط اعصاب کا مالک ہونے کا واضح ثبوت ہے بالخصوص بدترین امریکی دبائو کہ جسے وہ کسی خاطر میں نہیں لاتے، ایک بہترین مسلم افواج کے مایہ ناز سپہ سالار ہونے کی بھی دلیل ہے۔ پوری قوم کی نگاہیں اس وقت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر مرکوز ہیں کہ وہ ان حساس ترین معاملات میں سیاسی وعسکری اعتبار سے کون سا فیصلہ کُن قدم اُٹھائیں گے جس سے ملک وقوم نہ صرف سرخرو ہوسکے بلکہ دُشمنانِ ملک وملت کے مکروہ عزائم بھی خاک میں مل جائیں۔ یہ ان کے لیے ایک بڑا امتحان اور چیلنج ہے۔ آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی کے بعد آپریشن ردّالفساد بھی اُن کی سربراہی وسرپرستی میں نہایت کامیاب کے ساتھ جاری وساری ہے۔ تاریخ ان کے بارے میں کیا لکھے گی؟ یہ آنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔

٭٭٭


ای پیپر