کیا مولانا فضل الرحمان حزب اختلاف کو متحد کر سکیں گے؟
29 اکتوبر 2018 2018-10-29

عمران خان نے اقتدار سنبھالے تقریبا ڈھائی مہینے ہونے کو ہیں،لیکن ملک میں سیاسی انتشار عروج پر ہے۔حالانکہ قومی انتخابات کے بعد وفاق اور چاروں صوبوں میں پر امن طریقے سے انتقال اقتدار کے بعد سیاسی بے چینی کو ختم ہونا چاہئے تھا۔صدرمملکت اور چاروں صوبوں میں گورنرز بھی تبدیل ہو چکے ہیں، اس تبدیلی کے اثرات عملی سیاست میں نظر آنے چاہئے تھے،لیکن بو جہ سیاسی درجہ حرارت سرد موسم میں بھی مسلسل گر می کی طرف بڑھ رہی ہے۔ممکن ہے کہ سیاسی درجہ حرارت میں گر می کی ایک وجہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے سربراہ اور مسلم لیگ(ن)کے صدر میاں شہباز شریف کی گر فتاری ہو۔ایک وجہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کی متوقع گر فتاری بھی ہو سکتی ہے۔لیکن ان دو وجوہات کے ساتھ ساتھ تیسری وجہ خود حکومت کی ’’زبان درازی‘‘ بھی ہے۔وزیر اعظم عمران خان خود ’’ زبان دراز برگیڈ‘‘ کے سر خیل ہے۔جو کسر با قی رہ جاتی ہے وہ وفاقی وزیر اطلا عات فواد چوہدری پوری کر دیتے ہیں۔

اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ابھی تک عوام کو کوئی سہولت نہیں دی ۔اس لئے کسی حد تک پارٹی کارکنوں اور کافی حد تک ووٹرز میں اضطراب پایا جارہا ہے۔بجلی ،گیس اور ایل این جی کی قیمتوں میں اضا فے سے مہنگائی کا جن دہشت گر دوں کی طر ح دندناتے پھر رہا ہے۔لیکن وزیر اعظم عمران خان ،وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور تحریک انصاف کے کارکن عوام کو تسلی دے رہے ہیں کہ یہ سب مشکلات عارضی ہیں۔بس ایک سال صبر کرنا ہے ،سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جو کچھ عمران خان کاٹ رہے ہیں ،وہ پرویز مشرف ،آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کا بو یا ہوا ہے۔اس وجہ سے عوام کی اکثریت ایک سال صبر پر قناعت کرنے پر راضی ہو رہی ہے۔

ڈھائی مہینے بعد ملک میں سیاسی درجہ حرارت کو اب ٹھنڈا ہونا چا ہئے تھا ،لیکن حا لا ت معمول پر آنے کی بجائے درجہ حرارت میں مسلسل اضا فہ ہو رہا ہے۔ان حالات میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا مو لانا فضل الرحمان، میاں نوا ز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان فا صلوں کو کم کرکے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو متحد کر سکیں گے؟اگر وہ اس کو شش میں کامیاب بھی ہو جائے تو کیا عمران خان کو قبل از وقت وزارت عظمیٰ سے بے دخل کر سکیں گے؟جہاں تک تعلق ہے ،میاں نوا ز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان مو جود تلخیوں کو کم کرنے کا تو اس کا امکان نہیں۔اس لئے کہ آصف علی زرداری کے جتنے بھی دوست اس وقت پابند سلاسل ہے یا ان پر مقدمات ہیں،وہ میاں نوا زشریف کو اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ڈاکٹر عاصم حسین اور شرجیل میمن پر قائم مقدمات کا ذمہ دار وہ میاں نوا ز شریف اور ان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کوہی سمجھتے ہیں۔اس لئے ذاتی معاملات میں شریف خاندان اور زرداری خاندان میں تعلقات اس حد سے آگے جا چکے ہیں کہ جس میں صلح کی گنجائش مو جود ہو تی ہے۔اس لئے یہ ایک سعی لا حا صل ہے۔بہر کیف مو لانا فضل الرحمان نے اپنے آپ کو پانچ سال مصروف رکھنے کے لئے بہانے تلاش کرنے ہیں،ان مشاغل میں ایک شریف خاندان اورزرداری خاندان کے درمیان صلح شامل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

رہی بات مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی پارلیمان میں متحد ہو نے کا تو اس کا جواب بھی نفی میں ہے۔یہ حقیقت ہے کہ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) اس وقت سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے۔پنجاب میں وہ ایک مضبو ط اپوزیشن ہے۔لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پیپلز پارٹی سندھ میں بر سر اقتدار ہے۔اس لئے وہ اقتدار کا سودا کبھی نہیں کریں گے۔جبکہ مسلم لیگ (ن) پورے ملک کہیں بھی اقتدار میں نہیں۔دوسرا پیپلز پارٹی اس حقیقت سے بھی بخوبی واقف ہے کہ حالات کچھ بھی ہوں مرکز میں اقتدار ان کو ملنا نہیں،اس لئے وہ مو لانا فضل الرحمان کے ساتھ کبھی بھی اس حد تک متحد ہونے پر تیار نہیں ہو نگے کہ عمران خان کی بجائے میاں شہبا زشریف کو وزیر اعظم بنا یا جائے۔

ایک صورتحال یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مو لانا فضل الرحمان حز ب اختلاف کو متحد کرنے میں کامیاب ہو جائے،لیکن اس صور ت میں ان کی خواہش کی تکمیل ممکن نہیں۔یعنی وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اور اس کی کا میابی ۔لہذا ایسی کا میابی کا کیا کہ جس میں انسان کی پہلی اور آخری خواہش پوری نہ ہو۔ اس اتحاد سے مو لانا کے کندھوں پر صرف بو جھ میں اضا فہ ہو سکتا ہے۔ان کو صرف ایک اور عہدہ مل جائے گا۔صدر متحدہ اپوزیشن ۔

مو جودہ سیاسی صورتحال میں لگ ایسے رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دو الگ کشتیوں کے سوار ہیں۔دونوں حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج یا کسی بڑے عوامی احتجاج کے لئے بالکل تیار نہیں۔مسلم لیگ (ن) قومی اور پنجاب اسمبلی میں بھر پور احتجاج جاری رکھے گی۔یہ سلسلہ پانچ سال تک چلتا رہے گا۔اگر میاں شہباز شریف کو رہا کر دیا جاتا ہے تو ممکن ہے کہ اس کی شدت میں بھی کمی ہو جائے۔اس کے بعد بھی اگر مسلم لیگ (ن) کے ارکان پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا تو فرینڈلی اپوزیشن کے طعنے سے بچنے کے لئے میاں شہباز شریف قومی اسمبلی اور حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں علامتی احتجاج پر ہی گز ارا کریں گے۔اس دوران مو لانا فضل الرحمان کے ارکان اسمبلی مسلم لیگ (ن) کی بی ٹیم کا کردار ادا کریگی۔پیپلز پارٹی حا لات کے مطابق ساتھ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کریگی۔حقیقی صورت حال یہی ہو گی کہ حزب اختلاف کے دو بڑی پارلیمانی جماعتوں کے درمیان چوہے ،بلی کا کھیل پانچ سال تک ہی جاری رہے گا۔اس دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بھی نو ک جھونک ہوتی رہے گی۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ مو لا نا فضل الرحمان ان پانچ سالوں میں اس ناممکن کو ممکن بنانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کی کو شش کریگا،لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ہی ان کو ششوں کو ناکام بنا ئے گی،ورنہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ’’زبان دراز بر گیڈ‘‘ بار بار ان کو مواقع فراہم کر تے رہیں گے۔مو لانا کی خا موشی ایک صورت میں ممکن ہے اور وہ ہے حکومت کی کارکر دگی،لیکن حکومتی کارکردگی کے اثرات محسوس کر نے کے لئے ابھی دوسال تک انتظار کرنا ہو گا۔اس لئے دوسال تک سیاست کا میدان گرم ہی رہے گا،لیکن حزب اختلاف منتشر رہی گے۔جس کا فائدہ اپوزیشن کی بجائے حکومت کوہی ہو گا۔


ای پیپر