سرخیاں ان کی……؟
29 اکتوبر 2020 (12:12) 2020-10-29

٭…… امریکی انتخابات کون جیتے گا……؟

٭…… 3 نومبر 2020 کو ہونے والے امریکی انتخابات میں مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا ووٹ 24 اکتوبر کو فلوریڈا میں ویسٹ پام بیچ کے اہم علاقے میں نئی ووٹنگ سکیم کے مطابق کاسٹ کردیا ہے۔ نہ جانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ جیسے یہ امریکی انتخابات پاکستان میں انتخابات کے ہم شکل ہوں گے۔ یعنی اس قدر متنازع اور خلفشار کا شکار کہ ناصرف امریکی نظام سیاست اور معیشت میں ایک عجیب و غریب طوفان برپا ہو جائے بلکہ غالباً آگے چل کر امریکہ کی سپریم کورٹ کو بھی Involve کیا جائے گا۔ آج دنیا میں ایک طرف بھارت پاکستان کے سر پہ کھڑا ہے اور چین بھی امریکہ کے اعصاب پے سوار ہو چکا ہے۔ اس لئے امن عالم کی خیر ہو۔ دوسری طرف امریکی انتخابات یعنی 3 نومبر 2020 جوں جوں قریب آ رہا ہے میرے مصدقہ ذرائع کے مطابق دنیا کے سفارت خانوں میں ہلچل مچ چکی ہے۔ فائلیں ادھر ادھر اوپر نیچے ہونے لگی ہیں۔ دنیا کے ماہر ترین مبصرین، کالم نگار، تجزیہ نگار بشمول نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، گارڈین کے ادارتی صفحے یہی کہہ رہے ہیں کہ ریپبلکن امیدوار مسٹر ٹرمپ اور مخالف امیدوار یعنی ڈیموکریٹک پارٹی کے اوبامہ دور میں منتخب ہونے والے نائب صدر مسٹر جو بائیڈن میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ مگر میری دانش کے مطابق اگرچہ مسٹر ٹرمپ اور پینٹاگون ایک پیج پر نہیں ہیں۔ اس کے باوجود مسٹر ٹرمپ یہ انتخابات بھی جیت جائیں گے۔ اس کی بنیادی وجہ میں یہی سمجھتا ہوں کہ امریکہ کے یہ واحد انتخابات ہوں گے جو امریکی مزاج، جمہوری اقدار اور اصولی سیاست سے ہٹ کر لڑے جائیں گے اور 

یہی وہ تین شعبے ہیں جن میں مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ چمپئن ہیں۔ ان کا یہی منفرد انداز دنیا نے امریکی صدارتی انتخابات کے لائیو ٹی وی پر ہونے والے صدارتی مباحثوں میں دیکھا تھا، میں نے ان کے دونوں صدارتی مباحثے لفظ بہ لفظ سنے اور یہی نتیجہ اخذ کیا کہ خدا ہی خیر کرے۔ ورنہ امریکہ کا مستقبل کیا ہو گا۔؟ کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ میرے دل میں امریکہ کے متعلق امریکی امیج کو بھی دھچکا لگاتھا کہ یہ وہ امریکہ ہے جس نے دنیا کو تہذیب سکھانی ہے یا امن کی نوید سنانی ہے جبکہ بحیثیت پاکستانی میں ان مباحثوں میں متلاشی رہا کہ پاکستان کے لئے مسٹر ٹرمپ یا مسٹر جوبائیڈن بہتر ہے؟ بلاشبہ ماضی میں کبھی کانگرس کے دل میں پاکستان کے لئے کچھ نہ کچھ نرمی پائی جاتی تھی جبکہ Democrates انڈیا کو پسند کرتے تھے۔ مگر 11 ستمبر 2001 کے ٹوئن ٹاورز دھماکوں کے بعد سے صورتحال تبدیل ہو گئی اور ہمارے سر پر ”ڈومور“ کا ”جن“ سوار کر دیا گیا۔ مگر مجھے اب بھی امید ہے کہ ہماری امریکہ کی خاطر دی گئی جانی و مالی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور امریکہ کو پاکستان کی اس قدر ضرورت پڑے گی کہ وہ جس طرح طالبان کے سامنے سرنگوں ہوا ہے ایک نہ ایک دن ہمارے سامنے بھی سر تسلیم خم بجا لائے گا۔ میں پاک فوج کوسلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے افغانستان میں پاکستانی کارڈ کمال مہارت سے کھیلا اور نا صرف بھارت کو افغاستان میں چاروں شانے چت کیا بلکہ امریکہ جیسی سپرپاور کوبھی اپنی من پسند میز پر بٹھانے کے لئے مجبور کردیا۔ قصہ مختصر یہ کہ ان انتخابات میں پاکستانی دوست یعنی آپ کو یاد ہو گا کہ جب جناب عمران خان نے امریکی دورہ کیا تھا تو مسٹر ٹرمپ نے انہیں اپنا دوست کہا تھا اور کہیں نہ کہیں اس کے بعد پیدا ہونے والی گمبھیر صورت حال پر حق دوستی ادا کرنے کی بھی کوششیں کی ہیں۔ کئی اہم اجلاسوں میں بھی مسٹر ٹرمپ نے پاکستانی مؤقف کی تائید کی تھی بلکہ کشمیر کو بھی متنازع مسئلہ تسلیم کیا ہے اور اپنی مخلصانہ کوششوں کی پیشکش بھی کی گئی جس پر پورا بھارت سیخ پا ہے۔ اب نتیجہ جو بھی ہو امریکہ اور اس کے مستقبل کے لئے بہتر ہو۔ امریکہ خوشحال ہو اور سب سے بڑھ کر امریکی جمہوری نظام اقوام عالم کے لئے عبرت کے بجائے مشعل راہ ہو۔ یہی میری دعا ہے۔

٭…… کٹھ پتلیوں کا کھیل ختم، پی ڈی ایم

٭…… اگرچہ اگلے لمحے کیا وقوع پذیر ہونے والا ہے اتنا سا علم بھی کسی کو نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود منصوبہ ساز اپنے اپنے مفادات کے مستقبل بعید کے لئے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ لیکن حیرانگی تو یہ ہے کہ کٹھ پتلیاں ہی کٹھ پتلیوں کا کھیل ختم کرنا چاہتی ہیں جوناممکن ہے۔ البتہ ایسے افراد کے لئے یہی خوشخبری ہے کہ جب تک مسئلہ افغانستان اور کشمیر حل نہیں ہوتے ریڈ لائن کراس نہ کریں اور ایسے خواب نہ دیکھیں تو بہتر ہے ورنہ تقسیم در تقسیم ہی مقدر ہوگا۔ رہی بات یہ کہ حکومت دسمبر میں چلی جائے گی اور حکومت کے بعض معزز وزراء کے مطابق جناب نوازشریف 15 جنوری سے پہلے پاکستان آ جائیں گے تو خاطر جمع رکھئے اور خودکو خوبصورت دھوکے سے بھی دور رکھئے کیونکہ حکومت جانے والی ہے اور نہ ہی فی الحال جناب نوازشریف واپس آنے والے ہیں پھر ایسے تماشے کی کیا ضرورت ہے۔ 

شراب خود نہیں معیوب ساقیا لیکن

بروں کے پینے سے لگ گیا شراب کو عیب


ای پیپر