ولی اللہ: کونسی حکومت ہو گی؟
29 اکتوبر 2020 (11:48) 2020-10-29

پرانے وقتوں کی بات ہے لوگ بڑے سادہ، سچے، سُچے اور کھرے تھے۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی تھے۔ یہ وفا اور محبت بھی شاید ان دنوں کی بات ہے جب مکان کچے اور لوگ سچے ہوا کرتے تھے۔ ہوا یوں ایک سادہ لوح شخص کی بیوی فوت ہو گئی، اس شخص کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے اور بڑی بیٹی کی عمر دس سال کے قریب تھی۔ وقت گزرتا گیا وہ سادہ لوح آدمی محنت مشقت سے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا رہا۔ اسی اثنا میں اس کی بڑی بیٹی سن بلوغت کو پہنچ گئی۔ ایک شام جب وہ کھانا کھا کر اکٹھے بیٹھے اور آپس میں باتیں کر نے لگے تو بیٹی کہنے لگی اباجی! کل ہم میں سے ایک شخص اس گھر میں نہیں ہو گا۔ اسی رات وہ لڑکی اپنے آشنا کے ساتھ فرار ہو گئی۔ صبح جب اس بات کا علم ہوا تو برادری اور محلے کے لوگ اس شخص سے افسوس کرنے اس کے گھر حاضر ہوئے۔ باری باری سبھی لوگ اس شخص سے اس ناگہانی صورت حال کا افسوس کرتے رہے۔ بعض لوگوں نے تو لڑکی کی خوب لعن طعن کی۔ ہر شخص نے اپنا نقطہ نظر مختلف زاویوں سے پیش کیا۔ خاندان والوں نے اپنے غصے کی خوب بھڑاس نکالی۔ وہ شخص بڑے صبر اور حوصلے سے لوگوں کی باتیں سنتا رہا۔ بالآخر وہ یوں گویا ہوا کام تو اس نے اچھا نہیں کیا مگر ”سور دی سور تھی ولی اللہ“ کل کہہ رہی تھی کہ ابا کل ہم  میں سے اس گھر میں ایک شخص نہیں ہو گا۔ دیکھ لیں اس کی بات پوری ہو گئی۔ یہ عوام بھی کس قدر ڈھیٹ ہے کسی بات پہ بھی کان نہیں دھرتی۔ عمران خان پچھلے سال سے سر پہ بازو رکھ کر یہ دہائی دے رہا تھا اے لوگوں مرغیاں پال لو اچھے رہو گے۔ کٹے پال لو خوشحال ہو جاؤ گے۔ اس وقت کسی نے عمران خان کے اس فلسفے کو نہ سمجھا بلکہ تمام عوام نے عمران خان کے اس بہترین مشورے کا مذاق اڑایا۔ اگر اس وقت مرغیاں پالی ہوتی تو انڈے ایک سو اسی روپے نہ خریدنے پڑتے۔ ابھی موسم سرما دور ہے اور ہم نے ابھی سے سوئے دشت بھاگنا شروع کر دیا ہے۔ یعنی 

سردیاں دور ہیں اور انڈوں کی قیمت نے آسمان سے باتیں کرنی شروع کر دی ہیں۔ ایک لیڈر بیک وقت ماہر نفسیات، ماہر قانون دان، ماہر معاشیات اور بہترین نباض بھی ہوتا ہے اور یہ ساری خوبیاں بدرجہ اتم ملک عزیز کے وزیراعظم میں شامل ہیں۔ ان کا نفسیاتی تجزیہ یہ ہے کہ ملک میں موجودہ مہنگائی سابقہ حکومتوں کی لوٹ مار کا شاخسانہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ غریب عوام پر ٹیکس کی شرح بڑھا کر اور عوام کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ نچوڑ کر ملک کی معیشت کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔ ان کی قانونی رائے کے مطابق تنخواہیں نہ بڑھا کر گردشی قرضوں میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ وہ عوام کی نباض کے ماہر اس وقت ہوئے جب انہوں نے عوام کو نئے پاکستان کی امید، روشن مستقبل کی آس، ایک کروڑ نوکریوں کا لالچ، پچاس لاکھ گھروں کاحوصلہ، مہنگائی کا بے قابو جن، بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی طرف عوام کی توجہ دلا کر خود کامیابی کے زینے پر چڑھ گئے خود تو زینے پر چڑھ گئے مگر عوام آس امید کی پہلی سیڑھی پر دو سالوں سے کھڑی ہے۔ بقول جاوید رامش 

ایک ڈسپرین ہی تو میری دسترس میں تھی

تو نے اسے میری پہنچ سے دور کر دیا

ایک گہرے گھنے اور سایہ دار درخت کی شاخ پر ایک چڑیا اور ایک چڑا بیٹھے ہوئے تھے۔ دور سے ایک انسان آتا دکھائی دیا۔ چڑیا نے چڑے سے کہا کہ اُڑ جاتے ہیں ورنہ یہ ہمیں مار دے گا۔ چڑا کہنے لگا ایسا کچھ بھی ممکن نہیں ہو گا۔ تم دیکھو ذرا اس کی دستار، اس کا پہناوا، اس کی شکل سے شرافت ٹپک رہی ہے۔ یہ ہمیں کیوں مارے گا۔ جب وہ قریب پہنچا تو اس شخص نے تیر کمان نکالی اور چڑا مار دیا۔ چڑیا فریاد لے کر بادشاہ وقت کے پاس حاضر ہو گئی۔ بادشاہ نے شکاری کو دربار میں طلب کیا اور اس کہانی کی بابت پوچھا، شکاری نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ بادشاہ نے چڑیا کو سزا کا اختیار دیا کہ جو چاہے سزا دے۔ چڑیا نے کہا کہ میں اسے معاف کرتی ہوں مگر اس کو ایک بات بتا دی کہ اگر یہ شکاری ہے تو لباس بھی شکاریوں والا پہنے اور شرافت کالبادہ اتار دے۔ اگر ہمارے وزیر مشیر اس قوم کے خیر خواہ اور خادم ہیں تو ہر غرور، تکبر کا نخوت، سطوت، پروٹوکول کا لبادہ اتار دیں اور غریب عوام کی خدمت پر اتر آئیں۔ اگر  ساتھی حکومتیں چور اور کرپٹ تھیں تو یہ ان کا وتیرہ چھوڑ دیں اگر سابق حکو متوں نے مہنگائی کے پہاڑ کھڑے کر دیئے تھے تو یہ حکومت اُن پہاروں کو زمین بوس کر دے اگر انہوں نے بیروزگاری کے بت کدے میں بت گاڑھے تھے تو یہ حکومت روزگار دے کر بیروزگاری کے وہ بت پاش پاش کر دے اگر سابق حکومت نے آئین اور قانون کی بالادستی نہیں کی تھی تو یہ حکومت اس لاء قانونیت کو ختم کر دے۔ اگر سابق حکومت نے آئی ایم ایف کی کڑی شرطیں مان کر قرضوں سے اپنے کشکول کو بھرا تھا۔ تو یہ حکومت اس کشکول کو ایسے توڑے جیسے لیلیٰ نے مجنوں کا کشکول اس کے قدموں میں مار کر توڑ دیا تھا۔ 

اگر سابق حکومتو ں نے اقربا پروری سے کام لیا تھا تو یہ حکومت ان وسائل کو عوام کے زیر استعمال میں لائے۔ اگر سابق حکومتوں نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے تعلیم ادارے، ہسپتال، سڑکیں کے چھان بین بجھائے تو یہ سارے کام موجودہ حکومت سر انجام دے۔ اگر یہ حکومت عوام کے خوابوں کی تکمیل اور ان کی امیدوں کے چراغ روشن کرتی ہے تو یہ حکومت ولی اللہ ہے کیونکہ عمران خان اور اس کی پارٹی پر جلسے میں یہ کہتی تھی کہ یہ چور اور کرپٹ ہیں۔ اگر موجودہ حکومت عوام کی امیدوں کے سارے چراغ گل کر دیتی ہے تو سابق حکومتیں ولی اللہ ہیں کیونکہ وہ کہتی تھیں کہ سیاست ان کے بس کا روگ نہیں ہے۔ حکومت ان کے بس کا روگ نہیں ہے۔ یہ عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔ یہ عوام کو محض طفل تسلیاں دے رہے ہیں۔ اب ولی اللہ کون ہے یہ فیصلہ موجودہ حکومت کرے گی۔


ای پیپر