NAB, organization, Saleem Mandviwalla, Imran Khan, General Bajwa
29 نومبر 2020 (14:30) 2020-11-29

اسلام آباد: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ نیب بلیک میلنگ آرگنائزیشن ہے، نیب نے مجھ پر الزام لگایا میں نے بے نامی ٹرانزیکشن کی ہے، فیملی کی مدد کیلئے منگلا کور کی زمین پر ٹرانزیکشن کی تھی، ہم سینیٹ کی کمیٹی میں ان الزامات کی تحقیقات کریں گے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ مجھ پر الزامات دراصل پاک فوج کے ساتھ ہوئے منگلا کور کے لئے زمین پر ہیں، مجھ پر بے نامی کا مطلب پاک فوج پر بے نامی کے الزامات ہیں۔ سینیٹ کی کمیٹی اس ساری تحقیقات کو میڈیا کے سامنے اوپن کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ میرے خلاف اور دس کیس کریں میں عدالتوں میں لڑوں گا۔ میں وزیر اعظم عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملوں گا، پلی بارگین کے نام پر لوگوں سے زبردستی پیسے لیے گئے، وزیراعظم، آرمی چیف کو بھی خط لکھ چکا ہوں، آرمی چیف نے یقین دلایا کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی، وزیراعظم نے بھی یقین دہانی کرائی زیادتی نہیں ہو گی۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ہم نیب کے افسران کے اثاثے ظاہر کرنے کا سینیٹ میں مطالبہ کریں گے، نیب افسران سے اثاثے ظاہر کراوں گا۔ جن جن لوگوں نے پلی بار گین کی ان کو سینیٹ میں بلا کر سنیں گے، نیب قانون میں ترمیم ہو کر رہے گی۔ میں نے پوری کاروباری برادری کو کہا ہے کہ آئیں ملکر نیب کے باہر احتجاج کریں۔

انہوں نے کہا کہ میں اب حکام کو صرف خط نہیں لکھوں گا ان خطوط کو میڈیا پر لاؤں گا، میں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو جو خط لکھا تھا اس کا مثبت جواب آیا ہے۔ جنرل باجوہ نے کاروباری برادری کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ نیب کاروباری اداروں کو بتاتا ہے آپ کو بزنس کیسے کرنا ہے، اتنے زیادہ پیکجز دینے کے باوجود کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں۔

فوج کو بدنام کرنے کے لئے نیب کے پیچھے کون ہے صحافی کے سوال کے جواب میں سلیم مانڈوی والا نے کہا یہی تو میں جاننا چاہتا ہوں کہ نیب کے پیچھے کون ہے۔ ہمارے جیسے لوگوں کا یہ حال ہے تو عام آدمی کا کیا ہوگا، میں اس معاملے کو یورپی یونین لیکر جاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب نے کاروباری لوگوں کو بلیک میل کرنے سے بچانے کا وعدہ کیا مگر عمل نہیں کیا، کاروباری لوگوں کو پلی بار گین اپنی عزت بچانے کے لئے کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب کو بلیک میلنگ کا ادارہ قرار دیا ، نیب ملین روپے اکٹھے کرکے اربوں روپے ملک کے برباد کر چکا۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حکومت نے نیب قوانین میں ترامیم کیں، حکومت نے یقین دلایا تاجروں کو سہولتیں دیں گے، لوگ اپنی عزت بچانے کیلئے پلی بارگین کرتے ہیں، چیئرمین نیب نے کہا تھا تاجروں کو تکلیف نہیں ہونے دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ عرفان منگی جیسے نیب افسران کہتے ہیں وہ پاک فوج کے کہنے کے مطابق کام کر رہے ہیں، کیپٹن ر اعجاز ہارون کو مجھ سے جوڑا گیا، مجھے کہا گیا کہ اعجاز ہارون سے کہیں پلی بار گین کریں ورنہ آپ تک پہنچیں گے۔ میں عرفان منگی کی تحقیقات خود کروں گا، انجینئر عرفان منگی اتنے سالوں سے کیوں اسی جگہ بیٹھا ہے۔

میں نیب کی حراست میں مرنے والوں اور پیسے دینے والوں کی وجوہات سامنے لاؤں گا۔


ای پیپر