ہیجان نہیں تحمل
29 اکتوبر 2019 2019-10-29

ملک کوہیجان نہیں تحمل کی ضرورت ہے جوش اچھی بات ہے طاقت ور ہونے کا احساس ہوتا ہے مگر جوش کے ساتھ ہوش بھی اشد ضروری ہے ایسا لگتا ہے پاکستان سیاست زدگی کا شکار ہے حقائق کیا ہیں کسی کوکوئی غرض نہیں ہر ایک کی اپنی پسند ہے اور وہ اپنی پسند کے مطابق ہی صورتحال کو دیکھتا ہے یہ اچھی روش نہیں نہ ہی یہ ذمہ دار قوم کے شایانِ شان ہے ہجوم اور قوم میں بڑافرق ہوتا ہے قوم والی ہم میں کوئی خوبی ہے ؟ بالکل نہیں ۔ہم تو ایسے ہیں کہ ذرا سے نفع کے لیے اپنے ہی ہم وطن کو بھاری نقصان پہنچانے کو تیاررہتے ہیں ادویات میں ملاوٹ کے زریعے وطن میں بیماریوں کو فروغ دیتے ہیں اور ناقص ادویات سے بیماروں کی جان لینے میں مضائقہ نہیں سمجھتے خوراک میں ملاوٹ کے حق میں بھی دلائل پیش کر تے ہیں مادیت پرستی کا جنون ہے جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے کیا یہ خوبیاں ہیں ؟ ہر گز نہیں بلکہ یہ خامیاں ہیں اور کسی کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی ہیں۔

اصل میں ہم کچھ کرنے کو تیار ہی نہیں کروڑوں کا محل بنا کر گلی بنانے کے لیے حکومت کی طرف دیکھتے ہیں لیکن تجاوز کرنا اپنا حق تصورکرتے ہیں ہر جگہ گندگی کے ڈھیر لگا کر حکمرانوں کو کوسنے لگتے ہیںحالانکہ اپنے دروازے کے آگے صفائی کرنے پر بھاری اخراجات نہیں ہوتے صفائی رکھنے سے آپ کی شخصیت نکھر سکتی ہے اور یہ مثبت امیج آپ کو علاقے میںمقبول کر سکتا ہے مگر نہیں ہم چاہتے ہیں کہ کچھ خوبی رکھے بنا ہی لوگ ہماری تحسین کریں ہمیں دنیا کا اچھا انسان قرار دیں اور کسی کے ہم کام آئیں یا نہ آئیں لوگ ہمارے ضرور کام آئیں ہم کسی سے بحث کر یں یا جھگڑاکریں دوسرے لوگ بس اچھے سامع بن کر رہیں اور اختلافِ رائے نہ کریں حالانکہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے اور برداشت و رواداری کی روایات پر عمل کرنے سے معاشرے سے دنگا وفساد کا خاتمہ ممکن ہے اپنی خامیوں کو بھی ہم خامیاں نہیں سمجھتے لیکن دوسروں کی خامیوں کی ٹوہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں یاد رکھیں اگر ہم خود کو ٹھیک کرلیں توسمجھ لیں معاشرہ ٹھیک ہو گیا ہے

عمران خان نے دھرنا دیا مقصد چارحلقے کھولنا اور دھاندلی بے نقاب کرنا تھا جس کی ہر جماعت نے مذمت کی جواب میں عمران خان بھی روز کنٹینر پر کھڑے ہو کر حکمرانوں کو جی بھر کر صلواتیں سناتا تو پارلیمان میں بیٹھی جماعتیں ایوان میں عمران خان کے لتے لیتیں سب اپنے اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے دلائل دیتے سبھی رہنما لڑنے جھگڑنے میں مصروف رہے مگر ملکی معیشت کا بھٹہ بیٹھ گیا کچھ لوگ دھرنے کو اسٹیبلشمنٹ کا کیا دھراقرار دیتے مگر وقت نے ثابت کیا ہر اِدارے نے حکومتی احکامات پر عمل کیا اور دھرنے سے باربار ہونے والی التجائوں اور مطالبوں کے باوجودمنتخب حکمرانوں کی طرفداری کی اِس طرزِ عمل نے ثابت کیا کہ اِدارے اپنی حدود وقیود کی پاسداری کر رہے ہیں لیکن اُنگلیاں اُٹھانے والے باز نہ آئے الزام تراشی ہو تی رہی بُرا بھلا کہتے ہوئے الفاظ سے وہ تعفن پھیلائی گئی کہ لوگ انگشت بدانداں رہ گئے مگر کسی نے رویے نہ بدلے ایک دوسرے کو رگیدنے کی دوڑ میں گلہ پھاڑپھاڑ کر شورمچایا جاتا رہا اپوزیشن اور حکومت سوتن کی طرح لڑتی جھگڑتی رہیں یہ قابلِ قدر یا قابلِ رشک رویہ نہیں بلکہ جہالت کی انتہا تھی ایسا رویہ تحمل پر ہیجان کی سبقت ظاہر کرتا ہے۔

کلثوم نواز کی بیماری کی خبریں سامنے آئیں تو کسی نے الفاظ کی کاٹ کا ادراک نہ کیا بلکہ جس کے جو منہ میں آیا اُگل دیا کسی نے بیماری کو ڈھونگ قرار دیا تو کوئی احتساب سے فرار کا بہانہ قرار دیتا رہا شریف خاندان کے لوگوں کے غم و پریشانی کی پرواہ کیے بنا الفاظ کے نشتر چلا ئے جاتے رہے اوراپنی جماعت کی قیادت کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی جاتی رہی کہ وہی سب سے بہتر جماعت کا موقف پیش کرسکتے ہیں کردار کی بجائے گفتار کو ہی ہنر سمجھ لیا گیا ایک دن جب یہ خبر آئی کہ محترمہ کلثوم نواز وفات پا گئی ہیں تب بھی کچھ لوگوں کی زبانوں کو بریک نہ لگی سوگ میں ڈوبے خاندان کا تمسخر اُڑایا گیا اور والدہ کی میت کو کندھا دینے کے لیے نہ آنے پر بچوں کو بزدل تک کہا گیا کیا یہ سب کہنا ضروری تھا؟ ۔ نہیں جناب۔لیکن یہاں کون پرواہ کرتا ہے کہ کیا ضروری ہے اور کیا غیر ضروری ہے لوگ تو حالات سے فائدے تلاش کرنے کی جستجو کرتے ہیں چاہے کسی کے زخموں پر نمک ہی کیوں نہ چھڑکنا پڑے جب تحمل پر ہیجان حاوی ہوجائے تو ایسا ہی ہوتا ہے ۔

نواز شریف بیمار ہیں معالجوں نے بھی کئی بیماریوں کی تشخیص کر لی ہے صحت روزبروز گر رہی ہے جب کوئی صاحبِ فراش ہوتا ہے تو لوگ وقتی طور پر ہی سہی اختلاف بالائے طاق رکھ دیتے ہیں لیکن ایساوضح دار لوگ کرتے ہیں چوہدری شجاعت حسین کی شہبازشریف نے خریت دریافت کی جب نواز شریف کی بگڑتی صحت کا پتہ چلاتو وضح دار چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ نواز شریف کو علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے دیا جائے لیکن لگتا ہے جو منتخب ہوکر ایوان میں چلا جاتا ہے وہ خود کو ہی عقلِ کُل سمجھ بیٹھتا ہے ارے بھائی مشورہ کرنے میں کیا قباحت ہے اگر تحمل کی بجائے گلہ پھاڑکر ہیجان پھیلانا ہی سیاست ہے تو بھی حالات کو ہی سمجھ کربول لیا کریں مان لیا آپ ووٹ لے کر آئے ہیں لیکن جس کا کام اُس کو ساجھے بیمار کے لیے کیا بہتر ہے؟معالج ہی بتا سکتا ہے آپ کے اطوار سے تو ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کام کرنے کی بجائے لڑنے میں ہی تاک ہیں یہ خوبی نہیں خامی ہے اور ہاں اِس طرح کے رویے سے دوستوںنہیں مخالفوں میں اضافہ ہوتا ہے عین ممکن ہے جس طرح آج آپ چیخ چلا کرسب کی کردارکشی کرنے پر تُلے بیٹھے ہیں مسقبل میں کوئی آپ کی خودساختہ پارسائی کو بے نقاب کردے اِ س لیے بہتر ہے ہیجان میں اضافہ نہ کریں بلکہ تحمل اور بردباری سے کام لیں مت بھولیںجس نے جو کچھ بوناہے وہی کل کاٹنا ہے تھپڑ کے جواب میں ہار نہیں پہنائے جاتے کیا آپ کو نہیں پتہ؟


ای پیپر