پاکستانی وزارت خارجہ کا سرمایہ 
29 اکتوبر 2018 2018-10-29

ایک سفارتی ڈنرمیں ملکوں ملکوں کے سفارت کار جمع تھے۔ رسمی آداب و تکلفات اور ڈپلومیٹک قہقہوں کی گونج میں پاکستانی سفیر نے ہنگری کے سفیرسے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنے ملک کانام لیا۔۔۔ پاکستان۔۔۔’’اوہ، پاکستان۔۔۔ ایک مشکل ملک۔۔۔‘‘ جواب ملا۔۔۔ پاکستانی سفیر نے معزز سفارت کار کاہاتھ تھامے رکھا اوربجلی کی سی سرعت سے کہا سر! ہنگری کئی دہائیوں سے سوویت یونین کی ایک سیٹلائٹ سٹیٹ تھا یعنی ایک ایسی ریاست جو بہ ظاہر آزادہو لیکن کسی بڑی طاقت کے اقتصادی اور فوجی تسلط کے زیراثر اپنی آزادی سے محروم ہوچکی ہو، سوویت یونین تحلیل ہواتو ہنگری کو آزادی ملی اورسوویت یونین کو تحلیل کرنے میں پاکستان کے کردارکوکون نظر اندازکرسکتاہے ، اس لیے پاکستان ایک مشکل ملک نہیں ہے جناب ایمبسڈر!یہ کہا اور جناب ایمبسڈر کے ہاتھ کو دوتین جھٹکے دے کر چھوڑدیا ۔۔۔۔۔۔ جناب ایمبسڈر یہ جواب سن کر بھونچکے رہ گئے، اردگردکھڑے سفارت کاروں نے ان کے چہرے پرہوائیاں اڑتی دیکھیں اور اس پاکستانی سفارت کارکو دادتحسین سے نوازا جس نے چند جملوں اور چندلمحوں میں اپنے وطن کانام روشن ہی نہیں کردیا بلکہ اسے ہنگری کا محسن ثابت کردکھایا۔۔۔یہ ایک محبِ وطن سفیرکی سفارت کاری کا نمونہ ہے ۔خوبی قسمت سے پچھلے دنوں ہمیں اس محب وطن سفیر کی سفارت کاری کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اپنے سفارت کاروں کے بارے میں ہمارے ہاں عمومی معاشرتی رائے اچھی نہیں لیکن راقم نے اپنے حالیہ غیرملکی دوروں میں اس عمومی رائے کے برعکس کچھ مشاہدات کیے جن میں’’تناظر‘‘کے قارئین کو بھی شریک کیاجاسکتاہے ۔ہمارا سفر ترکی سے شروع ہوا۔استنبول یونی ورسٹی میں پاکستان اردواور ترکی کے موضوع پر لیکچرہوا اس کے بعد حاضرین مجلس کے سوالات کے جواب دیے گئے ،تاریخی مقامات کی زیارت اور قونیہ میں مولاناروم اور شمس تبریز کے مزارات پر حاضری نیز شمس تبریز کے جوار میں کیے جانے والے خطاب اور سلجوق یونی ورسٹی کے ریکٹرDr Ozdemir Kocakسے ملاقات کے بعد ہم یونان روانہ ہوگئے ،یونان میں چندروزہ قیام میں ہرروزہی کہیں نہ کہیں خطاب کرنا پڑا،یہاں یونانی پارلیمنٹ کے رکن HARRY THEOCHARIS اور دفاعی امورکے تجزیہ کار یونان کے معروف اینکراور نیویارک ٹائمزکے لکھاریATHANASIOS E. DROUGOS Dr کے ساتھ میٹنگز ہوئیں جن کا اہتمام یونان میں پاکستانی سفیر جناب خالدعثمان قیصرنے کیااور وہ خودبھی ان میٹنگزمیں شریک رہے۔ یونان سے ہمارااگلا پڑاؤ اٹلی تھا جہاں یونی ورسٹی آف روم اور نیپلز یونی ورسٹی نیپلزمیں تدریس اردوکے موقوف ہوجانے والے سلسلوں کی بحالی ہمارے پیش نظر تھی ۔ اس مقصد کے لیے ان یونی ورسٹیوں کے حکام اور ذمہ داران کے ساتھ ہونے والی میٹنگز کی تفصیلات بھی قارئین کی خدمت میں پیش کی جائیں گی روم یونی ورسٹی میں اٹالین انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز کی سربراہ الیساندرو بریزی Alessandra Brezziاور ان کے انسٹی ٹیوٹ کے سینیر اساتذہ کے ساتھ ایک تفصیلی میٹنگ ہوئی جس میں پنجاب یو نی ورسٹی اور روم یونی ورسٹی کے درمیان تدریس اردو اور اساتذہ و طلباکے باہمی تبادلے کے معاہدے (ایم اویو )کے امکانات پر غور کیاگیا۔ایسی ہی میٹنگ نیپلز یونی ورسٹی میں ہوئی ۔اٹلی میں بریشیااور میلان بھی جاناہوا ۔اٹلی کے بعد ہمیں ایمسٹرڈم یونی ورسٹی میں خطاب لیے نیدرلینڈ جاناتھا۔ ایمسٹرڈم کی ورجی یونی ورسٹی جسے دانش گاہ تحریر کہا جاسکتاہے، ایک جدیدترین اورآزادترین سرکاری یونی ورسٹی ہے۔ یہاں ہمارے خطاب کاموضوع بڑا دلچسپ تھا Changes in Pakistani Society and their Impact Upon Urdu Literature.یعنی پاکستانی سماج میں آتی تبدیلیوں کا اردوادب پر اثر۔ اس کے بعد ہونے والی سوال و جواب کی نشست بھی یادگاررہی ۔ایمسٹرڈم کے معبدیہودکودیکھنے اور یہود کے عجائب گھر میں جانے کا اور دیگرتاریخی وتفریحی مقامات سے آشنائی کا بھی موقع ملا۔ ان سب کی تفصیل لکھنے کے لیے تو پوری کتاب کی ضرورت ہوگی ۔سردست تواس کالم کے ذریعے ہمیں قارئین تناظرکو ان کی ہفتہ واربزم سے اپنی غیر حاضری کا سبب بتانااور اپنی اس مسرت کا اظہارکرناہے جو حالیہ سفر اور خاص طورپر قیام یونان کے زمانے میں حاصل ہوئی ۔ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس سفر کے دوران طبیعت ایسی حاضررہی کہ 

قریباً سفرکی ہر منزل کے بارے میں ایک نظم بھی ہوگئی .یہ گویا اس ملک یاشہرکے بارے میں ہمارے محسوسات کا شعری اظہارہے ۔

راقم الحروف اپنی غیرملکی ذمہ داریوں اور غیرملکی اسفار کے باعث سفارت خانوں اور سفارت کاروں سے متعلق آگاہ ہوتاہی رہاہے اور ان کے بارے میں اہل وطن کی آراسے بھی ناواقف نہیں ہے لیکن اس بار جو تجربہ ہواوہ ماضی کے تجربات کے مقابلے میں خاصا مختلف ہے ۔یونان میں سرکاری طور پر تقریباً چھبیس ہزار پاکستانی ہیں جب کہ غیرسرکاری اعدادوشمار کے مطابق یہاں پاکستانیوں کی تعداد پچاس ہزارسے بھی زیادہ ہے۔ یونان کی طرف پاکستانی تارکین وطن کے زیادہ رجوع کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے یورپ میں داخلے کا ذریعہ بناتے ہیں ۔کسی نہ کسی طرح یہاں پہنچ کر یہاں سے آگے دوسرے یورپی ممالک کی طرف نکل جاتے ہیں اور جنھیں موقع ملتاہے وہ یہیں رہ جاتے ہیں ۔یونان کے پاکستانی سفارت خانے میں پچھلے پانچ برسوں میں پاسپورٹ بنوانے کی اڑتیس ہزار درخواستیں موصول ہوئیں ۔جہاں انسانوں کی جتنی زیادہ تعدادہوتی ہے اتنے ہی مسائل ہوتے ہیں۔ماضی میں یہاں سفارتی ذمہ داریاں اداکرنے والے پاکستانی حکام کا رویہ بوجوہ سخت بلکہ درشت رہاجس کے باعث یونان میں پاکستانیوں کی سفارت خانے اور سفارتی حکام تک رسائی دشوار رہی۔ اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض عناصرنے سفارت خانے سے متعلق کام کروانے کے لیے اپنے گروپ بنالیے اور تارکین وطن سے بھتہ وصول کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس ایجنٹ مافیا نے رشوت، سفارش اور کرپشن کی کئی شکلوں کو جنم دیا۔یونان میں جب موجودہ سفیر کاتقررہواتو اس وقت پاکستانی سفارت خانے کے باہر اہل وطن دھرنادیے بیٹھے تھے اور انھیں شکایت تھی کہ سفارت خانہ ان سے یتیموں کا ساسلوک کرتاہے ان کے مسائل حل نہیں کیے جاتے سفارت خانے کے دروازے ان پر بندہیں یہاں آنے والوں کو عام انسانی سہولتیں بھی فراہم نہیں کی جاتیں ۔ان حالات میں یہاں پر کسی قابل اور تجربہ کار سفارت کار کی ضرورت تھی چنانچہ حکومت پاکستان نے درست طور پر وزارت خارجہ کے ایک سینیرڈپلومیٹ جناب خالد عثمان قیصر کا انتخاب کیا جو اس سے پہلے تیونس ،برطانیہ،جرمنی ،تاجکستان اورآذربائیجان میں سفارتی خدمات انجام دے چکے تھے اور فارن سروسزاکیڈیمی کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر پاکستانی اور غیرملکی سفارت کاروں کی تربیت و راہ نمائی کا بھی تجربہ رکھتے تھے ۔یونان ایک دشوار گزار اور چیلنجزسے بھراہوا اسٹیشن تھا ۔جب موجودہ پاکستانی سفیر نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو یونان کے سفارتی حلقوں میں اہل وطن کے ساتھ پاکستانی سفارت خانے کا رویہ ایک مذاق بناہواتھا۔ان حالات میں نئے سفیر کا منصب سنبھالتے ہی ا نھوں نے سب سے پہلے پاکستانیوں کی عزت نفس کو بحال کیا۔راقم الحروف اپنے حالیہ سفر کے دوران جس پاکستانی ادارے یا کسی ایسے عوامی مقام پر گیا جہاں پاکستانیوں کی آمدورفت تھی تو وہاں ایک نوٹس لگاہوا دیکھا جس پر ایک موبائل فون نمبر درج تھا جس کے ساتھ یہ ہدایت بھی تھی آپ کو پاکستانی سفارت خانے سے متعلق کوئی کام یا شکایت ہوتو اس نمبر پر میسج کیجیے ۔یونان کے پس منظر میں یہ ایک انقلابی قدم تھا۔سفیر پاکستان نے اس نمبر کو بذات خود دیکھنا شروع کیایوں انھیں پاکستانی تارکین وطن کے مسائل کی حقیقت و نوعیت سے براہ راست آگاہی ہوئی اور انھوں نے ان کے مسائل کے حل کاآغازکیا اب اس نمبرکو سفارت خانے کے سسٹم کا حصہ بنادیاگیاہے اور ڈپٹی ہیڈ آف مشن براہ راست اس کی نگرانی کرتے ہیں ۔پاکستان سے آنے والے معزز علما، صحافیوں،تاجر وں اور عوام کی عزت نفس کوکس طرح بحال کیا گیا اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ راقم نے اپنے قیام یونان کے دوران ایک معزز خطیب کی یہ تقریربھی سنی کی ہم پاکستانی یونان میں لاوارث تھے موجودہ سفیر پاکستان کے آنے سے ہمیں یوں لگاجیسے ہم یتیمیوں کو اپنا باپ مل گیاہو۔مجھے کسی نے بتایاکہ یہ صاحب ان لوگوں میں شامل تھے جوموجودہ سفیر کے تقررکے وقت پاکستانی سفارت خانے کے باہردھرنا دیے بیٹھے تھے ۔کسی پاکستانی سفیر کی اتنی پذیرائی کم از کم ان سطور کے راقم نے کبھی نہیں دیکھی۔یونان میں کئی سالوں سے پاکستانیوں کے خلاف نسلی تشدد جاری تھااور اس کی آڑ میں سیاسی و معاشی دھندے کا ایک اور روپ جنم لے چکاتھانئے سفیرنے ان گروہوں کے ساتھ مذاکرات کرکے اس سلسلے کو بندکروایاراقم نے دیکھاہے کہ بیرون وطن عام طورسے اور مغربی ممالک میں خاص طور پر پاکستان اور اہل پاکستان کے بارے میں اچھی رائے نہیں پائی جاتی اس عمومی رائے کو بدلنے کے لیے خاصی محنت کی ضرورت ہے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ یونان میں موجودہ پاکستانی سفیرنے نہ صرف عوامی سطح پر پاکستانیوں کے مسائل کوحل کیا بلکہ پاکستان اور اہل پاکستان کے بارے میں عمومی رائے کو بہتر بنانے کے لیے بھی عملی کوششیں کیں۔ کشمیرکازکو صحیح معنوں میں اجاگر کیا اور مختلف عالمی معاملات پر پاکستان کے موقف کی بہترین نمائندگی کی جس کے نتیجے میں انھیں غیرمعمولی مقبولیت حاصل ہوئی جہاں پھول وہاں کانٹے اس غیرمعمولی مقبولیت کے ساتھوہ لوگ جوناجائز ذرائع سے دولت کمارہے تھے ،مخالفت پر بھی اترآئے۔یونان ،رومن کیتھولک عقائد رکھنے والا ملک ہے، یہاں پاکستان سے صرف مسلمان نوجوان ہی نہیں عیسائی اہل وطن بھی جاتے ہیں ،یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ہر تقریب میں پاکستانی کرسچین کمیونٹی کے نمائندے بھی شریک ہوتے ہیں اور سفیر پاکستان کی جانب سے انھیں بھی پورا پروٹوکول دیاجاتاہے ۔اس صورت حال میں سفیرصاحب کے مزاج کو بھی دخل ہے ایک کیریر ڈپلومیٹ ہونے کے باوصف وہ ایک عوامی مزاج کے حال سفیرثابت ہوئے ہیں جہاں بھی انھیں کوئی پاکستانی اپنے کسی مسئلے کی جانب متوجہ کرتاہے وہ اسی وقت اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری احکام جاری کردیتے ہیں اور سائل کے گھر پہنچنے تک اسے سفارت خانے کے ردعمل کی اطلاع مل جاتی ہے ۔ راقم کی رائے میں ایسے افسران پاکستانی وزارت خارجہ کا سرمایہ ہیں،یونان میں مختلف فورموں پر مقررین کی جانب سے راقم سے مطالبہ کیاگیاکہ وہ حکومت پاکستان تک یونانی تارکین وطن کی یہ درخواست پہنچائے کہ یونان میں موجودہ سفیر پاکستان کو ان کی مدت ملازمت میں توسیع دی جائے تاکہ وہ اپنے ان انقلابی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھ سکیں جن کا سطورگزشتہ میں ذکرہوا۔ اس مطالبے پر راقم کو علامہ اقبال کا وہ خط یاد آیا جوانھوں نے پنجاب یونی ورسٹی کے وائس چانسلرکو اس وقت لکھاتھا جب حافظ محمود شیرانی ریٹائر ہونے والے تھے ۔علامہ نے ۷۱؍اپریل ۸۳۹۱ء کواپنے مراسلے میں لکھا تھا کہ’’جس عمر میں شیرانی صاحب کو سبک دوش کیاجارہاہے حقیقت میں یہی عمر ان سے استفادہ کرنے کی ہے اور اس مرحلے پر ان کی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ بدنصیبی کی دلیل ہوگا‘‘۔


ای پیپر