ایک سے بڑھ کر ایک بحران
29 اکتوبر 2020 (12:17) 2020-10-29

حکومت گڈ گورنس سے لے کر مہنگائی تک مسلسل زوال کی طرف ہے۔ اپوزیشن نے حکومت گرانے کے لیے جو اتحاد تشکیل دیا تھا اس پر حکومت اور میڈیا کا یہی تبصرہ تھا کہ ان تلوں میں تیل نہیں۔ ماضی قریب میں حکومت نے اپوزیشن کو جن ناکامیوں سے دو چار کیا تھا اس کے پیچھے ٹھیک ٹھاک کہانیاں ہیں کہ پاکستان کے ادارے کس حد تک جا رہے ہیں۔ اس کا تذکرہ تو عوام گوجرانولہ،کراچی اور کوئٹہ کے سن چکے ہیں۔ یہی وہ اہم نکتہ تھا جس پر اپوزیشن ا کھٹی ہوئی۔ انہوں نے اپنی تحریک کا جو روڈ میپ دیا تھا اس میں وہ کافی حد تک حکومت کو پریشان کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اب اپوزیشن نے اپنے پشاور جلسے کے لیے ایک ماہ کا وقفہ دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ جس ادارے پر گرج اور برس رہے ہیں،وہ بھی اس پر سوچ بچار کرلیں، دوسری جا نب کوئٹہ جیسے حساس صوبے میں بلوچستان کی سیاسی جماعتوں نے اپنے دکھ درد عوام کے سامنے رکھے ہیں۔ مریم نواز بلوچستان کے جلسے میں جس انداز سے گرجی اور برسی ہیں اور خاص طور پر انہوں نے مشرف دور میں شدت سے سامنے آنے والے جبری گمشدگیوں کے مسئلہ کو جس انداز سے اٹھایا ہے۔ اس سے حکومت بھی جاگی ہے اور شیریں مزاری اپنی وزارت کے نیچے جو پہلے کام کر رہی تھی اب انہوں نے قانون سازی کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ مریم نواز اس جلسے سے ایک قومی لیڈر کی حیثیت سے سامنے آئی ہیں۔ بلوچ قیادت سے ان کے والد نے جو سیاسی تعلقات استوار کیے تھے اس کی دو مثالیں یہ ہیں کہ 2013 کے انتخاب میں اکثریت کے باوجود حکومت ایک بلوچ ڈاکٹر مالک کو دے دی۔ دوسرا میر حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ بنانا۔ یہی وجہ ہے کہ اختر مینگل مریم نواز کا شکریہ ادا کرنے جاتی امرا لاہور آئے جس کا باعث یہ آواز بھی تھی جو نواز شریف نے اٹھائی ہے۔ ہم عرصہ سے یہی کہتے آ رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اپوزیشن کی اس تحریک کا سب سے زیادہ فائدہ تو بلوچ قیادت کو ہوا ہے جو عرصے سے مار تو کھا رہے تھے مگر ان کو بولنے نہیں دیا جا رہا تھا۔ اب مقتدر اداروں کو یہ سبق بھی سیکھنا ہو گا کہ اب سیاست میں مداخلت کے باب کو بند کرنا ہو گا۔ ایوب خان نے بھی بلوچستان میں ایک آپریشن کیا تھا، اکبر بگٹی، سردار عطا اللہ مینگل اور سردار خیر بخش مری کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا جا چکا تھا۔ پھر ایوب خان کو بلوچوں سے ملک کے لیے مفا ہمت کرنا پڑی تھی۔ سیاست میں ایسا ہوتا ہے۔ شیخ مجیب الرحمان کو چھ نکات کے راستے پر ایوب دور میں لگایا گیا۔ جب مجیب ان نکات کی بنیاد پر بہت آگے چلا گیا تو کیا ہوا ان پر غداری کا مقدمہ چلا۔ اگرتلہ سازش کیس میں دھر لیا گیا۔ پھر سیاسی بحران سے بچنے کے لیے اگرتلہ کیس واپس لے لیا گیا۔ انتخاب میں کامیابی کے بعد اس کے پاسی سنگل لارجسٹ اکثریت تھی۔ انتقال اقتدار کے لیے تین مارچ 1971کا اجلاس بلایا جا چکا تھا۔ بھٹو کو شہ کس نے دی کہ وہ دو حکومتوں کا نظریہ پیش کرے۔ آپریشن کیا گیا۔ آپ نے پوری دنیا کو اپنا مخالف بنا لیا۔ بھٹو کو اقتدار دینے کا وعدہ پاکستان کا ایک حصہ توڑ کر ہی پورا ہو سکتا تھا ایسا ہوا۔ بھٹو نے پروٹوکول کے ساتھ غدار پاکستان کو لاہور ایئرپورٹ سے روانہ کیا۔ ضیا الحق نے بلوچ لیڈروں کو یہ کہہ کر حیدر آباد جیل سے رہا کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ تو غدار ہیں اور ان کو رہا کرنے کے لیے ان کے ساتھی رضا مند نہیں ہیں۔ پھر ضیا الحق نے مفاہمت کے نام پر تمام غدار بلوچوں کو رہا کر دیا بلکہ رہائی کے بعد ان کو بیرون ملک بھی جانے دیا۔ مشرف نے امریکیوں کو بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے اڈے دیئے۔ اب مشرف نے جن کو غدار کہا قدرت کا کھیل دیکھیں مشرف بھی سنگین غداری کی تہمت سے نہ بچ سکے۔ اب موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ ملک کو بحرانوں سے کیسے بچایا جائے۔ ان کے لیے نواز شریف کی تینوں تقریروں کو سامنے رکھیں اس میں کافی حد تک بحران سے نکلنے کا راستہ ہے۔ موجودہ طرز سے ریاست کا نظام نہیں چل سکتا اس سے نکلنے کے لیے ریاست کے طرز پر بڑی آئینی سرجری کرنا پڑے گی۔ اس سارے بحران سے نکلنے کے لیے سابق وزیر اعظم خاقان عباسی نے ایک بڑا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ انہیں بھی وزارت عظمیٰ کی پیشکش ہوئی تھی مگر 

انہوں نے انکار کر دیا۔ ان کی تجویز ہے ”ملٹری اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور اپوزیشن، عدلیہ، میڈیا اور نیب کو مذاکراتی عمل کا حصہ بنانا چاہئے اور اس فورم پر ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کر کے ایسا میکنزم تشکیل دیا جائے جس میں یہ غلطیاں نہ ہوں“۔ نواز شریف کی حالیہ تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نون لیگ کے قائد نے اگرچہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا نام لیا لیکن اس کا مقصد ان کی توہین نہیں بلکہ اس بات کی نشاندہی کرنا تھا کہ کیا غلطی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو چاہئے کہ عوام کے وسیع تر مفاد میں مل بیٹھیں نہ کہ ذاتی مسائل اور جھگڑوں پر بات کریں۔ شاہد خاقان عباسی اس انٹرویو میں وہ بات دہرا رہے ہیں جو نواز شریف نے ٹروتھ کمشن کی تجویز میں کی تھی۔ شاہد خاقان عباسی کی تجویز کو آگے بڑھانا چاہیے اس سے پہلے کہ ملک بحرانوں کی ایک اور بند گلی میں چلا جائے۔ ملک میں سیاسی بے چینی ہو تو آگے نہیں بڑھتا۔ کوئٹہ کا جلسہ حکمرانوں کے لیے پریشان کن ہے۔ حکومت کو غریب عوام کا بھی سوچنا چاہیے۔ خود حکومت نے مہنگائی کو وقت کا سب سے بڑا چیلنج تسلیم کر لیا ہے۔ مگر عملی طور پر عوام کو تسلی دینے کے باوجود کچھ نہیں کر سکی۔ کابینہ کے تازہ اجلاس میں وزیر اعظم نے عوام کو ایک بار پھر تسلی دی ہے کہ مہنگائی میں کمی اولین ترجیح ہے، معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے، عوام کی مشکلات کا مکمل احساس ہے، مہنگائی کنٹرول ہونے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا، مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے زیادہ اقدامات اٹھائے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ عوام کی ساری مشکلات کو بیوروکریسی کے سر تھوپ رہے ہیں۔ کابینہ کے اجلاس میں کہا گیا کہ بیوروکریٹس کے روایتی ہتھکنڈے بے نقاب ہونے چاہئیں۔ یہ ساری کہانیاں ہیں کہ حکومت تو عوام کی خیر خواہ ہے دشمن کوئی اور ہیں مگر اعداد و شمار کو دیکھیں حکومت کی واردات سے عوام سے پیسہ مافیا کے پاس جا رہا ہے۔کابینہ نے وزارت ہوا بازی کی طرف سے بین الاقوامی سول ایوی ایشن کنونشن میں مجوزہ ترامیم اور خلیجی ممالک کے لئے مویشی برآمد کرنے کی منظوری دی۔

کابینہ نے پاکستان میڈیکل کمیشن ایکٹ 2020ء کے تحت قومی میڈیکل و ڈینٹل اکیڈمک بورڈ تشکیل دینے اور عید میلادالنبیﷺ کے مبارک موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کی بھی منظوری دی۔ وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کی طرف سے کابینہ کو گندم کی خریداری اور دستیابی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے چینی کی درآمد اور دستیابی پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گندم اور چینی کی ضروریات کو بروقت جانچنے کے لئے منظم اور مربوط طریقہ کار وضع کیا جائے جس میں تمام صوبوں کی ضروریات شامل ہوں۔

حکومت سب سے زیادہ توجہ چینی اور گندم پر دینے کا دعویٰ کرتی ہے، مگر سب سے زیادہ بدانتظامی بھی ان ہی دو اجناس میں دکھائی دے رہی ہے، جس کی وجہ سے اب تک مجموعی طور پر عوام کو 404 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے، پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کی تحقیقات کے مطابق، حکومتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرانے کی وجہ سے چینی مہنگی ہونے کی وجہ سے 184روپے کا نقصان ہوا۔ جبکہ گندم مہنگی ہونے اور بروقت فیصلے نہ کرنے کی وجہ سے عوام کو 220ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ بھی اور مسائل حکومت کو اس کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ کراچی میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے ساتھ جو سلوک ہوا اس میں ریاست کے ادارے کے کچھ لوگوں کا نام آیا ہے اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں رٹ کی صورت میں پہنچ گیا ہے۔ دوسرا وفاقی حکومت کے جن وزرا اور سیاست دانوں نے پرویز مشرف کے خلا ف فیصلے کے بعد جو ریمارکس دیے تھے ان کو بھی توہین عدالت میں بلا لیا ہے۔ اب شاہد خاقان عباسی کی تازہ تجویز پر آگے بڑھنا چاہیے ویسے اس تجویز کے معمار سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی ہیں۔


ای پیپر