اردوکے خزانے …ماریشس میں
29 اکتوبر 2019 2019-10-29

ماریشس بحر ہند میں واقع ایک چھوٹا جزیرہ ہے۔ ۷۲۰ مربع کلومیٹر کے اس جزیرے میں ایک درجن سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ماریشس میں اردو کی موجودگی اٹھارویں صدی کے آخری دہے سے بتائی جاتی ہے اور اس کا ثبوت یہاں کی الاقصیٰ مسجد میں پائی جانے والی ایک قبر کا اردو کتبہ ہے، یہ مسجد انیسویں صدی کے آغاز یعنی ۱۸۰۵ء میں تعمیر ہوئی تھی۔

اہل وطن کے لیے یہ بات خوش کن ہوگی کہ یہاں اردو زبان و ادب کا اچھا خاصا ماحول ہے لیکن بدقسمتی سے ہماری حکومتیں اس ماحول سے کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھا سکی ہیں جب کہ ہمارے پڑوسی ملک کی جانب سے یہاں اردو کے فروغ و ترقی کے لیے غیر معمولی طور پر اہتمام کیاجاتاہے ۔سبب جو بھی ہو ایک درجن سے زیادہ زبانوں کے ہجوم میں اردو کا اپنا مقام بنا لینا قابلِ داد بات ہے اگرچہ بعض حلقے یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ ماریشس میں عام طور سے بولی جانے والی ’’کریول‘‘ کے قومی زبان کا درجہ پالینے سے اردو کے مستقبل کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ جب یہاں فرانسیسی آئے تو اپنی زبان بھی ساتھ لائے تھے۔ فرانسیسی تو چلے گئے لیکن ان کی زبان نے بھوجپوری کے ساتھ مل کر ایک نئی شکل اختیار کرلی۔ اردو انگریزی تامل اور تیلگو نے بھی اس نئی زبان کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالا جسے اب ’’کریول‘‘ کہاجاتا ہے اور یہی اب یہاں کی مقامی زبان ہے لیکن راقم الحروف کا خیال ہے کہ اردو کی داخلی قوت اسے زندہ رکھے گی ۔اس کا اظہار ایک تو یہاں اردو سے محبت کرنے والوں کی ایک بڑی تعدادسے ہوتا ہے دوسرے ان اد اروں اور اخبارات و جرائد سے جو خود کو اردو کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں ۔

یہاں اردو زبان کی مطبوعات اس سطح پر پہنچ گئی ہیں کہ کچھ عرصہ قبل ماریشس کا پہلا اردو ناول بھی شائع ہوگیا ہے جس کانام اپنی زمینہے۔ مصنف عنایت حسین عیدن ہیں ۔ عنایت حسین صاحب کی کچھ اور کتابیں بھی دیکھنے کا موقع ملا۔

ماریشس میں افسانوی ادب کے حوالے سے عنایت حسین عیدن صاحب اس سے پہلے بھی اپنی تخلیقات پیش کرچکے ہیں۔ بھوجپوری کے اردو سے اختلاط کے ساتھ ہی ماریشس میں اردو ناٹک کا بھی آغاز ہوگیا تھا ۔گذشتہ صدی کی دوسری اور تیسری دہائیوں میں ہندوستانی تھیئٹریکل کمپنیوں نے ماریشس میں ڈرامے اسٹیج کیے جس کے بعد ماریشس میں اپنی تھیئٹریکل کمپنیاں وجود میں آئیں جن کا سحر اس وقت تک جاری رہا جب فلم نے تھیئٹر کی بساط لپیٹ دی تاہم یہ روایت جاتے جاتے بھی اپنے آثار یادگار چھوڑ گئی۔ ۱۹۷۲ء میں ماریشس میں یوتھ ڈراما فیسٹول منایاگیا جس کے بعد اردو ڈرامے کی جانب ازسرِ نو توجہ ہوئی اور خوابیدہ اسٹیج نے بھی ایک بار پھر انگڑائی لی۔ ڈرامے اور اسٹیج کی دنیا میں پاکستانی ڈرامے نے اپنا جادو جگایا لیکن جلد ہی مقامی معاشرت کے تقاضوں نے مقامی ڈراموں کی ضرورت کااحساس اجاگر کیا۔ اس ضرورت نے عنایت حسین عیدن کے قلم کے لیے مہمیز کاکام کیااور انھوںنے متعدد ڈرامے تحریری کیے۔’’ زندہ گزٹ‘‘ ان کا ایک مشہور ڈراما ہے،’’زندہ گزٹ‘‘ کے ساتھ ان کے ’’شستہ اور صحت مند تفریح‘‘ فراہم کرنے والے دیگر ڈراموں کو ملا کر ان کے ڈراموں کا ایک مجموعہ شائع ہوچکا ہے جس کے کردار بقول مصنف وہ زبان بولتے ہیں ’’جوماریشس میں بولی جاتی ہے‘‘ مصنف نے اردو سے اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

میں اہل زبان نہیں ہوں لیکن اردو میرے وجود کا ایک اہم حصہ ہے ماریشس میں ہمارا سابقہ کئی زبانوں سے بیک وقت ہوتاہے انگریزی سرکاری زبان ہے تمام اخبارات فرانسیسی زبان میں شائع ہوتے ہیں۔ عوام میں رابطے کی زبان کریولی اور بھوجپوری ہے۔ اردو زبان مسلمانوں کی آبائی زبان مانی جاتی ہے اور اس کی درس و تدریس کا انتظام اسکولوں میںہے۔ لوگ بڑی حد تک اردو سمجھ لیتے ہیں اورضرورت پڑنے پر اسے بول بھی لیتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں مقامی لفظوں کا بھی استعمال اردو زبان میں ہوجاتا ہے۔

ماریشس کی اردو دنیا میں عیدن صاحب کی کچھ اور خدمات بھی ہیں جن میں میر تقی میر کی غزلوں کا ایک انتخاب اور انگریزی ترجمہ و تعارف اور Urdu Studies in Mauritius شامل ہیں۔ اپنی زمین کا موضوع ان مزدوروں کی زندگی ہے جنھیں انگریز گنے کے کھیتوں میں کام کرنے کے لیے ہندوستان سے جہاز وں میں بھر کر لے گئے تھے۔ ناول کا مرکزی کردار الیاس اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک نئی زندگی اور نئے معاشرے کی بنیاد ڈالتا ہے۔ اس کا عزم، ہمت اور زندگی کو تسخیر کرنے کی تمنا اسے بالآخرایک نئی دنیا تشکیل دینے میں کامیاب کردیتے ہیں۔ وہ بھی دوسرے بہت سے مزدوروں کی طرح کا ایک مزدور ہے لیکن وہ زندگی کو اپنی نظر سے دیکھتا ہے اور کامیاب رہتا ہے۔ مصنف نے ناول کی تصنیف کے لیے مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ میں محفوظ ریکارڈزسے تلاش کردہ تاریخی سچائیوں کے گرد افسانوی تانے بانے بن کر یہ بیانیہ تیار کیا ہے ۔اوربقول مصنف:

چونکہ اس ناول کو تارکین وطن کی نسل کے ایک نمائندے نے لکھا ہے اس لیے اس میں آپ بیتی کا انداز بھی شامل ہوگیا ہے

تاہم یہ ناول ماریشس کی اس نسل کی داستان نہیں ہے جس نے اوّل اوّل ماریشس کی بے آباد سرزمین کو زندگی عطا کی تھی۔یہ ماریشس میں آکر پہلے سے جاری زندگی کو آگے بڑھانے والی نسل کی کہانی ہے۔ زبان و بیان کا معیار بہت اچھا نہیں لیکن بہت برا بھی نہیں البتہ باربار فرانسیسی عبارات، کہانی کے تسلسل میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔ اگر مصنف ان کی جگہ بھی اردو ہی لکھتے تو عبارت زیادہ رواں ہوجاتی۔ اس ناول کااجرا غالب اکادمی دہلی میں کیاگیااوراس تصنیف پر اردو اسپیکنگ یونین ماریشس کی جانب سے مصنف کو ۲۰۱۱ء کا امتیازِ اردو ایوارڈ دیا گیا ہے۔

ماریشس میں اردو کے حوالے سے احمد عبداللہ احمد صاحب (پ ۱۹۲۸ء)کانام بھی اہم ہے، ایک اردو تصنیف چند تقریریں چند تحریریںبھی ان سے یادگار ہے۔ یہ مختصرکتاب ۱۹۹۶ء میں ماریشس سے شائع کی گئی اگرچہ اس کی طباعت لاہور ہی میں ہوئی ہے۔ دیباچہ رضا علی عابدی صاحب کا لکھا ہو اہے اور کتاب میں صاحب کتاب کی مختلف کانفرنسوں مثلاً عالمی اردو کانفرنس، غالب کانفرنس، شام غزل اور میلادالنبیؐوغیرہ موضوعات پر کی گئی تقریریں اور ہندوستان سے ماریشس آنے کا ایک روزنامچہ، اقبال پر ایک مضمون، ایک غزل اور دو نظمیں شامل ہیں ۔سادہ سی کتاب ہے سادہ سی تحریریں۔ آخر میں مصنف کی تصویریں البتہ رنگین ہیں۔ عبدالوہاب فونڈن صاحب (۱۹۱۱ء–۱۹۹۰ء)بھی ماریشس کے ایک اردو مصنف ہیں انھوںنے فرانسیسی مصنف Jacques-Henri Bernardin de Saint-Pierre (۱۷۳۷ء–۱۸۱۴ء) کے افسانے ’’Paul et Virginie‘‘ ( ’’پال اور ورجنی‘‘) کو اردو میں منتقل کیا یہ افسانہ پہلی بار ۱۷۸۸ء میں فرانس سے شائع ہوا تھاجس کے متعدد زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں ، انگریزی اور ہندی بھی ان زبانوں میں شامل ہیں۔ فونڈن صاحب کا اردو ترجمہ ان کی کتاب اور کارواں بڑھتا گیا میں شامل ہے۔ جزیرہ ماریشس میں ایک نئی تحریک کی کہانی بھی ان کی ایک تصنیف ہے لیکن یہ ہمیںدیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ (جاری ہے)


ای پیپر