عربی ، عربی دانی اور قرآن فہمی
29 اکتوبر 2019 2019-10-29

گزشتہ دنوں لمز یونیورسٹی میں طلبا سے مخاطب ہونے کا موقع ملا، یہ طلبا ایک عربی کورس مکمل کرنے کے اختتامی مرحلے میں تھے، ابتدائی کلمات کے بعد سوال و جواب کی نشست رہی ، سوچا کہ اس گفتگو کو تحریری شکل دے کر اپنے قارئین کی خدمت میں بھی پیش کر دیا جائے۔ عزیزان گرامی ! خالقِ ارض و سما جو کل عالمین کا رب ہے ، جو اوّل البشر تا سید البشرؐ تمام انبیا ورسل کو مبعوث کرنے والا ہے، جس نے خاتم النبینؐ کو تمام عالمین کیلئے رحمت بنا کر بھیجا، کامل و اکمل پیغام ہدایت و حیات کے ساتھ بھیجا ، اور اس ارفع شان کے ساتھ بھیجا کہ اب قیامت تک نہ تو کسی الہامی کتاب کی ضروت ہے اور نہ ہی کسی نبی اور رسول کی۔ قرآن آخری الہامی کتاب ہے اور رسول عربی ؐ اللہ کے آخری نبی اور رسول۔ یہ کتاب بھی آخری کتابِ ہدایت … اور جس ذاتِ اقدسؐ پر یہ کتاب نازل ہوئی ‘وہ بھی آخری نبی ؐ اور رسول!!

قرآن کریم میں ارشاد باری ہے کہ ہم نے قرآن کو عربی میں نازل کیا، عربی کے ایک معنی تو عربی زبان کے ہیں اور ایک معنی صاف اور واضح زبان کے بھی ہیں۔ خالقِ کائنات کی یہ سنت رہی کہ وہ ایک امر سے بہت سے کام لے لیتا ہے۔ مثلاً کان سے ایک کام لیا گیا سماعت کا، لیکن ایک کام توازن کی درستگی کا بھی لیا جاتا ہے، میڈیکل کے شعبے کے لوگ بخوبی واقف ہیں، ناک کے بانسے سے سونگھنے کا کام بھی لیا گیا او ر ہوا کو صاف اور نمدار کرنے کاکام بھی اسے سونپا گیا ہے۔ علیٰ ھٰذاالقیاس! عربی میں قرآن نازل کرنے میں ایک حکمت تو یہ طے پائی کہ ایسی فصیح زبان ہی اس کے شایان شان تھی کہ مالک کائنات اس زبان میں اپنے رسولِ مکی و مدنی العربیؐ سے بلا واسطہ مخاطب ہوتا، اور پھر بالواسطہ باقی تمام انسانوں سے۔ جبریل کا واسطہ جبریل کا خالق جانے یا پھر گھر کا وہ مالک جس کی اجازت کے بغیر وہ حجرہ ٔاقدس میں قدم رکھنا تو کجا‘ پربھی نہیں مار سکتا۔

ع جبریل سا فرشتہ ہے‘ بردہ حضورؐ کا

جبریل ہمارا مشاہدہ نہیں، جبریل بھی ایسی ہی اطلاع غیب ہے جیسی قرآن اور قرآن بھیجنے والی ذات ۔ ہمیں رسولِ پاک ؐسے اللہ کریم کی جو بات قرآن کے طور پر وصول ہوئی‘ وہ ہمارے لیے قرآن ہے ، اللہ رب العزت کی وہ بات جو حدیث ِ قدسی کے طور پر براہِ راست ‘ بغیر جبریل کے واسطے کے ‘ موصول ہوئی ’’لی مع اللہ وقت‘‘ کے تحت اُمت کیلئے وہ بات بھی عین اللہ کی بات ہے۔اُس حکیم و علیم ذات نے قرآن بڑی حکمت کے ساتھ نازل کیا ہے۔ عربی زبان میں قرآن نازل ہونے میں بڑی حکمتیں ہیں، ایک یہ کہ زبان فصیح ترین ہے، زیادہ سے زیادہ معانی کی ترسیل کم سے کم الفاظ میں ممکن ہے، دوسرا یہ کہ قرآن کے اوّل مخاطب مکہ کے عرب تھے، انہیں اپنی زبان کی فصاحت و بلاغت کا بھرپور ادراک تھا، باقی زبانوں کے ساتھ تقابل میں وہ کسی اور زبان کو عربی کے ہم پلہ نہ پاتے، اس لیے وہ عربی کے علاوہ ہر دوسری زبان بولنے والے کوعجمی( گونگا )بولتے۔ عربی زبان میں قرآن کا نزول اب عرب و عجم کیلئے رہتی دنیا تک ایک جائے امتحان بھی قرار پایا۔ عربی میں ایک ہی لفظ کے معانی تعلق ، موقع محل اور سیاق و سباق کے مطابق اتنے زیادہ مختلف ہوتے ہیں کہ بسا اوقات متضاد معانی بھی ایک لفظ میں سمٹ جاتے ہیں۔ مثلاً لفظ ’’حرام‘‘ کے معانی مقدس بھی ہیں اور ممنوع بھی۔ لفظ ’’ضالاً‘‘ کے معانی گمراہ بھی ہے ، اور تنہا اکیلا ، اور تلاش میں سرگراں بھی پائے گئے۔ محض زیر زبر کے فرق کے ساتھ معانی زیر و زبر ہو جائے ہیں… مِثلُکم کے معانی اور ہیں اور مَثَلکم کے معانی اور … زیر کے ساتھ مثل سے مراد ایسی ایک جیسی چیز ہے جس کی ہیت تو مشابہ ہو لیکن جنس ایک جیسی نہ ہو، جبکہ میم پر زبر کے ساتھ مثل کے معانی عین ہم جنس اشیا ہیں ‘جو ایک دوسرے کے مشابہ ہوں۔ مثلاً ایک سونے کے کرسی ہو اور دوسری ہم شکل لکڑی کی کرسی کے متعلق کہیں گے کہ یہ کرسی اس کی مِثل ہے ، جبکہ دونوں کرسیاں لکڑی کی ہوں گی تو انہیں کہا جائے گا کہ وہ ایک دوسرے کی مَثَل ہیں۔ صرف زیر اور زبر ہی نہیں بلکہ بے ادب ادائیگی اور تلفظ بھی معنی میں خلل ڈال دیتے ہیں، چنانچہ کہا گیا کہ رسولِ مکرم ؐکو مخاطب کرنے کیلئے ’’راعنا‘‘ ( ہماری طرف دیکھئے) نہ کہو، بلکہ ’’انظرنا‘‘ ( ہماری طرف نظر کیجیے) کہو، کہ اہل یہود لفظ ’’راعنا ‘‘کو اِس تلفظ کے ساتھ بولتے تھے کہ ادب کے منافی تھا۔ گویا رسول اللہ ؐ سے کرم کی نظر طلب کرنے کی تعلیم و ترغیب خود اللہ نے دی ہے۔ آپؐ سے نظر ِ کرم بھی طلب کی جاتی ہے اور مغفرت اور شفاعت بھی طلب کی جاتی ہے ، اور آج تک طلب کی جاتی ہے۔ قرآن کی کوئی آیت منسوخ العمل نہیں ہوئی، ہر آیت تا قیامت نافذ العمل ہے۔ روضہ ٔرسولؐ پر آج بھی یہ آیت منقش ہے’’ولو انّھم الظلمو انفسھم جا وؤک فاستغفرواللہ واستغفر لھم الرسول لوجدواللہ توّاب الرحیماً‘‘ (اپنی جانوںپر ظلم کرنے کے بعد اگر یہ لوگ آپؐ کے پاس آتے اور استغفار طلب کرتے اور آپؐ بھی اِن کیلئے استغفار کرتے تو یہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا اورمہربان پاتے)۔ گویا اللہ کومہربان پانے کیلئے مدینہ کا رخ کرنا چاہیے۔

برسبیل تذکرہ ‘ اِسی طرح لفظ ’’اُمّی‘‘ ہے، اس کے عمومی معنی تو ’’ان پڑھ‘‘ کے ہیں، لیکن یہ بے تعلق لوگوں کا اَن گھڑ ترجمہ ہے۔ اُمّی‘‘ کے اصل معانی سرچشمہ کے ہیں، اس لفظ کا مادہ’’اْمّ‘‘ہے ، اور یہ کسی چشمے کے منہ ،ماخذ اور منبع کو کہتے ہیں۔ ’’اُمّی نبی ‘‘آپؐ کی ایک ارفع ترین شان ہے، آپؐ سرچشمہ ٔہدایت و حیات ہیں۔ حیات کی بنیاد علم ہے ، جو ذات سرچشمہ ٔحیات ہو ‘ اُس کے علم پر کیا شک ہو سکتا ہے؟ آپؐ منبعٔ علم ہیں، منبعٔ حیات و شعور ہیں۔ وجۂ تخلیق ِکائنات‘ کائنات کے جملہ علوم سے بے خبر ہو؟ کیسے ممکن ہے؟؟ علّام الغیوب کا مخاطب ِ اوّل، شہود و غیوب کا عالم نہ ہو؟ یہ کیسے ممکن ہے؟؟ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ اُس اُمتی کی بدبختی کے بارے میں کیا کلام جو اپنے نبی کے علم کے متعلق بحث میں گرفتارہے، کسی شک میں مبتلا ہے۔ اب یہی حال لفظ ’’حرام‘‘ کے بارے میں ہے، ڈکشنری میں اس لفظ کا مطلب ’’ممنوع‘‘ بھی ہے، امریکہ میں شائع ہونے والے قرآن کے ایک انگریزی ترجمے میں جس کے مترجم یہودی ہیں، انہوں نے بڑے طمطراق سے مسجد حرام کا ترجمہ ممنوعہ مسجد mosque restrictedلکھا ہے، اور اس کی توجیہ یہی پیش کی ہے کہ ہم تو وہی ترجمہ لکھیں گے جو ہمیں ڈکشری سے دستیاب ہو گا، ہمارا مسلمانوں کے عقائد اور نظریات سے کچھ لینا دینا نہیں۔ نکتہ غور طلب ہے ، یہاں ہمارے دانشور جو قرآنی اصطلاحات کا ترجمہ ڈکشنری سے تلاش کرتے ہیں اور گزشتہ چودہ سو برس کے اسلاف کی روایت کو یکسر نظر انداز کرتے ہیں، آخرکس گروہ کے مقاصد کی نگہبانی کر رہے ہیں؟

با ت ترجمے کی نہیں‘ بات معانی کی ہے … اور معانی کی تنزیل قلب پر ہوتی ہے۔ قلب جائے محبت ہے، اور ادب محبت کا پہلا قرینہ ہے۔ جب تک دل میں ادب جاگزیں نہ ہو ترجمۂ قرآن سے تفہیم ِ قرآن ممکن نہیں۔


ای پیپر