سپریم کورٹ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کا فیصلہ 6 ہفتے میں کرنے کی ہدایت کر دی
29 اکتوبر 2018 (16:17) 2018-10-29

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس سے متعلق کراچی کی ٹرائل کورٹ کو 6 ہفتے میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی ۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایگزٹ جعلی ڈگری کیس کی سماعت کی تو اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے چار مقدمات ہیں جن میں سے 2 کراچی، ایک اسلام آباد اور ایک پشاور میں ہے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسلام آباد والے کیس میں ایگزیکٹ نے مقدمہ ختم کرنے کی درخواست دائر کر رکھی جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا، کراچی میں 2015 سے معاملہ زیر التواہے، تاخیر کیوں ہوئی ہے۔ایگزٹ کے وکیل بشیر میمن نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر نے بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد والے کیس میں سزا معطل اور کراچی کے دوسرے کیس میں ضمانت ہوگئی جب کہ پشاور میں کیس کا ٹرائل ہی نہیں ہونے دیا گیا۔جس پر چیف جسٹس نے ان سے مکالمے کے دوران کہا کہ آپ نے سزا معطل کرادی، سزا معطلی کا تو رواج ہی بن گیا ، شعیب شیخ نے ملک کی بہت بدنامی کی ان کا ٹرائل سپریم کورٹ میں ہی ہوگا۔

عدالت نے کراچی کی ٹرائل کورٹ کو ایک کیس کا فیصلہ 6 ہفتے اور دوسرے کیس کا 3 مہینے میں کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ اگر فیصلہ نہ کیا تو وضاحت دینا پڑے گی۔ کیس کی مزید سماعت 31 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔دنیا بھر میں جعلی ڈگری کا کاروبار کرنے والی کمپنی ایگزیکٹ کے کالے دھند کا انکشاف 18 مئی 2015 کو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے کیا۔ایگزکٹ کا جعلی ڈگریوں کا اسکینڈل دنیا بھر میں پاکستان کے لیے بدنامی کا باعث بنا کیونکہ ایگزیکٹ جعلی ڈگریوں، پیسے چھاپنے اور لوگوں کو بلیک میل کرنے کا کاروبار دنیا بھر میں پھیلا چکی تھی۔چیف جسٹس پاکستان نے بھی ایگزیکٹ کے بدنام زمانہ جعلی ڈگری سکینڈل کا از خود نوٹس لے رکھا ہے۔


ای پیپر