ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں…!
29 اکتوبر 2019 2019-10-29

عیسوی سال کے آخری چار مہینوں کے نام ایسے ہیں جن کے آخر میں "بر" کا لاحقہ آتا ہے ۔ میرا اشارہ ستمبر ، اکتوبر، نومبر اور دسمبر کی طرف ہے ۔ "بر "کے ساتھ" گر" کے لفظ کوجو ستم گر میں بطور لاحقہ موجود ہے ہم آواز یا ہم قافیہ لفظ کے طور پر جوڑا جا سکتا ہے ۔ گویا ستمبر، اکتوبر، نومبر ، دسمبر اور ستم گر ایسے الفاظ ہیں جوبر اور گر کا قافیہ مشترک ہونے کی وجہ سے آپس میں جوڑے جا سکتے ہیں ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں کب سے دسمبر کو ستم گر کہا اور سمجھا جا رہا ہے ۔ "دسمبر " کی ستم گر حیثیت اس وجہ سے بھی سمجھی جاتی ہے کہ اس ماہ کے دوران پاکستان کو اپنی تاریخ کے انتہائی المناک واقعات ، حادثات اور سانحات کا سامنا کرنا پڑا۔ 16دسمبر 1971کو سقوط ڈھاکہ کا المناک واقعہ پیش آیا تو ٹھیک تینتالیس برس بعد 16دسمبر 2014کو آرمی پبلک سکول و کالج پشاور کا انتہائی دلدوز ، المناک اور افسوس ناک سانحہ پیش آیا جس میں سکول کی مختلف کلاسسز میں زیر تعلیم تقریباً 130 معصوم طلباء کے ساتھ اساتذہ اور سٹاف کے دیگر ارکان کو ملا کر 150کے لگ بھگ افراد کی قیمتی جانیں دہشت گردی کی ظالمانہ ، سفاکانہ اور انتہائی شرمناک اور افسوسناک وردات کا نشانہ بنیں ۔ تحریک طالبانِ پاکستان کے دہشت گردوں نے اس المناک سانحہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دیا تو پوری پاکستانی قوم پانچ برس گزرنے کے باوجود آج تک اس المناک سانحہ کے رنج و غم کو بُھلا نہیں سکی لیکن جو کہا گیا ہے کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا تو یہ کچھ ایسا غلط نہیں کہ قربانیوں ، آزمائشوں اور صعوبتوں کے نتیجے میں ہی قوموں اور افراد کو نئی زندگی اور نیا رنگ و روپ ملتا ہے ۔ خیر بات کچھ دور نکل گئی اور شاید سیاق و سباق سے بھی کچھ ہٹ گئی ۔کہنا یہ تھا کہ اب جب اکتوبر کا مہینہ اختتام پذیر اور نومبر کا مہینہ شروع ہونے والا ہے تو کیا پاکستان میں کوئی بڑی تبدیلی یا حکومتی سطح پر کوئی تغیر و تبدل رونما ہونے والا ہے یا رونما ہو سکتا ہے ؟ کیا کچھ حلقوں کے لیے دسمبر کے علاوہ اکتوبر اور نومبر کے مہینے بھی ستم گر ثابت ہو سکتے ہیں ؟ کیا مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ جس کے لیے انہیں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی جیسی اپوزیشن کی بڑی سیاسی جماعتوں سمیت اور کچھ دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت و تائید حاصل ہے نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہوئے وزیر اعظم جناب عمران خان کے استعفے پر منتج ہو سکتا ہے ؟

اتوار 27اکتوبر کو مولانا فضل الرحمٰن کا آزادی مارچ کراچی سے شروع ہو چکا ہے ۔ سہراب گوٹھ کراچی سے اس آزادی مارچ کے آغاز پر بلاشبہ عوام کا جم غفیر ہی موجود نہیں تھا بلکہ آزادی مارچ میں شریک افراد کی تعداد بھی انتہائی متاثر کن تھی۔ الیکڑونک اور پرنٹ میڈیا بالخصوص الیکڑونک میڈیا اس آزادی مارچ کو کتنی کوریج دیتا ہے یا دے رہا ہے اس بارے میں سچی بات ہے میں اپنے کم تر وسائل اور انتہائی محدود ذرائع معلومات کی بنا پر زیادہ ٹھوس اور واضح بات نہیں کر سکتا اس لیے کہ میرے گھر میں زیادہ سے زیادہ پاکستان ٹیلی وژن کی نشریات دیکھی اور سنی جا سکتی ہیں یا پھر مجھے روزنامہ"نئی بات" اور دو دوسرے بڑے قومی روزناموں کے پڑھنے کا ہی موقع ملتا ہے تاہم میں اپنی سوچ ، فکر، وژن اور زندگی بھر کے ٹھوس مشاہدات اورتاریخ پاکستان کے ایک طالب علم اور پاکستان کی سیاسی تحریکوں کے ایک عینی شاہد ہونے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمان کا یہ مارچ متاثر کن ہی نہیں نتیجہ خیز بھی ثابت ہوگا۔ اس کے نتیجے میں کوئی بڑی تبدیلی یا حکومت میں کوئی تبدیلی رونما ہوتی ہے یا نہیں اس سے قطع نظر موجودہ حکمرانوں اور مقتدر حلقوں کے رویوں اور انداز فکر و نظر میں تبدیلی ضرور سامنے آئے گی۔ اس کے ساتھ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں ، مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی بالخصوص مسلم لیگ ن کو نئی تقویت بھی حاصل ہوگی۔ ایک بات بڑی واضح ہے کہ مولانا فضل الرحما ن اور ان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے خلاف جو منفی پروپیگنڈہ کیا گیا ہے یا کیا جا رہا ہے اس کو بہر کیف و ہ پذیرائی نہیں مل سکی جو مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مخالفین چاہتے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان سیاست کے ایک ایسے منجھے ہوئے آزمودہ اور سرد و گرم چشیدہ کردار ہیں جن کو دینی حلقوں بالخصوص مسلک دیوبند کے دینی مدارس میں ایک مضبوط اور ٹھوس مقام حاصل ہے ۔ آج تک ان کی قیادت و سیادت کے خلاف جتنی بھی کوششیں ہوئیں وہ کامیاب ثابت نہیں ہو سکیں۔ جمعیت علمائے اسلام میں نئے دھڑے وجود میں لانے کی بات ہو یا حضرت مولانا عبداللہ درخواستی جیسی نیک نام مگر خاموش دینی شخصیت یا مولانا سمیع الحق مرحوم جیسی قد آور شخصیت کو جمعیت علمائے اسلام کی قیادت کا تاج پہننانے کی کوششیں ہوں وہ ایک محدود دائرہ اثر سے آگے نہیں بڑھ سکیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دیوبند مسلک کے مدارس کی تنظیم وفاق المدارس اور اس سے ملحقہ دینی مدرسے مولانا فضل الرحمان کا مضبوط گڑ ہیں۔ ان مدارس کے منتظمین ، معلمین ، متوسلین اور طلباء مولانا فضل الرحمان کا دست و بازو اور یمین و یسار ہیں۔ ان میں مولانا فضل الرحمان کے مقابلے میں کسی اور شخصیت خواہ وہ دینی لحاظ سے کتنی ہی بلند مقام کی مالک کیوں نہ ہو کا چراغ جلنا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے ۔ حضرت مولانا طارق جمیل کا تبلیغی جماعت میں بڑا مقام اور مرتبہ ہے وہ انتہائی متحرک شخصیت کے مالک ہیں اور تبلیغی جماعت کے دیگر اکابرین جو اپنے آپ کو سیاسی معاملات سے دور رکھتے ہیں کے مقابلے میں سیاسی معاملات کے بارے میں بھی کبھی کبھار خیال آرائی کرتے رہتے ہیں۔ وہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ اور اسلام آباد میں مجوزہ دھرنے کے بارے میں کچھ بھی کہیں یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ تبلیغی جماعت کے قافلوں میں اکثریت جمعیت علمائے اسلام سے منسلک مولانا فضل الرحمان کی پیروکاروں کی ہی ہوتی ہے ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اگر متحدہ علماء کونسل کے ضخیم جثے کے مالک حضرت مولانا طاہر اشرفی کی پیٹھ ٹھونک کر انہیں مولانا فضل الرحمان کے مقابلے میں لا کر دینی حلقوں کو مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے دور رکھنے کی کوشش کرتی ہے یا دیوبند مسلک کے مخالف مسالک کے علماء سے اپنی قربت کا اظہار کرکے انہیں اس "نیک مقصد" پر آمادہ کرتی ہے تو اس میں حکومت کو کامیابی کی بجائے منہ کی کھانی پڑے گی۔

31اکتوبر کو اس مارچ کی منزل اسلام آباد ہوگی۔ اس دوران خیبر پختون خواہ اور پنجاب کے دیگر شہروں و مقامات سے بھی آزادی مارچ کے قافلے جمعیت علمائے اسلام کی دوسرے اور تیسرے درجے کی لیڈر شپ کی قیادت میں اسلام آبادکے H-9 سیکٹر میں پشاور موڑ کا رخ کر چکے ہونگے۔ پنجاب اور خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومتیں اور اسلام آباد کی وفاقی حکومت ان قافلوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتی تو بغیر کسی بڑی خرابی اور بد مزگی کے یہ قافلے اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں لیکن بد قسمتی سے حکومت کے ارادے اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔

آزادی مارچ اور اسلام آباد میں مجوزہ دھرنے سے کیا حاصل ہوگا اپوزیشن جماعتیں بالخصوص جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان وزیر اعظم عمران خان کے مستعفی ہونے کے مطالبے کو پورا کروانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا وہ وزیر اعظم عمران خان سے استعفیٰ لینے سے کم کسی مطالبے پر راضی ہو جاتے ہیں اس بارے میں تا دم تحریر واضح طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن کچھ برسرِ زمین حقائق اور ان کے سیاق و سباق کو سامنے رکھا جائے تو شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ آزادی مارچ اورمجوزہ دھرنے کے نتیجے میں کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور آکر رہے گی۔


ای پیپر