کرپشن ، انصاف اور اصل جُرم!
29 اکتوبر 2019 2019-10-29

قارئین میں اِن دِنوں جاپان میں ہوں، جاپان میں مقیم پاکستانیوں کے حال احوال، جاپان کی ترقی کے راز اور اہم خصوصیات پر شاید کئی کالم لکھنے پڑ جائیں، میں 31اکتوبر کو واپس پاکستان آرہا ہوں، جاپان پر کالموں کا سلسلہ پاکستان واپس آنے کے بعد شروع کروں گا۔ فی الحال مجھے پاکستان میں حال ہی میں ہونے والے اُن واقعات پر لکھنا ہے جو اِن دنوں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی مقیم ہیں زیر بحث ہیں۔ان دونوں واقعات نے ہمارے ملک کے عدالتی نظام پر ایک بار پھر گہری ضرب لگائی ہے، ایک بار پھر کئی اُنگلیاں کئی سوالات اُٹھ رہے ہیں، جیسا کہ میں نے عرض کیا میں جاپان میں ہوں گزشتہ روز ایک جاپانی صنعت کار نے پاکستان کے عدالتی نظام پر جو سوالات مجھ سے کئی ایک بے ضمیر اور بے توقیر معاشرے نے میری پرورش نہ کی ہوتی میں شرم سے ڈوب مرتا، حالانکہ میرا اِس نظام سے کوئی تعلق نہیں مگر ایک پاکستانی کی حیثیت سے دنیا جب میرے ملک کے عدالتی نظام پر تنقید کرتی ہے جو بہت حدتک جائز ہوتی ہے تو میں سوچوں کے گہرے سمندر میں ڈوب جاتا ہوں کہ کب اِس ملک کا عدالتی نظام ٹھیک ہوگا؟ جس کے بعد ہم یہ توقع کریں گے کہ باقی نظام خود بخود ٹھیک ہونے لگیں گے، یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے جب ہمارے ججز صاحبان کچھ جرنیلوں کے خوف سے آزاد ہوکر صرف اور صرف خوف خدا میں مبتلا ہو جائیں، جوکہ فی الحال ایک انتہائی مشکل عمل محسوس ہوتا ہے، فی الحال ہمیں ایک بار پھر یہ طعنے دیئے جانے لگے ہیں پاکستان میں انصاف ملتا نہیں بکتا ہے، کوئی رقمیں خرچ کرکے خرید لیتا ہے تو کوئی دھونس دباﺅ ڈال کر خرید لیتا ہے، عام آدمی چونکہ ان دونوں ”سہولتوں“ یا ”نعمتوں“ سے محروم ہوتا ہے تو وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتا اس ملک میں اُس کے ساتھ کوئی ظلم یا زیادتی ہو جائے اور انصاف اُس کا حق سمجھ کر اُسے فراہم کردیا جائے، کہتے ہیں جن معاشروں میں انصاف نہیں ہوتا وہ معاشرے تباہ وبرباد ہو جاتے ہیں، ہمارا معاشرہ آج تباہی کے جس دہانے پر کھڑا ہے اُس کا واحد سبب کم ازکم میری نظروں میں یہی ہے یہاں لوگوں کو انصاف نہیں ملتا۔

میں اکثر سوچتا ہوں اور کئی بار لکھا بھی ہے اللہ کو معلوم تھا دنیا میں اُس کے بندے ایک دوسرے کو انصاف فراہم نہیں کرسکیں گے، کم ازکم پاکستان میں تو نہیں کرسکیں گے، لہٰذا اللہ نے خود ایک ”یوم حساب“ مقرر کیا جسے ہم یوم انصاف بھی کہہ سکتے ہیں، یہ حشر کا روز ہوگا اور دہکتی ہوئی آگ سب سے زیادہ اُن کی منتظرہوگی جنہیں اللہ نے دنیا میں ”منصف“ بناکر بھیجا اور وہ اللہ کے بخشے ہوئے اِس منصب سے انصاف نہ کرسکے، البتہ کچھ لوگوں کو یہاں مرضی کا انصاف ضرور مل جاتا ہے، جیسا کہ ہمارے کچھ سیاستدانوں کو ان دنوں ایک بار پھر اُن کی مرضی کا انصاف فراہم کیے جانے کے اہتمام کیے جارہے ہیں، اِس ضمن میں پورا ایک ڈرامہ رچایا جارہاہے جس کا سکرپٹ کچھ دن پہلے ہی لکھا گیا ہے، .... میں نے کئی بار وزیراعظم عمران خان کو اُن کے واٹس ایپ پر مسیجز کیے کہ آپ حسب عادت بڑے بڑے دعوے کرنا چھوڑ دیں ....” میں اُنہیں نہیں چھوڑوں گا، میں اُنہیں اُلٹا لٹکا دوں گا، میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا، میری حکومت تو کوئی چیز ہی نہیں چاہے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ یہ بچ نہیں سکیں گے کیونکہ میں نے اللہ سے وعدہ کیا ہوا ہے جس جس نے اِس ملک کو لُوٹا میں اُسے نہیں چھوڑوں گا “، بندہ پوچھے آپ کے پلے ہے کیا ؟ آپ سے تو وزارت عظمیٰ کی صرف ”ایکٹنگ“ کروائی جارہی ہے، وہ بھی آپ کو کرنی نہیں آرہی جبکہ گزشتہ ستر برسوں سے چلنے والی فلم کے ” اصل ہیرو“ وہی ہیں جن کے بارے میں صاف لکھنے کی اب ضرورت ہی نہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ اُنہیں جانتا ہے۔ یہ بھی عرض کیا تھا ”جب این آر او دینے کی ضرورت محسوس ہوئی آپ سے پوچھا بھی نہیں جائے گا، آپ کو تو زیادہ سے زیادہ آپ کے ”ملٹری سیکرٹری“ یہ اطلاع دیں گے کہ سر این آر او دے دیا گیا ہے “، اطلاع بھی پتہ نہیں آپ کو دیئے جانے کی ضرورت محسوس کی

جاتی ہے یا نہیں؟ لہٰذا آپ بڑے بڑے دعوے کرنے چھوڑ دیں، بڑی بڑی بڑھکیں لگانا بند کردیں، آپ کو معلوم نہیں آپ کا عدالتی نظام کن کے زیراثر ہے؟ فیصلے کہاں سے نازل ہوتے ہیں؟ آپ اتنے چُوچے یا بچے بھی نہیں آپ کو اِس ضمن میں سمجھانے یا مشورے دینے کی کوئی ضرورت محسوس کرے .... اُنہوں نے میرے مفت کے اِس مشورے پر کوئی عمل نہیں کیا، اب جبکہ اس ملک کو لُوٹنے والوں کو نظریہ ضرورت کے تحت اُن کی بیماریوں کی آڑ میں مختلف اقسام کی رعایتیں یا سہولتیں ملنے کی ابتداءہوچکی ہے تو مجھے یقین ہے محترم وزیراعظم کو اس پر کوئی پچھتاوا شرمندگی اِس لیے نہیں ہوگی جب سے وہ وزیراعظم بنے ہیں تھوڑی بہت جو شرم وحیا وزیراعظم بننے سے پہلے اُن میں ہوا کرتی تھی وہ اب تقریباً ختم ہوچکی ہے، یہ اب شاید صرف اُسی صورت میں بحال ہوسکتی ہے جب اُن کے ساتھ بھی اُسی بدسلوکی، کی ضرورت محسوس کی گئی جو اُن سے پہلے کچھ وزرائے اعظم سے کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی تھی، یہ بات تو شاید حلفاً کہی جاسکتی ہے نواز شریف اینڈ فیملی نے دوران اقتدار خوب لُوٹ مار کی، مگر یہ بات ہرگز حلفاً نہیں کی جاسکتی کہ اُنہیں جو سزا مِل رہی ہے وہ لُوٹ مار کی ہے، ویسے ہمارے ”نام نہاد منتخب وزیراعظموں“ کو اِس ”جرم“ کی سزا ملنی بھی چاہیے کہ جن آقاﺅں کے کندھوں پر سوار ہوکر وہ اقتدار میں آتے ہیں بعد میں اُنہی کی احکامات کو رد کرنا شروع کردیتے ہیں، جبکہ ”آقاﺅں “کی خواہش یہ ہوتی ہے وہ چھینک بھی اُن سے پوچھ کر ماریں ،.... بہرحال بظاہر جو کچھ اب دیکھائی دے رہا ہے اُس کے مطابق محسوس یہی ہورہا ہے پاکستان میں ایک بار پھر لُوٹ مار کرنے والے سیاستدانوں کو این آر او دینے یا ان سے این آر او لینے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ اور سچ پوچھیں یہ اس تناظر میں اُن کا حق بھی بنتا ہے جب دوسرے شعبوں کے کچھ چوروں اور ڈاکوﺅں کو لُوٹ مار کرنے پر پوچھا تک نہیں جاتا، اُنہیں پوچھنا اور سزائیں دینا تو دور کی بات ہے ان کے بارے میں کوئی بات تک کرنے کی جرا¿ت نہیں کرتا تو عدالتوں خصوصاً ”فوجی عدالتوں“ سے سزائیں پانے کے مستحق اس ملک میں صرف سیاستدان ہی رہ گئے ہیں ؟ اور سیاستدان بھی صرف وہ جو سرجھکا کر جتنی چاہیں کرپشن کرتے رہیں یہ اُن کا ”حق“ ہے البتہ اُن کا یہ حق نہیں اپنے آقاﺅں سے اختلاف کریں۔ سو اس ملک میں کرپشن جرم نہیں اختلاف جرم ہے !!


ای پیپر