اب جو تاحشر کا فردا ہے وہ تنہا تیراﷺ
29 اکتوبر 2020 (11:51) 2020-10-29

ربیع الاول کے مہینے کی برکت میں کیا کلام کہ عالم کے پروردگار نے قیامت تک کے لیے اپنی مکمل ہدایت کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں بھیجا۔ خالق کائنات نے خود آپﷺ کو رحمت العالمین قرار دیا۔ اس ماہ میں اس ہستی کا ظہور ہوا جس کے لیے تمام زمین کو مسجد بنا دیا گیا۔ یہ اسی شخصیت مبارکہ کا فیض ہے کہ ظُلمات فروشوں کی رات کو شکست ہوئی اور آپؐ کے عدل اور میزان کا سورج طلوع ہوا اور سورج بھی وہ جو قیامت تک کے لئے روشن اور قائم ہے۔ انسانیت کو وہ شرف اور سہارا بخشا جو اسے کسی شر کے آگے جھکنے نہیں دیتا۔ گرامی قدر غامدی صاحب بتاتے ہیں کہ آپﷺ کے شرف اور اعزاز کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو گی کہ اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں آپؐ کو اصل نام احمدؐ کے بجائے محمدؐ کے نام سے مخاطب کیا جو معنوی اعتبار سے لقب ہے۔ صرف سورۂ صف میں جہاں حضرت مسیحؑ کی بشارت آپؐ کے بارے میں نقل ہوئی ہے، اُس میں آپؐ کا نام احمدؐ آیا ہے۔ اس میں بھی کوئی دوسری بات نہیں کہ آپؐ کی شخصیت فقط ایک دن یا مہینے کی نہیں بلکہ ہر روز اور ہر لمحے کی ہے۔ انسانی زندگی کا وہ کو ن سا ایسا پہلو ہے جس کے بارے میں آپؐ نے اپنی سیرت و کردار سے قیامت تک کے لیے نمونہ بھی انسانیت کے لیے قیمتی اثاثے کی شکل میں نہ چھوڑا ہو۔ آپﷺ کے سوا ازل سے لے کر ابد تک کوئی شخصیت ایسی گزری ہے نہ آئے گی جس نے یہ کہا ہو کہ (اے قریشیو!) میں اس (دعویٰ نبوت) سے پہلے تمہارے درمیان ایک عمر رہا ہوں کیا تم نہیں سمجھتے۔ (سورہ یونس ۰۱/ ۶۱)۔ ویسے تو بطور مسلمان اور آپﷺ کا اُمتی ہونے کے ناتے ہمیں ہر وقت سیرت مبارکہ کو جاننے اور اس پر عمل کرتے رہنا چاہیے۔ بالکل اسی طرح جس طرح ہم رمضان کے مہینے میں اپنے رب سے عام دنوں کی نسبت زیادہ تعلق استوار کرتے ہیں اسی طرح ربیع الاول کے مہینے میں ہمیں چاہیے کہ سیرت کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگیوں کو اس روشنی سے منور کریں۔

سیرت مبارکہ پر ہر زبان میں کُتب کا ایک وسیع ذخیرہ ہے۔ اس حوالے سے سید سلمان ندوی کے خطبات کا مجموعہ ”خطبات مدراس“ کے عنوان سے شائع ہوا، کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے اور ذخیرہ سیرت میں اہم اضافہ ہے۔ سید سلیمان ندوی جو علامہ شبلی نعمانی کے شاگرد رشید تھے انہوں نے 1925ء میں جنوبی ہند کی ”اسلامی تعلیمی 

انجمن“ کی فرمائش پر سیرت نبویﷺ کے مختلف پہلوؤں پر آٹھ خطبات دیے تھے۔ خطبات کے موضوعات سیرۃ نبویﷺ کا تاریخی پہلو، سیرۃ نبویﷺ کی کاملیت، سیرۃ نبویﷺ کی جامعیت، سیرۃ نبویﷺ کی عملیت ہیں۔ خطبات میں بعض مقامات پر سیرۃ محمدیﷺ کا دوسرے انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرتوں سے موازنہ ہے۔ مثال کے طور پر حضرت عیسی علیہ السلام جب سولی پر چڑھتے ہیں تو بیتابانہ زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں کہ ”اے میرے خداوند! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا“۔ لیکن محمد رسول اللہﷺ جب موت کے بستر پر ہوتے ہیں اور زندگی کی آخری سانسیں لیتے ہوتے ہیں تو زبان پر یہ کلمہ ہوتا ہے ”اے میرے خداوند! اے میرے بہترین ساتھی“۔

آپﷺ کی سیرت کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ آپﷺ نے بہ حیثیت ایک پیغمبر کے اپنے پیروکاروں کو جو نصیحت فرمائی اس پر سب سے پہلے خود عمل کر کے دکھایا۔ آپﷺ کے شب و روز میں شاید ہی کوئی ایسا لمحہ ہو جب آپؐ کا دل خدا کی یاد سے اور آپؐ کی زبان ذکرِ خدا سے غافل ہوئی ہو۔ سید سلیمان بتاتے ہیں کہ ہم اوائل فروری 1924ء میں حجاز و مصر سے واپس آ رہے تھے، اتفاق سے مشہور شاعر ڈاکٹر ٹیگور بھی اسی جہاز میں امریکہ کے سفر سے واپس ہو رہے تھے۔ ایک رفیق نے ان سے سوال کیا کہ برہمو سماج کی ناکامی کا سبب کیا ہے؟ حالانکہ اس کے اصول بہت منصفانہ صلح کل کے تھے۔ اس کی تعلیم تھی کہ سارے مذہب سچے اور کُل مذہبوں کے بانی اچھے اور نیک لوگ تھے۔ اس میں عقل اور منطق کے خلاف کوئی چیز نہ تھی۔ وہ موجودہ تمدن، موجودہ فلسفے اور موجودہ حالات کو دیکھ کر بنایا گیا تھا، تاہم اس نے کامیابی حاصل نہ کی۔ فلسفی شاعر نے جواب دیا کہ یہ اس لیے ناکام ہوا کہ اس کے پیچھے کوئی شخصی زندگی اور عملی صورت نہ تھی جو ہماری توجہ کا مرکز بنتی۔ سید بتاتے ہیں کہ مذہب نبی کی سیرت اور عملی زندگی کے بغیر ناکام ہے۔ یہ آپﷺ کی سیرت کا ہی فیض ہے کہ مسلمانوں اور رومیوں میں جنگ ہے، صحابہ کرام فوج کے سپاہی ہیں۔ سپہ سالار ان مسلمان سپاہیوں کی حالت دیکھنے کے لیے اسلامی کیمپ میں چند جاسوس بھیجتا ہے۔ وہ یہاں آ کر اور مسلمانوں کی حالت دیکھ کر واپس جاتے ہیں تو سرتا پا اثر میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ وہ جا کر رومی سپہ سالار کو بتاتے ہیں کہ ”وہ راتوں کے راہب ہیں اور دن کے شہسوار“ یہی اسلام کی اصل زندگی ہے۔

دنیا کی موجود تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ایک مثالی مملکت کی تشکیل و قیام کے لیے فلسفیوں اور مذہبی مثالیت پسندوں نے ہر دور میں بحث کی ہے اور بعض عملی تخیل پرستوں نے ان مباحث کی روشنی میں ان خیالات کو عملی طور پر وجود میں لانے کی بھی کوششیں کی ہیں۔ سقراط و افلاطون سے لے کر ایچ جی ویلز نے تخیلیاتی مثالی ریاست کا نقشہ پیش کیا ہے۔ سقراط نے جہاں ریاست کا نقشہ پیش کیا وہاں ساتھ ہی اقرار بھی کیا کہ اس کا عملی نمونہ آسمانوں پر ہی بن سکتا ہے۔ لیکن یہ بات تاریخی حقیقت کا درجہ حاصل کر چکی ہے کہ رسول کریمﷺ کے علاوہ دنیا کے روحانی و سیاسی رہنماؤں میں سے کسی نے بھی اپنے خیالات و الہامات کی روشنی میں کسی مثالی مملکت کے قیام کے لیے کامیاب کوشش نہیں کی۔ آپﷺ کی ذات ہی وہ مدبرِ اعظم ہے جس نے قیامت تک کے لیے ایک مثالی مملکت کے سیاسی، معاشی، سماجی سمیت ہر شعبے کے لیے قابل عمل خاکے اور عملی نمونے اپنے اسوہ حسنہ کی شکل میں پیروی کے لیے چھوڑے ہیں۔ حضور اکرمﷺ نے ایسے نصب العینوں کو انسانیت کے سامنے پیش کیا جس میں انسانی فطرت اور کوتاہیوں کو سامنے رکھا گیا۔ آپﷺ نے مملکت کے قیام کے لیے انسانی زندگی کے ہر پہلو اور انسانی استعداد کو سامنے رکھا، جیسے کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان پر اسکی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔

مغرب میں آزادی ِرائے کے نام پر گستاخانہ خاکوں کا جو سلسلہ شروع ہے، ہر مسلمان کا غم و غصے کا اظہار کرنا فطری عمل ہے۔ ہمیں مغرب سے احتجاج بھی کرنا چاہیے اور ہر وہ حربہ بھی اختیار کرنا چاہیے جس سے اسے احساس ہو کہ مسلمانوں کے جذبات کی حساسیت اس باب میں کیا ہے۔ ایسے میں ضرورت ہے کہ آپﷺ کے اسوہ حسنہ کو عام کریں۔ جس کے لیے سب مؤثر ذریعہ ہمارا عمل ہے۔ ہم نے اپنے عمل سے ثابت کرنا ہے کہ ہم اس پیغمبر کی امت ہیں ہیں جو خدا کی حتمی ہدایت کا قیامت تک آخری ذریعہ ہیں۔ مغرب کے فتنہ باز اور گستاخ لاکھ کوشش کر لیں آپﷺ کی سیرت مبارکہ کا سورج قیامت تک روشن رہے گا۔

تجھ سے پہلے کا جو ماضی تھا ہزاروں کا سہی

اب جو تاحشر کا فردا ہے وہ تنہا تیرا


ای پیپر