خاکے اور دھماکے آپکو پتہ ہے؟ 
29 اکتوبر 2020 2020-10-29

 قارئین کرام آج کل کا ایران کسی زمانے میں فرانس اور امریکہ کی طرح ایک مستند عالمی طاقت رکھنے والا ملک تھا۔ اس کو فارس بھی کہا جاتا تھا‘ اس وقت کبھی سلطنت ایران کے شہنشاہ کا نام پرویز کسریٰ تھا‘ پرویز اپنی طاقت کے زعم میں کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتاتھا۔ خداوند جبار و قہار کی مصلحت کہ اس دور میں شہنشاہ کون و مکان اصلی اور ابدی حکمران کائنات و کل جہان جس کا احترام عقیدت اور ادب رہتی دنیا تک روزافروں بڑھتا ہی رہے گا۔ محبوب خدا اور شمع رسالت کے پروانوں کا جذبہ بھی اپنے اوج کمال تک پہنچ کر ہی رہے گا۔

حضور نے کفر و الحاد میں مبتلا تشخیص کو خواہ وہ بادشاہ تھا‘ خواہ مفلس تھا‘ یا فقیر ان کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وحدانیت کا پیغام پہنچانے کا فریضہ‘ دنیا میں اس خوبی اور احسن طریقے سے انجام دیا‘ کہ خود اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو یہ فرمانا پڑا کہ تمہارے پاس تم ہی سے ایک پیغمبر تشریف لائے ہیں‘ تم کو جو تکلیف پہنچتی ہے ان کو بہت گراں گزرتی ہے‘ اور وہ تمہاری بھلائی کے لئے حد سے زیادہ گراں گزرتی ہے۔ وہ تمہاری بھلائی کے لئے بہت زیادہ خواہش مند رہتے ہیں پوری انسانیت کی بھلائی کے لئے کیونکہ وہ مشرقین اور مغربین کے لئے مبعوث کئے گئے تھے۔ لہٰذا آپ نے اس وقت بدطنیت‘ بمثال مودی ‘ پرویز کسریٰ کے نام خط کی شکل میں اپنے صحابی کے ہاتھ نامہ رسالت بھیجا مگر کبرونخوت کے مارے نے چند گستاخانہ کلمے ادا کرنے کے بعد معاذاللہ خط کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔ حضور کے پاس جب یہ اطلاع پہنچی تو آپ نے فرمایا آج کے بعد کوئی پرویز کسریٰ پیدا نہیں ہو گا اور میرے خط کی طرح اس عظیم الشان سلطنت کے بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ خسرو پرویز بادشاہت کا اس قدر شوقین تھا کہ وہ اقتدار سے ہٹنے کا سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔

آخرکار اس کے اپنے ہی بیٹے نے اسے بہیمانہ انداز میں قتل کر دیا‘ اور قتل کرنے کے بعد باپ کی چیزوں کی تلاشی لئی تو الماریوں میں مقفل ڈبوں میں اسے معجون کی شیشی ملی‘ جس پر لکھا تھا کہ یہ طاقت کی دوائی ہے اس کے بیٹے نے فوراً وہ دوائی کھالی تو صبح تک خدا نے اسے بھی فارغ کرکے جہنم رسیدکر دیا۔

پرویز دنیا کا وہ مقتول تھا کہ جس نے اپنے قتل کا بدلہ اپنی اولاد سے لیا‘ اور اس طرح سے آپ کے خیال وجد آفرین کے عین مطابق اس عظیم سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ اسی طرح ایک اور گستاخ ناموس رسالت عبداللہ بن خطلجو جو شاعری میں گستاخی کا مرتکب ہوتاتھا آپ نے حکم دیا تھا کہ کوئی صحابی اسے قتل کر دے‘ اور فرمایا تھا کہ گستاخ رسول کا مارنا جائز ہے اور اس طرح سے اسے بھی جہنم رسید کر دیا گیا‘ خدا کے محبوب جن کو خود اللہ تعالیٰ پیار سے مخاطب کرتا ہے‘ اور پیارسے نام لیتا ہے وہ کیونکر برداشت کر سکتا ہے کہ کوئی بدطینت ان کے محبوب اور پیارے نبی کی گستاخی کا مرتکب ہو‘ قرآن پاک میں مسلمانوںکو ادب و احترام اور آہستہ آہستہ آواز سے حضور کو مخاطب کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔ اس بات سے اندازہ لگائیے کہ پوری دنیا کی کمائی‘ نیکی‘ اعمال اور ریاضت ایک طرح اور ہلکی سی آواز بھی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز مبارک سے بلند ہو گئی تک تمام نیکیاں‘ اعمال‘ و مجاہدات سلب کر دیئے جاتے ہیں اور انسان کو پتہ ہی نہیں ہوتا مومن تو کسی اور بھی مذہب اور تہذیب کے نبی کے بارے میں کسی بھی قسم کی گستاخی کا سوچ بھی نہیں سکتا‘ اور جب تک وہ تمام انبیاءپر ایمان نہ لائے ان کا ایمان مکمل ہی نہیں ہوسکتا‘ اور یہی وجہ ہے کہ حضور کی آمد کے بعد سے لے کر آج تک کسی مسلمان نے کسی بھی پیغمبر یا نبی کے بارے میں معاذاللہ نہ تو گستاخی کی ہے اور نہ یہ کسی قسم کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں‘ جبکہ عیسائیت تو ایک ایسا مذہب ہے کہ جسکی اپنی کتاب میں حضور کے بارے میں واضح اشارات اور نشانیاں ملتی ہیں‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر شام کے بارے میں جب حضور چھوٹے تھے تو عیسائی پادری نے تمام نشانیاں دیکھ کر آپکو پہچان لیا تھا اور حضرت حسینؓ کے سر مبارک کو جب ظالم یزید کے دربار میں لے جا رہے تھے تو عیسائی پادری کا عقیدت و احترام سے ساتھ سر مبارک کو دھونا‘ خوشبو لگانا اور زرخطیر خرچ کر کے ایک رات کے لئے اپنے پاس رکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ عیسائیوں کو ہمارے انبیاءکے بارے میں مکمل نہ سہی کسی حد تک علم اور آگہی ضرور حاصل ہے لیکن اس کے باوجود خاکوں‘ کارٹونوں اور رشدی ملعون سے لے کر تسلیمہ نسرین اور اب فرانس کے صدر میکرون کے پیچھے جو منظم لابی کام کر رہی ہے وہ اب پاکستان تک بھی آ پہنچی ہے‘ اور اب غیرمحسوس طریقے سے مصروف عمل ہے مگر خدا کی لاٹھی بے آواز ہے اس کے آگے کسی کا مکروفریب کام نہیں کرتا‘ اپنا محبوب کسے پیارا نہیں ہوتا‘ بقول اشفاق احمد صاحب کے بابا نوردین کے کہ دنیاوی محبوب اس کو کہتے ہیں کہ جس کا غلط بھی اچھا لگے لیکن وہ ہستی تو خالق کائنات کی محبوب ہستی ہے‘ کہ جسکا سونا‘ بیٹھنا‘ اٹھنا‘ کھانا‘ پینا حتیٰ کہ زبان مبارک سے کوئی لفظ بھی خدا کی مرضی کے بغیر نہیں نکلتا تھا تو پھر خالق کس طرح سے برداشت کر سکتا ہے کہ کوئی خاکی اور فانی محبوب لافانی اور لاثانی کے خلاف گستاخی کی جرا¿ت کرے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جلد یا بدیر اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے کسی دوست اور ولی کا بدلہ لیتاہے‘ ڈنمارک کے لعین کارٹونسٹ کا بدترین انجام‘ کیونکہ وہ گھر کو آگ لگ جانے سے مر گیا تھا دنیا کے سامنے ہے اور اب حال ہی میں بابری مسجد کو منہدم کرنے والے ملعون افراد کا فرداً فرداً بدترین خاتمہ‘ اور کئیوں کا قبول اسلام کر لینا‘ آخر کس بات کا عکاس ہے؟ (جاری ہے)


ای پیپر