کلمہ طیبہ والا برطانوی سکہ، چشم کشا تذکرہ
29 اکتوبر 2019 (16:11) 2019-10-29

محمد نعیم:

ہمارے ہاں کم ہی مردو زن جانتے ہیں کہ برطانوی تاریخ میں ایک ایسا سکہ بھی تیار کیا گیا جس پر کلمہ طیبہ کنندہ تھا۔ جی ہاں، ایسا اب سے تقریباً ایک ہزار تین سو سال پہلے ہو چکا۔ یہ اہم سکہ اب برٹش میوزیم کی زینت ہے اور بہت کچھ سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔

عربی آیت کا حامل یہ سکہ کیوں جاری ہوا ؟ اس سوال کا صحیح جواب کسی کے پاس نہیں تاہم اس حوالے سے کچھ معلومات سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق سکے کو انگلستان کے ایک انتہائی با اثر بادشاہ ، شاہ اوفا اومرسیہ نے تیار کروایا تھا ۔ دی نیو انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا نے اپنے حالیہ ایڈیشن میں لکھا ہے کہ شاہ اوفا ابتدائی اینگلو سیکسن انگلستان کا سب سے طاقتور بادشاہ تھا ۔ جن دنوں انگلینڈ الگ الگ ریاستوں میں منقسم تھا، اس دور میں وسطی انگلستان میں مرسیہ ( Mercia ) نام کی ایک ریاست تھی۔ اوفا نے وہیں آنکھ کھولی۔ اس کی تاریخ پیدائش تو معلوم نہیں مگر وہ 757 ءسے اپنی وفات جولائی 796 ءتک مرسیہ کا حکمران رہا۔ اس کے والد کا نام تھنگ فرِتھ (Thingfrith ) تھا۔

ریاست مرسیہ کو ایک زمانے میں طویل خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں اوفا کا کزن بادشاہ، ایتھل بالڈ (جو 716 ءسے 757 ءتک تخت نشین رہا) اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس کی موت کے بعد بادشاہ اوفا نے متحارب گروہوں پر قابو پایا اور عنان اقتدار سنبھال کر ایک مضبوط حکومت کی بنیاد ڈالی۔ تخت نشین ہونے کے بعد اوفا کی اوّلین ترجیح وسطی قبائل جن میں ہوائس ( Hwicc ) اور میگنا سیٹیا(Magnosaeta ) شامل تھے ۔ انہیں ریاست مرسیہ کے جھنڈے تلے جمع کرنا تھا ۔ 762 ءمیں مرسیہ کی ہمسایہ ریاست کینٹ ( kent ) بھی اوفا کے زیر نگیں آ گئی۔ قبل ازیں کینٹ کے سیاسی حالات بھی شدید ابتری کا شکار تھے جس کا فائدہ اوفا کو پہنچا۔

771 ءمیں اوفا نے ایک اور ریاست سسکس (Sussex) کو بھی اپنی سلطنت کا حصہ بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ یوں اوفا کی دلیرانہ حکمت عملی کے نتیجے میں پورا علاقہ مرسیہ کے تابع فرمان ہو گیا۔ 780 ءکے عشرے تک اوفا کا اقتدار جنوبی انگلستان کے بیشتر علاقوں پر قائم ہو گیا تھا ۔ اوفا کی ایک بیٹی، ایڈ برا Eadburh کی شادی ویسکس ( Wessex ) کے حاکم، بیورہیٹرک Beorhtric سے ہوئی جس سے اوفا کا اثرو رسوخ جنوب مشرقی علاقے تک پھیل گیا۔

شاہ اوفا نے 794 ءمیں مشرقی اینگلیا کے حکمران، ایتھل برتھل ( Aethelberthll ) کو شکست دے کر اس علاقے پر بھی قبضہ کر لیا۔ یوں اس نے ایک ایسی متحدہ سلطنت کی بنیاد رکھی جس میں کئی برطانوی ریاستیں شامل تھیں۔ جبکہ کئی اس کی باجگزار بھی بن گئیں۔

برطانوی تاریخ کے سکوں کی تاریخ میں اوفا دور کے سکوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ بعض سکوں پر اس کی اہلیہ سائنتھرتھ Cynethryth کی شبیہ بھی ہے۔ یوں وہ واحد اینگلو سیکسن ملکہ ہے جس کی تصویر سکوں پر پہلی بار کنندہ ہوئی۔ اس طرح برطانیہ کے موجودہ سکے پینی (Penny ) کا آغاز بھی اوفا ہی نے کیا تھا۔ برطانوی تاریخ میں پہلی بار سونے کے سکے کے اجراءکا سہرا بھی اوفا ہی کے سر جاتا ہے۔ سونے کا یہ سکہ ان دیناروں کی نقل ہے جو آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان ملکوں میں چلتے تھے۔

اس سکے کے بارے میں اب تک جو تھوڑی بہت معلومات سامنے آ سکی ہیں ان کے مطابق اسے کینٹ (Kent ) میں ڈھالا گیا تھا۔ مسلمان خلیفہ منصور نے 157 ہجری 774 ءمیں ایک طلائی دینار جاری کیا۔ اوفا کا سکہ اسی دور میں وجود میں آیا اور عین اسی انداز کا ہے۔ سر سری نظر ڈالنے سے دونوں ایک ہی لگتے ہیں۔ البتہ اوفا کے سکے پر خطاطی کا معیار خلیفہ منصور کے دینار سے کم ہے۔ اس کی وجہ اوفا کے کاریگروں کے لیے عربی کا اجنبی زبان ہونا تھا۔

سکے پر خط کوفی میں بسم اللہ اور سورة اخلاص کے یہ الفاظ عربی میں کندہ ہیں: لا الہ الااللہ واحدہ لا شریک لہ، (ترجمہ: کوئی الہٰ نہیں سوائے اللہ کے جس کا کوئی شریک نہیں ) اس منفرد برطانوی طلائی سکے کے کنارے پر حضور اکرم کی رسالت کے اقرار کے الفاظ موجود ہیں۔ سکے کی دوسرے جانب اوفا کا نام اور اوپر یہ الفاظ ہیں:© ” شروع اللہ کے نام سے ، یہ دینار سال 157 ءمیں تیار ہوا۔“

اہم بات یہ کہ سکے پر تاریخ ہجری سن میں لکھی گئی ہے۔ تاہم برطانوی سکوں پر اس سے تاریخ لکھنے کا رواج نہیں پڑا۔ اس کے بعد چار سو سال بعد نارمن عہد میں سکوں پر تاریخ کندہ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔

20000 ملی میٹر قطر کے اس سکے کا وزن 4280 گرام ہے۔ جو اموی دور کے سکوں کے معیاری وزن 425 گرام کے مطابق ہے۔ شاہ اوفا برطانوی تاریخ کا عالی شان بادشاہ تھا۔ اس نے اپنی قوم کو متحد، منظم اور مضبوط بنانے کے علاوہ اپنے ملک کی حفاظت کے لے اپنے علاقے کے گرد دیوار چین کی طرز پر ایک دیوار تعمیر کرائی تھی۔ اس دیوار کی تعمیر سے اس نے اپنے ملک کو آئرش دشمنوں کے حملے سے بچا لیا۔

دیوار اوفا (offa's Dyke ) کی لمبائی 125 میل تھی۔ یہ وائے (Wye ) کے علاقے سے شروع ہو کر ڈی (Dee ) تک جاتی تھی ۔ اس کے جنوبی سرے پر پچیس کلو میٹر کا خلا تھا۔ دیوار کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس قدر شاندار خدمات کے حامل بادشاہ کے تفصیلی حالات پر یورپی تاریخ کی تمام کتب خاموش ہیں۔ برطانوی تاریخ کی کتب میں بھی اوفا کے متعلق بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ جن کتابوں میں کچھ مواد موجود ہے۔ وہ بھی بہت مختصر اور نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ صورت حال بڑی معنی خیز، حیران کن اور کئی سوالوں کو جنم دینے والی ہے۔ تمام برطانوی مورخین شاہ اوفا کے چاندی کے سکوں کا ذکر کرتے اور انہیں اہمیت دیتے ہیں مگر اس کے عہد میں ڈھالے گئے طلائی سکے سے بے اعتنائی سمجھ سے بالا تر ہے .... حالانکہ اس سے پہلے کبھی سونے کا سکہ یہاں جاری نہ ہوا تھا۔

یہ دنیا کی تاریخ میں بھی اپنی نوعیت کا واحد سکہ ہے۔ یورپی اور برطانوی مورخین نے جس طرح اسے نظر انداز کیا ہے وہ بڑا اور پر اسرار معاملہ ہے۔ حد تو یہ ہے کہ برٹس میوزیم میں اسے غیر نمایاں جگہ پر رکھا گیا ہے۔ انگلستان جدید سکوں اور مضبوط سیاسی و معاشرتی نظام متعارف کرانے والے ایک مثالی بادشاہ سے اپنے ملک ہی میں ایسی بے اعتنائی برتنا حیران کن بات ہے۔ تمام ویب سائٹوں پر بھی اوفا کے بارے مین نامکمل مواد دستیاب ہے۔ ویب سائٹ میں جہاں کہیں برطانوی سکوں کی تاریخ کا تذکرہ ہے، وہاں اوفا دور کی پینی کا ذکر اس قسم کے الفاظ میں ملتا ہے: The origins of sterling lie in the reign of king offa of mercia, who introduced the silver penny. ۔ اس طرح اوفا کے سونے کے سکے کا عموماً وہ حصہ دکھایا جاتا ہے جس پر آیت واضح نہیں۔

یہ سب باتیں چغلی کھاتی ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اوفا نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اسی لیے ان باتوں کو صیغہ¿ راز میں رکھنے کی کوشش کی گئی ہو۔ ایک عرب مورخ ابن الکلمی، (737 ءتا 819) کا تو خیال ہے کہ اوفا نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ الکلمی کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے اوفا ہسپانیہ گئے ہوں اور مسلم ثقافت یا مذہب سے متاثر ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اوفا کے دور میں ان کا ہسپانیہ یا بغداد کے عباسی خلیفہ سے کسی قسم کا امن معاہدہ نہیں ہوا کیونکہ انہیں مسلم ریاستوں سے کوئی خطرہ در پیش نہ تھا۔

تاریخ کے مطالعے سے اس بات کا بھی پتا چلتا ہے کہ اوفا کے مرکزی کیتھولک چرچ سے تعلقات کشیدہ تھے۔ بالخصوص اس کے آرچ بشپ آف کنٹربری سے اختلافات کا اعتراف ” وکیپیڈیا“ پر موجود مضمون میں بھی کیا گیا ہے۔ اسی اختلاف کا نتیجہ تھا کہ اوفا نے اس مذہبی ادارے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اس طرح اوفا کے بشپ آف ورچسٹر سے بھی اختلافات تھے۔ جنہیں 781 ءمیں کونسل آف پرینٹ فورڈمیں دور کیا گیا تھا ۔ مذکرورہ سکہ پہلی بار 1841 ءمیں روم(اٹلی ) میں سامنے آیا۔ 1922 ءمیں اسے برطانیہ لایا گیا جہاں یہ برٹش میوزیم کی سکوں کی گیلری کے ایک گوشہ گمنام میں پڑا ہوا ہے۔

چند انگریز ماہرین نے سکے کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے صرف اتنا کہا ہے کہ اوفا مسلمان نہیں ہوا تھا بلکہ اس نے یہ سکے محض مسلمان حکومتوں کے ساتھ تجارت کی غرض سے بنائے ہوں گے۔ سکے کو مسلمانوں کے دینار کی نقل کے طور پر اس لیے بنایا گیا کہ باقی یورپ میں اس کی قدرو قیمت بڑھائی جا سکے۔

مغربی مورخین کی طرف سے یہ تاویل بھی پیش کی جاتی ہے کہ سکہ غالباً پوپ کو تحفے میں دینے کے لیے تیار کروایا گیا تھا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ سکہ بادشاہ کی جانب سے خیرات میں دیا جاتا تھا۔ یا پھر رومی شاہوں کو تحائف کے طور پر بھجوایا جاتا ہو گا ۔ اور بس۔ اس سے آگے وہ کسی بات پر غور کرنے کو تیار نہیں۔ تاہم یہ تمام تاویلات حقیقت کی کسوٹی پر پرکھنے سے مختلف نتائج سامنے لاتی ہیں۔ قابل غور بات یہ کہ ایک یورپی غیر مسلم بادشاہ کا آیت قرآنی اپنے سکے پر کنندہ کرنا، بالخصوص ایسی آیت جو اسلام کی بنیاد ہو۔ اس بات کی دلیل ہے کہ شاہ اوفا نے دین محمدی قبول کر لیا تھا۔

چلئے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اوفا اپنے مذہب پر ہی قائم رہا اور اس نے یہ سکہ اپنی ریاست کی شان و شوکت اور معیشت کی مضبوطی کے اظہار کے لیے بنوایا تھا تو سوال یہ ہے کہ مغربی دنیا نے اس سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں کیا ؟ آخر کیا چیز ہے جسے دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے کی کوشش کی گئی؟

تاریخ اور ماضی سے بے پناہ عقیدت رکھنے والی برطانوی قوم کی اس سکے سے سرد مہری ہی در اصل سوالات و خدشات کو جنم دیتی ہے۔ انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے!

٭٭٭


ای پیپر