میکرون غلط کیوں!
29 اکتوبر 2020 (12:04) 2020-10-29

یہ قابل فہم بات اب ہر کوئی جان چکا کہ اگر آپ خواتین کی توہین کرتے ہیں تو آپ زن بیزار شخصیت ہیں۔ اگر آپ کالے لوگوں کی توہین کرتے ہیں تو آپ نسل پرست ہیں۔ اگر آپ یہودیوں کی توہین کرتے ہیں تو آپ یہود مخالف ہیں۔ لیکن یہاں ایک جھول ”ڈیل“ ہے کہ اگر آپ اسلام کی توہین کرتے ہیں تو آپ آزادی اظہار پر عمل پیرا ہیں۔ گزشتہ ہفتے فرانس کے صدر، ایمانوئل میکرون نے تاریخ، بین الثقافتی تعلقات اور رواداری سے قطعی لا تعلقی ظاہر کی بلکہ جہالت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک مغربی جمہوریت کے سربراہ مملکت کی حیثیت سے، انہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخانہ کارٹونوں کی نمائش کی حوصلہ افزائی کی، جبکہ 18 سالہ طالبعلم عبداللہ انزوف کے ہاتھوں قتل ہونے والے استاد سموئیل پیٹی کو خراج تحسین پیش کیا۔ میکرون کے الفاظ اور لہجہ انتہائی توہین آمیز تھا۔ اسلامو فوبیا آج پہلے کی نسبت عروج پر ہے۔ ماضی میں اس رجحان کو غیر ذمہ دار افراد نے رواج دیا تھا لیکن آج ریاست کے سربراہان تک اس کی حوصلہ افزائی کرتے نظر آتے ہیں۔ ہم جن لوگوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے ممالک کو متحد رکھیں گے، ہمہ گیری اور رواداری کی حمایت کریں گے، انتہا پسندی کا مقابلہ اور جمہوریت کی حقیقی اقدار کو پھیلائیں گے افسوس وہ اسلامو فوبیا کو پھیلانے کے مشن کی سربراہی کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہفتہ سے عرب اور مسلم دنیا شدید غم و غصہ کی حالت میں ہے، سوشل میڈیا پر میکرون کی مذمت، بائیکاٹ کالز اور تضادات سے بھرپور فرانسیسی بیانیے کی دھوم ہے۔ ہم یہ بھول نہیں سکتے کہ 1994 میں روانڈا نسل کشی، جہاں ایک اندازے کے مطابق 8,00,000 افراد ہلاک ہوئے، میں فرانس نے ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسی طرح فرانس نے 1954 سے 1962 کے درمیان الجزائر کی جنگ میں 10 لاکھ الجزائریوں کا قتل عام کیا۔ یہی نہیں بلکہ فرانس 1916 میں برطانیہ کے ساتھ سائکس پیکٹ معاہدے کا حصہ تھا، جس نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے مابین سرحدیں قائم کر دی تھیں اور مختلف ممالک کے قیام سے خطے کی تقسیم میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ آج بھی اس خطے کے بیشتر تنازعات اور مسائل کی بنیاد یہ تاریخی واقعہ ہے، جس کا مقصد خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا تھا۔ برتری کا خبط آج بھی موجود ہے، یہ غلط فہمی کہ ہم مشرقیوں سے بہتر ہیں، ہم اپنے حق کے لئے جو کچھ بھی درست سمجھتے ہیں، کرنے کے اہل ہیں اور ہم نسلی اور فطری طور پر بہتر انسان ہیں۔

آج بھی یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس نے پالش شدہ جوتے پہنے ہیں، فینسی ٹائی پہنی ہے اور سننے والوں کو رمزیہ اسلوب سے مسحور کن خطاب کون کرتا ہے، بہت سارے ممالک میں ”جمہوریت“ اس کا نیا چہرہ ہے جو موجودہ دور میں پراپیگنڈہ کی اہمیت واضح کرتا ہے۔ انزوف اتنا ہی دہشت گرد ہے جتنا نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ کا برینٹن ٹراننٹ، ناروے کا اینڈرس بیرنگ بریوک یا کوئی سفید فام بالادستی کا قائل دہشت گرد ہے۔ دشمن دہشت گردی ہے، اسلام نہیں۔ دہشت گرد مسلمان ہے تو جنگ ایک دہشت گرد کے خلاف ہے، مسلمانوں کے خلاف نہیں۔ کسی بے گناہ کو قتل کرنا کسی بھی مذہب میں جائزنہیں، یہ محض بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کا عقیدہ ہے اور یہ دونوں اصطلاحیں کسی بھی طرح سے اسلام یا کسی بھی مذہب سے وابستہ نہیں ہیں۔ سنٹر برائے سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (سی ایس آئی ایس) نے کہا ہے کہ امریکہ میں ہونے والے دہشت گردی کے 67 فیصد حملوں اور سازشوں کو سفید فاموں اور دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے انجام دیا ہے۔ اگر یہ دہشت گرد حملے فرانس میں ہوئے ہوتے تو میکرون، جسے دائیں بازو کے حامی صدر کے طور پر دیکھا جاتا ہے، حملہ آوروں کو ”دہشت گرد“ کا نام دیتے؟ اسلامو فوبیا میں اضافے کی بنیادی وجہ یہی ہے: کچھ رہنما یہ طے کرتے ہیں کہ کون سا واقعہ دہشت گردی ہے اور کون سا ”ذہنی یا نفسیاتی خرابی“ کے نام سے پکارا جا سکتا ہے، یا یہ کہ دہشت گرد صرف ”قاتل“ یا ”حملہ آور“ تھا، یا وہ ایک ”دہشت گرد، قاتل اور حملہ آور“ تھا۔ آپ دہشت گردی کو اپنے ایجنڈے کے مطابق تقسیم نہیں کر سکتے۔ فرانسیسی مزاح نگار ڈیوڈون مِالا والا ”فرانسیسی تضادات“ کا کامل نمونہ ہے۔ مارچ 2015 میں، ایک فرانسیسی عدالت نے انہیں دو ماہ کی معطل جیل کی سزا سنائی اور ”گستاخانہ تبصرے“ کرنے پر جرمانہ عائد کیا تھا۔ نومبر 2015 میں، سٹراسبرگ میں انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے ایک الگ معاملے میں ڈیوڈون کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ”نسل پرستانہ اور خود ستائی“ پر مشتمل الفاظ آزادی اظہار رائے ہرگز نہیں۔ انہیں ایک فرانسیسی عدالت نے 2009 میں سٹیج پر ہولوکاسٹ سے انکار کرنے والے کو مدعو کرنے پر 10,000 یورو جرمانہ بھی کیا تھا۔ کیا ڈیوڈون کی یہ حرکتیں درست تھیں؟ بالکل نہیں۔ میکرون کے ریمارکس اور ڈیوڈون کے درمیان کیا فرق ہے؟ ان دونوں نے نسل پرستانہ تبصرے اور توہین کی، نفرت اور تفرقہ کی حوصلہ افزائی کی لیکن ان میں سے ایک کو اس لئے سزا دی گئی ہے کہ اس نے غیر اسلامی واقعے کی توہین کی ہے اور دوسرا آزادی اظہار رائے کا حوالہ دیتے ہوئے صاف بری ہو جائے گا۔ سب سے کربناک حقیقت یہ ہے کہ ذہنی خبط پر مشتمل اسلامو فوبک اور نسل پرستانہ پیغام ایک ایسے ملک سے آیا ہے جو دنیا کو جمہوریت، آزادی اظہار اور امن کے بارے میں تلقین و تاکید کرتا ہے۔

(بشکریہ: گلف نیوز۔27-10-20)


ای پیپر