تماشہ در تماشہ……؟
29 اکتوبر 2020 (12:20) 2020-10-29

پچھلے کالم میں موجودہ حکومت کے دور کے دو تین معاملات کا ذکر ہوا تھا کہ جناب وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان اور ریاستی اداروں کے اعلیٰ عہدیداران ملکی معاملات و مسائل کو کیسے لے کر چل رہے ہیں۔ اس ضمن میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے اقدامات اور اعلانات کا جائزہ لیا جائے تو وہ قومی معاملات و مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اور پرخلوص کوششوں کا تاثر دینے اور موثر اقدامات اٹھائے جانے کی بجائے محض تماشہ بازی نظر آتے ہیں۔ تاہم اپنی اپنی فکر اور سوچ ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ کرم فرماؤں اور مہربانوں کو اس بارے میں حکومت کا کچھ بھی قصور دکھائی نہ دیتا ہو اور وہ سمجھتے ہوں کہ جناب عمران خان اور ان کے ساتھی معاملات کو درست انداز میں رکھنے کے لیے بڑی جان ماری اور مخلصانہ کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے مہربانوں اور کرم فرماؤں کو اپنی سوچ پر قائم رہنے کا حق ہے۔لیکن جب معاملات کی تہہ میں جاکر جائزہ لیا جاتا ہے تو پھر اوپربیان کی گئی ہی صورت حال سامنے آتی ہے۔ خیر آمدم برسر مطلب۔ موجودہ حکومت کے ایک دو اور معاملات کا تذکرہ کرتے ہیں جن کے حوالے سے حکومتی اقدامات یا حکومتی کارپردازوں کی مجموعی سوچ یا کارکردگی ایسی نظر آتی ہے جس پر انگلیاں ہی نہیں اٹھائی جا سکتی ہیں بلکہ انہیں تماشہ در تماشہ کا ٹائٹل بھی دیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے ملک کو درپیش گندم اور آٹے کی وافر مقدارمیں عدم دستیابی اور قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے معاملے کو لیا جاتا ہے جسے بعض سنجیدہ حلقوں کی طرف سے ملک کی تاریخ کے گندم کے سب سے بڑے بحران سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ گندم اور آٹے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی لائحہ عمل اختیار کیا گیا جیسا چینی کی مصنوعی قلت اور اس کے نتیجے میں چینی کی قیمت میں بے تحاشہ اضافے کی صورت میں روا رکھا گیا۔ گندم کی پیداوار کے حوالے سے حکومت کی طرف سے یہ کہا گیا کہ سال 2018-19کے مقابلے میں سال 2019-20 کے دوران گندم کی پیداوار میں 10لاکھ ٹن کا اضافہ ہوا ہے اور گندم کی کوئی قلت سامنے نہیں آئے گی۔ دوسری طرف گندم کے ذخیرہ اندوزوں کو ہی نہیں گندم کی سمگلنگ میں ملوث مافیاز جو ہر دور میں حکومتی حلقوں میں اثر و رسوخ کے مالک رہے ہیں اور تحریک انصاف کی موجودہ وفاقی اور پنجاب اور خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومتوں میں انہیں کچھ زیادہ ہی اثر و رسوخ حاصل ہے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ا سے سمگل کرنے کی کھلی چھٹی دیئے رکھی جس کا نتیجہ یہ سامنا آیا کہ بیرون ملک روس اور یوکرین سے مہنگے داموں بھاری مقدار میں گندم منگوانے کے باوجود ملک گندم اور آٹے کی قلت اور گرانی کے تاریخ کے شدید ترین بحران سے دوچار ہو چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بحران میں مزید شدت کا امکان ہے۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ حکومت کا چینی، آٹے اور گندم کی قلت اور ان کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے جو بھی کردار رہا ہے اور حکومتی کارپردازوں کی ضمن 

میں جو بھی کارکردگی رہی ہے بلاشبہ اسے ایک تماشے کا نام دیا جا سکتا ہے۔ طرفہ تماشہ یہ کہ وزیر اعظم جناب عمران خان ہر دوسرے تیسرے دن گلہ پھاڑ پھاڑ کر یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ مہنگائی میں کمی کی جائے گی اور چینی اور آٹا کی قلت پیدا کرنے اور قیمتوں میں اضافہ کرنے والوں کو نہیں بخشا جائے گا۔ اس کے ساتھ اشیائے خور و نوش کی سستے داموں اور باافراط فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی۔ اس پر جناب وزیر اعظم کی طرف سے مزید تماشہ در تماشہ یہ رچایا گیا ہے کہ اپنی جماعت سے وابستہ مخصوص کارکنوں پر مشتمل ایک خاص سوچ اور منفی رویوں کی مالک نام نہاد ٹائیگر فورس کو اشیائے صرف کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور ان کی باافراط دستیابی کو یقینی بنانے کا مشن سونپ دیا ہے۔ اس کے جو منفی نتائج سامنے آئیں گے اور قومی اتحاد و یکجہتی کی فضاء کو جو نقصان پہنچے گا اس کا تصور کرکے ہی دل کانپنے لگتا ہے یہاں جناب وزیر اعظم اور اشیائے صرف کی قیمتوں کو مانیٹر کرنے والے سیل کی اطلاع کے لیے ہر گھر میں استعمال ہونے والی چند سبزیوں کے تازہ نرخ لکھے جاتے ہیں تاکہ یہ پتا چل سکے کہ سبزیوں کی قیمتیں کس انتہاء تک پہنچ چکی ہیں۔ آلو 80روپے کلو، پیاز 70روپے کلو، ٹماٹر 200روپے کلو، شملہ مرچ 240روپے کلو، پھول گوبھی اوربھنڈی وغیر ہ 100روپے کلو۔ کیا یہ قیمتیں اس بات کا ثبوت نہیں ہیں کہ مہنگائی نے کس حد تک عوام الناس کواپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ 

وزیر اعظم جناب عمران خان کے حوالے سے ایک اور تماشے کا ذکر بھی کوئی ایسا غیر متعلق نہیں ہے۔ جناب وزیراعظم اکثر یہ گردان کرتے رہتے ہیں کہ سابقہ حکمران چور، ڈاکو، لٹیرے اور بدعنوان تھے اور انھوں نے اپنے ادوار حکومت میں بے پناہ ملکی اور غیر ملکی قرضے لیکر ملک کو دیوالیہ کر دیا ہے۔جناب عمران خان کی یہ گردان ایک تماشے کا روپ دھار لیتی ہے جب یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ تحریک انصاف کے 26ماہی دور اقتدار میں 7.8ارب ڈالر (780کروڑ ڈالر) کے غیر ملکی قرضے لیے گئے ہیں۔ وزارت خزانہ نے اپنی رپورٹ میں یہ ہوش ربا انکشاف کیا ہے کہ جون 2018سے جون 2020تک لیے جانے والے یہ قرضے قیام پاکستان سے اب تک لیے جانے والے مجموعی غیر ملکی قرضوں کا 44%بنتے ہیں۔ قبل ازیں وزارت خزانہ مجموعی ملکی قرضوں کے بارے میں بھی ایک رپورٹ قومی اسمبلی میں جمع کرا چکی ہے جس کے مطابق تحریک انصاف کے دور اقتدار میں مجموعی ملکی قرضوں میں بھی 2014ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔اور یہ قرضے 42ہزار ارب روپے کی سطح تک جا پہنچے ہیں۔جناب عمران خان اور ان کے یمین و یسار یہ شور مچاتے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے اپنے دور اقتدار (2008تا مئی 2013) کے دوران مجموعی ملکی قرضوں میں 8ہزار ارب روپے کا اضافہ کیا اور ان کو 14ہزار ارب روپے کی سطح تک پہنچا دیاجبکہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے دور اقتدار (جون 2013 تا مئی 2018) کے دوران اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے مجموعی ملکی قرضوں میں تقریباً14ہزار ارب روپے کا اضافہ کیا اور انہیں 30ہزارارب روپے تک پہنچا دیا۔جناب عمران خان اور ان کے ساتھیوں کا 30ہزار ارب روپے کی سطح کا لگاتار دعویٰ کرنا یا سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق قرضوں کا 28ہزار ارب روپے تک پہنچنا جو بھی اعداد و شمار درست ہوں وہ تحریک انصاف کے اقتدار کے پہلے دو سال کے دوران لیے جانے والے 14ہزار ارب روپے کے قرضوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

جناب عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکیں اور دیکھیں کہ ان کی حکومت نے اپنے اقتدار کے دو سال کے مختصر عرصے میں ملکی اور غیر ملکی قرضے کس بلند ترین سطح پر پہنچا دیے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی جائزہ لیں کہ چینی، آٹے اور گندم کے بحران کیسے پیدا ہوئے، عوام کی جیبوں سے کتنے سو ارب روپے بٹورے گئے اور بہت سارے ایسے لوگوں کی تجوریوں میں گئے جن میں اکثریت کا تعلق حکمران جماعت سے ہے۔اسی طرح جناب عمران خان کو اس بات کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ مہنگائی کس حد تک بڑھ چکی ہے اور عوام اس کے ہاتھوں کتنے تنگ ہیں۔ اگر یہ کچھ نہیں کیا جاتا تو پھر سارے دعویٰ اور سارے اعلانات محض کاغذوں کی حد تک فرضی کہانیا ں،قصے اور تماشے ہی سمجھے جائیں گے۔


ای پیپر