سید منور حسین مشہدی مرحوم
29 اکتوبر 2019 2019-10-29

آج تحریک آزادیٔ کشمیر ایک فیصلہ کن موڑ پر آکھڑی ہوئی ہے۔ ہر کشمیری پرعزم ہے کہ ہر قربانی دے گا، مگر بھارت کی بالادستی قبول نہیں کرے گا۔ آزادی کشمیر ہر بڑے چھوٹے اور مردوخواتین کے دل کی آواز ہے۔آج وہ شخصیات یاد آتی ہیں جنھوں نے آزادی کشمیر کے لیے پوری زندگی لگا دی۔ ایسی ہی ایک شخضیت کا حال آج کا مضمون کا عنوان ہے۔ راقم 1961ء میں نویں کلاس کا طالب علم تھا،سردیوں کی ایک صبح سکول اسمبلی میں اساتذہ کی صف میں ایک اجنبی چہرہ دیکھا۔۔ ہر لڑکا سوچ رہا تھا کہ یہ کوئی طالب علم ہے یا استاد۔ چہرے سے سادگی اور سنجیدگی نمایاں تھی۔گول چہرے پر چھوٹی چھوٹی سیا ہ داڑھی اور سر پر قراقلی ٹوپی۔ ہیڈ ماسٹر جناب سعیداللہ خان نے بتایا کہ سٹاف میں ایک نئے رکن کا اضافہ ہوا ہے۔ان کا نام سید منور حسین مشہدی ہے اور یہ جامعہ عربیہ گوجرانوالہ سے فارغ التحصیل ہیں۔ مولانا محمد چراغ صاحب کے خاص شاگردوں میں سے ہیں۔یہ چھٹی،ساتویں اور آٹھویں کو عربی پڑھایا کریں گے۔یہ تھا مشہدی صاحب سے پہلا تعارف۔

سید منور حسین مشہدی سکول میں تھوڑے عرصے کے لیے ہی رہے لیکن اپنی خوش اخلاقی سے حسین یادیں چھوڑ کر گئے۔موصوف آزاد کشمیر، نکیال ضلع کوٹلی میں ایک گائوں خیر پور سیّداں میں سید عبداللہ کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی۔پھر جامعہ عربیہ گوجرانوالہ میں داخل ہو گئے۔ یہاں مولانا محمدچراغ صا حب اور حافظ محمد انور صاحب کی خصوصی شفقت ان کو حاصل رہی۔یہاں سے فا رغ ہونے کے بعد موصوف چنن تشریف لائے۔کچھ عرصے بعد واپس گوجرانوالہ چلے گئے۔

1970ء میں یو کے اسلامک مشن کو اپنی مختلف مساجد اور مراکز کے لیے امام،خطیب اورمدرسین درکار تھے۔ چنانچہ موصوف 1973ء میں بر طانیہ چلے گئے۔ اپنی خدمات کا آغاز ہمپٹن جا مع مسجد میں امام اور خطیب کی حیثیت سے کیا۔جب برمنگھم میں پیغامِ اسلام ٹرسٹ کے نام سے بڑی مسجد اور مرکز وجود میں آیا تو ان کی خدمات بر منگھم منتقل کر دی گئیں۔ مشہدی صاحب کا تعلق کشمیر سے بھی تھا اور تحریکِ اسلامی سے بھی، اس لیے فطری طور پر وہ چاہتے تھے کہ برطانیہ میں تحریکِ آزادیِ کشمیر کو منظم کرکے اس کے زیر اہتمام مختلف پروگرام تر تیب دیے جائیں۔ مقبوضہ اور آزاد کشمیر سے تحریکِ اسلامی کے رہنما مغربی ممالک، بالخصوص برطانیہ کے دورے کرتے رہتے تھے۔برطانیہ کے کئی شہروں میں آزاد کشمیر سے منتقل ہونے والی آبادی بڑی تعداد میں ہے۔ بلاشبہ وہاں کام کے مواقع بھی تھے۔

1970ء کی دہائی میں تحریکِ کشمیر برطانیہ کے نام سے ایک تنظیم رجسٹر کروائی گئی۔1985ء میں تنظیم نے ایک عمارت خرید کر اپنا دفتر قائم کیا اور مختلف شہروں میں اپنی برانچیں بھی قائم کر دیں۔ تنظیم کا مقصد یہ تھا کہ مسئلہ کشمیر کی اصل حقیقت پاکستانی آبادی میں متعارف کرانے کے ساتھ برطانوی باشندوں اور ذرائع ابلاغ کو بھی آگاہی دی جائے۔ مشہدی صاحب تحریکِ کشمیر برطانیہ کے پہلے اجلاس ہی میں اس کے صدر منتخب ہوئے اور پروفیسر خورشید احمد صاحب کی خصوصی رہنمائی میں انھوں نے اپنی تنظیم کو منظم کرنے کا بِیڑا اٹھایا۔ وہ شعلہ نوا خطیب بھی تھے اور دردِ دل سے مالا مال داعی حق بھی۔ان کی کا وشوں سے تنظیم نے بہت جلد ملک بھر میں اپنی شاخیں قائم کر لیں۔

مولانا مشہدی ان تھک آدمی تھے۔مسلسل سفر،خطابات اور کا نفرنسوں کے ذریعے اپنے مقصد کو اجاگر کرنے میں لگے رہے۔ پھر یہاں قیام کے دوران مشہدی صاحب کو کینسر کاموذی مرض لا حق ہو گیا۔ان کی داڑھی اور سر کے بال جھڑ گئے۔ میں 2005ء برطانیہ گیا تو مشہدی صاحب سے کسی پروگرام میں ملاقات نہ ہو سکی۔ دوستوں نے بتایا کہ وہ مریض ہیں اور سفر نہیں کر سکتے۔میں ان کے گھر ما نچسٹر میں ملاقات کے لیے حا ضر ہوا۔ان کی صحت واقعی کمزور تھی لیکن ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور بشاشت قائم تھی۔بال جھڑ جانے کی وجہ سے وہ با رعب چہرہ جو ریشِ مبارک کی وجہ سے سب کو متاثر کرتا تھا بالکل خزاں کی طرح نظر آرہا تھا۔گفتگو کے دوران مشہدی صاحب نے بتایا کہ ان کے معالج پُرامید ہیں کہ بیما ری پر قابو پا لیا جائے گا۔ میں نے بھی ان کے لیے دعا کی اور دل میں کہا کہ اللہ کی قدرت سے کیا بعید ہے کہ مشہدی صاحب کو شفائے کاملہ عطا ہو جائے۔ان دنوں مشہدی صاحب اپنی دوسری اہلیہ کے سا تھ ایک چھوٹے سے مکان میں مقیم تھے۔

فروری 2006ء میں ایک دن مجھے فون آیا۔ مشہدی صاحب خود بول رہے تھے۔میں نے پوچھا،حضرت کہاں ہیں اور کیا حال ہے؟ فرمانے لگے اللہ کا شکر ہے، حال بہت اچھا ہے اور میں گوجرانوالہ میں ہوں۔ خوشگوار حیرت ہوئی اور میں نے ان سے وعدہ کیا کہ اگلے روز میں ان سے ملا قات کے لیے حاضر ہوں گا۔ گوجرانوالہ جماعت کے ذمہ داران کے ساتھ اگلے روز جب میں ان کے گھر پر حاضر ہوا تو ان کے بیٹوں نے استقبال کیا۔ تھوڑی دیر میں مشہدی صاحب بھی اندر سے تشریف لائے۔ میری حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے پر بھرپور داڑھی اور سر پر بال موجود تھے۔ اللہ کی رحمت اور اپنی قوتِ ارادی سے انھوں نے بیماری کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔ خدا بھلا کرے ان معالجین کا جنھوں نے نہایت مہارت اور احتیاط کے ساتھ ان کا علاج کیا اور انھیں پُر امید رکھا۔

مشہدی صاحب صحت مند ہونے کے بعدپھر اپنے کام میں جت گئے لیکن انھیں احساس تھا کہ ان کی صحت بحال ہوجانے کے باوجود اب پہلے جیسی قوت و توانائی ان کے جسم میں نہیں ہے۔ لہٰذا انھوں نے اپنے ساتھ اپنے معتمد ساتھی غالب صاحب کو تیار کیا کہ وہ تحریک کی ذمہ داریا ں سنبھال سکیں۔میں مئی جون2007ء میں برطانیہ گیا تو مشہدی صاحب سے بر منگھم کی تربیتی کا نفرنس میں ملاقات ہوئی۔ پھر مانچسٹر میں بھی ملاقات رہی۔ مشہدی صاحب خاصے نڈھال اور نحیف تھے لیکن پروگراموں میں آتے رہے۔

مشہدی صاحب کبھی کسی سے مرعوب نہیں ہوئے تھے۔سردار محمد عبدالقیوم خان اور بیرسٹر سلطان محمود کے منہ پر کلمۂ حق کہہ دیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ کسی مجلس میں کسی نے ان سے کہا کہ مشہدی صاحب آپ کشمیری قائدین میں سے ایک شخصیت کے حد سے زیا دہ مداح اور دوسری شخصیت کے ناقد ہیں۔ مخاطب نے ان کے مداح کے طور پر سید علی گیلانی کا نام لیا اورہدف تنقید بننے والی شخصیت سردار عبدالقیوم خان کوقرار دیا۔پھر کہا کہ بلاشبہ علی گیلانی عظیم انسان ہیں لیکن تقوٰی اور پا کیزگی کے لحاظ سے سردار صاحب بھی کسی سے کم نہیں،وہ تو مجاہدِ اول ہیں۔ مشہدی صاحب نے بحث و تکرار کی بجائے قرآنی و نبوی طریقہ اختیار کیا۔ فرمایا آئو ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں۔ان کی دعا کے الفا ظ یہ تھے ’’اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ اٰخِرَتَنَا مَعَ الَّذِیْنَ نُحِبُّھُمْ ‘‘ یعنی اے اللہ ہمیں آخرت میں ان لوگوں کے ساتھ اٹھا،جن سے ہم محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ مشہدی صاحب نے دعا کے دوران عربی الفاظ کا اردو میں ترجمہ کیا تو ان کا مخاطب عجیب مخمصے میں پڑ گیا۔

مئی جون 2007ء میں میراقیام برطانیہ اور یورپ کے بعض دیگر ممالک میں رہا۔غالباًمئی کے آ خر ی اتوار کو محمد غالب صاحب نے تحریکِ کشمیر برطانیہ کے دفتر سپارک ہل( بر منگھم )میں ایک اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ بہت سے احباب سے ملاقات ہوئی۔تنظیم کی تازہ ترین رپورٹ بھی ملی۔ سید علی گیلانی صاحب کے مجوزہ دورہ ٔ برطانیہ کی تیاریوں کے ضمن میں آرا و تجاویز پر تبادلۂ خیال ہوا۔ اجلاس میں مشہدی صاحب شریک نہیں تھے۔ ان سے آ خری ملاقات مانچسٹر کی جامع مسجد خضرٰی میں ہوئی۔اس روز وہاں پروفیسر غلام اعظم صاحب اور مولانا سید شریف احمدصاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ مشہدی صاحب کے بیٹے جنید برطانیہ میں ہیں۔ان سے بھی ملاقات رہی۔جنید ایک اچھا اور ہو نہار نوجوان ہے۔ وہ ما شاء اللہ رکن ِ جماعت ہے اور مشن کے ساتھ بھی وابستہ ہے۔

مشہدی صاحب کی کا فی عرصے سے خواہش تھی کہ برطانوی پارلیمنٹ میں اپنے حامی ایم پیز کے ذریعے سید علی گیلانی کو برطانیہ آنے کی دعوت دی جائے۔ان کا یہ خواب 2007ء میں اس لحاظ سے تو پورا ہو گیا کہ گیلانی صاحب کو پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کی طرف سے برطانیہ مدعو کیا گیا۔ دعوت نامے میں ارکان کمیٹی سے ان کا خطاب اور مسئلہ کشمیر بھی ایجنڈے پر تھا۔ وزٹ کے لیے یہ دعوت دے دی گئی لیکن یہ خواب اس وجہ سے ادھورا رہ گیا کہ بھارتی حکومت نے گیلانی صاحب کا پاسپورٹ پہلے سے ضبط کیا ہوا تھا۔

مشہدی صاحب نے اپنی قیادت میں بہت سی انٹر نیشنل سطح کی کشمیر کانفرنسیں منعقد کیں۔ بارہا پارلیمنٹ میں اجلاسوں کے دوران ارکان کو مسئلہ کشمیر پر یادداشتیں پیش کیں۔وزیر اعظم کی رہائش 10 ڈائوننگ سٹریٹ جا کر مختلف وزرائے اعظم سے بھی ملاقاتیں کرتے رہے۔ 4؍ اکتوبر 2008ء کو رات کے وقت برطانیہ سے مولوی محمد اقبال صاحب کا ایس ایم ایس ملا کہ مولانا مشہدی صاحب انتقال کر گئے ہیں۔ انّا للّٰہ وانّا الیہ راجعون۔ معلوم ہوا کہ چند ہفتے قبل انھیں فالج کا شدید حملہ ہوا تھا،جس سے ان کی دائیں سائیڈ مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی۔ ان کی وفات مانچسٹر کے نارتھ جنرل ہسپتال میں ہوئی۔

امیر جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر محترم عبد الرشید ترابی صاحب مشہدی صاحب کا جنا زہ پڑھانے کے لیے خصوصی طور پر پاکستان سے انگلستان گئے اور 5؍ اکتوبر کو خضرٰی مسجدچیتھم ہل میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ مشہدی صاحب کی زندگی تحریک اور جدو جہد سے عبارت تھی۔وہ ہمیشہ شہد کی مکھی کی طرح اپنے مقصد کی جستجو اور اپنے مطلوب کی تلاش میں سرگرم و سرگرداں رہے۔حق مغفرت کرے مرحوم بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔ مشہدی صاحب نے اپنے پیچھے بیوہ،چار بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مشہدی صاحب کے درجات بلند فرمائے اور ان کی کاوش کو شرفِ قبولیت بخشے۔ تحریکِ آزادیِ کشمیر آج جن مشکل مراحل سے گزر رہی ہے ان شاء اللہ اس کا انجام کامیابی پر ہوگا۔ مودی درندے نے آخری پتا کھیل لیا ہے۔ اب اس کا مقدر اللہ کے فضل سے ذلت ورسوائی ہے۔


ای پیپر