دنیا کا پہلا کرفیو حضور پہ تین سال تک لگا تھا
29 اکتوبر 2019 2019-10-29

قارئین جب ہم چھوٹے چھوٹے بچے تھے، تو مجھے پوری طرح سے یاد ہے، کہ ہم کشمیر کے حق میں نعرے لگاتے تھے، کہ یہ ہمارا کشمیر ہے، اور ہم ایسے لے کر رہیں گے، جیسے برصغیر کی تقسیم سے پہلے یہ نعرہ کروڑوں مسلمانوں کی دلوں کی دھڑکن بن چکا تھا ، کہ لے کررہیں گے پاکستان، اور پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ

اب یہ نعرہ اگر 80لاکھ کشمیری مسلمان رات دن لگارہے ہیں تو کیا اللہ تعالیٰ ان کی بات نہیں سنے گا؟ وہ تو اپنی پوری مخلوق کی بات سنتا ، اور انہیں بلاتفریق رنگ ونسل ومذہب رزق بھی عطا فرماتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی اس عنایت رحمانی کا اظہار یوں فرماتا ہے کہ ریلوے سٹیشن پہ چائے کا کھوکھالگانے والے اور بھاگ بھاگ کر ٹرینوں کے ڈبوں میں بغیر چائے کا کپ چھلکے مسافروں تک چائے پہنچانے والے کو، کروڑوں اربوں والے ملک کا حکمران بھی بنادیتا ہے، جیسے سرپہ جام رکھ کر رقص وسرود کی محفلیں سجانے والے کو تین تین عہدے بیک وقت دے دیئے تھے، صدر بھی وہی آرمی چیف بھی وہی جوائنٹ چیف آف سٹاف بھی ۔ ہمارے اسلام میں محنت، مزدوری کرکے رزق کمانے والے کو ہمارے راہبررہنما نبی محترم نے بے حد پسند فرمایا ہے، اور تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھی مختلف قسم کی محنت مزدوری کرتے رہے، اور ان میں کوئی معمار تھا تو کوئی نبی مزدور تھا ، کوئی چرواہا، بلکہ ہر پیغمبرنے رسول پاک سمیت سبھی نے بکریاں چرائی ہیں۔ بکریاں چرانے کے لیے مصلحت غیبی اس لیے تھی کہ انسانوں کی طرح بکریوں کے مزاج بھی بہت مختلف ہوتے ہیں، ان میں کچھ ضدی، کوئی شریراور کوئی نٹ کھٹ ہوتی ہے، مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک دفعہ میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ آپ سے بیان فرمایا تھا ، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بکریاں چرایا کرتے تھے، تو بکری کا ایک میمنابہت شرارتی تھا ، وہ ریوڑسے الگ ہوکر بھاگ گیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے پکڑنے کی کوشش کی اور اس کے پیچھے بھاگ بھاگ کر ہلکان ہوگئے، حتیٰ کہ دوپہر بھی گزرنا شروع ہوگئی، آخر کار بڑی مشکل سے میمنے کو وہ پکڑنے میں کامیاب ہو گئے .... مگر ایک خلاف عقل ومعمول انسانی ایک واقعہ ایسا سرزد ہوگیا، کہ جو رب کائنات کو اتنا پسند آیا، کہ اللہ تعالیٰ نے خوش ہوکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت بخش دی۔

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بکری کے بچے کو پکڑ لیا، تو بجائے اس کے کہ وہ اس پہ اپنے غصے کا اظہار فرماتے، انہوں نے میمنے کو پکڑ کر پیار بھرے انداز سے گود میں لے کر چوم لیا، اور ان کا یہ انداز رب کائنات میں اس قدرگھر کر گیا کہ اس وقت انہیں انسانیت کا رہنما بناکر لوگوں کی تربیت کے لیے چن لیا۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ رب کائنات کو مودی کی کوئی ادا پسند آگئی، تو اسے سلطنت دے دی گئی، یا اس کی کوئی آزمائش اور امتحان تھا ، کہ جس کی بناءپر اسے ڈھیل دے دی گئی ہے، اور مودی نے آخر چائے بیچنے سے کتنے پیسے کمائے، کہ گجرات کا گناہ کبیرہ کرنے کے بعد بھی بچ گیا، اور مسلمانوں کو ٹرین میں خاکستر کرکے بھی کمائے ہوئے زرخرچ کرکے باعزت بری ہوگیا، اسی لیے تو سید مظفر علی شاہ کا کہنا ہے کہ

زندگی دوڑ ہے تابع حصول زر

ہیں غرض کے سلسلے پیار کا گمان گیا

کشمیریوں کے ظلم وجبر پر اب دومہینے ، یا تین مہینے کے قریب ہوئے ہیں بقول ہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، جنہوں نے ”وزارت خارجہ“ کا قلمدان سنبھالتے ہی ملتان میں لگتا ہے، اپنا دفتر منتقل کردیا ہے، جس کا مقصد سوائے اس کے اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ وہ الیکشن کی تیاری میں مصروف ہوگئے ہیں، جسے میں احترام وعقیدت مظفر علی شاہ کے باوجود ان کے ان اشعار سے متفق نہیں ہوسکتا، کیونکہ میں قوانین پیمرا کا احترام کرتا ہوں، اور میڈیا ٹرائل ٹربیونل سے بھی خائف ہوں .... مگر شاید شاہ صاحب کے لکھے ہوئے کو میں ٹال نہیں سکتا ، کہ

زندگی کی دوڑ ہے تابع حصول زر

ہیں غرض کے سلسلے پیار کا گمان گیا

بے اثر حروف ہیں ورق ورق لکھے ہوئے

داستان ہی رہ گئی !

زیب داستان گیا !

قارئین ، میں معذرت خواہ ہوں، کہ مودی سے لے کر شاہ محمود تک ، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مثالیں دے کر خدا جسے چاہتا ہے، اسی کو عزت وذلت دیتا ہے اس میں یہ بھی کوئی شک نہیں کہ وہ مومنوں کی جان مال اولاد کی بھی آزمائش کرتا ہے، اور صرف انفرادی ہی نہیں، بلکہ اجتماعی طورپر اور بحیثیت قوم بھی امتحان میں مبتلا کر دیتا ہے، مگر جو مومنین ہیں، اور اسلام کے سچے پیروکار ہیں، اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں سورة الانفال میں فرماتا ہے، سچے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں، کہ جن کے دل اللہ تعالیٰ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں، اور جب اللہ تعالیٰ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، اور وہ اپنے رب پہ اعتماد رکھتے ہیں ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں، قارئین اس کی تشریح کچھ اس طرح سے ہے کہ ہر ایسے موقع پر جب کوئی حکم الٰہی آدمی کے سامنے آئے ، اور وہ اس کی تصدیق کرکے سر اطاعت جھکا دے ، تو آدمی کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور ہر اس موقعے پر جب کہ کوئی چیز آدمی کی مرضی کے خلاف، اس کی رائے تصورات، نظریات کے خلاف، اس کی مانوس عادتوں، اس کے مفادات اور لذت کے خلاف، اس کی آزمائش کے خلاف ان کی محبت اور دوستی کے خلاف، اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی کتاب میں ملے، اور مسلمان اس کو مان کر فرمان خدا اور رسول بدلنے کی بجائے اپنے آپ کو احکام الٰہی کے مطابق بدل ڈالے، تو اس سے انسان کی بالیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

کشمیری مسلمانوں کی حالیہ دکھ بھری داستان دیکھ کر ان کے موجودہ حالات دیکھ کر کمزور ایمان والے متزلزل ہوجاتے ہیں، حتیٰ کہ وہ، یہ بات بھی کرڈالتے ہیں، کہ جب وہ نئے نئے مسلمان بنے تھے، اور جیسے مودی نے کشمیری مسلمانوں کا ناطقہ بند کیا ہے، ویسے ہی کافروں نے حضور کے دور میں قریش نے مسلمانوں بنو ہاشم اور بنو المطلب کے ساتھ ایک گھاٹی یعنی وادی میں محصور کردیا یہ بعثت کا واقعہ ہے، ابولہب اس میں شامل نہیں تھا ، وہ کافروں کے ساتھ تھا ، مسلمان اتنے لمبے عرصے تک اس وقت کے کرفیو کی وجہ سے محصور ہوگئے کہ ببول کے پتے کھا کر گزارہ کرتے ان کے بچے بھوک سے روتے رہے ان کے رونے کی آوازیں دورتک جاتیں، کافروں نے تاجروں کو بھی بھڑکا دیا تھا ، چنانچہ تاجروں نے قیمتیں اتنی بڑھادی تھیں کہ مسلمان خرید ہی نہ سکیں، ان کے اس کرفیو کی مدت تین سال تھی۔

اس زمانے میں کبھی خفیہ طریقے سے ضروریات کی چیزیں پہنچ جاتیں، حضورکے توکل اور اللہ تعالیٰ کی شان کا اندازہ اس سے لگائیں کہ وہ ہمیشہ کی طرح اپنی قوم میں تبلیغ کا فریضہ، کبھی خفیہ اور کبھی علانیہ ہر طریقے سے اداکرتے رہے، اور مسلمان اجر کی امید کے ساتھ ان تکلیفوں کو برداشت کرتے رہے، مقبوضہ کشمیر پہ ابولہب وقت نے ابھی تین ماہ سے کرفیو لگایا ہے۔ جبکہ فریق ثانی مظفر شاہ صاحب کی زبانی یوں کہتے

جہدوجستجو عبث ، زہدرائیگاں گیا

شیخ جی سے پوچھیے، وہ خدا کہاں گیا

خدانے وہ کیا، کہ کافروں کو ایک ملک تک محدود، اورمسلمانوں کو دنیا بھر میں پھیلا دیا اپنی رائے کے لیے مسیج اس نمبرپر کریں، بعد ظہر:0300-4383224


ای پیپر