PDM, jalsa, Multan, government opposition, Bilawal, Maryam
29 نومبر 2020 (13:09) 2020-11-29

ملتان: جلسہ ہوگا یا نہیں؟ پی ڈی ایم اور حکومت آمنے سامنے، بغیر اجازت جلسہ کرنے پر پولیس نے علی قاسم گیلانی سمیت 30 افراد کو حراست میں لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس نے علی قاسم گیلانی سمیت متعدد کارکن گرفتار کر لیے، ڈپٹی کمشنر ملتان نے 16 ایم پی او کے تحت 30 دن کی نظر بندی کا حکم دیدیا۔ پولیس نے قلعہ کہنہ قاسم باغ گراؤنڈ کا کنٹرول سنبھال لیا، کنٹینر لگا دیئے اور جلسے کیلئے لایا گیا سامان بھی اٹھوا دیا۔

خیال رہے کہ ملتان کا قلعہ کہنہ قاسم باغ اسٹیڈیم رات بھر میدان جنگ بنا رہا، اپوزیشن جماعتوں کے کارکن تمام رکاوٹیں توڑ کر اسٹیڈیم میں داخل ہوگئے۔ پولیس نے عالمی وبا کے ایس او پیز کی خلاف ورزی ، ریلی نکالنے اور اسٹیڈیم میں توڑ پھوڑ کرنے کے جرم میں 70 نامزد اور 300 نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے ٹویٹ میں جلسہ ہر صورت کرنے کا اعلان کر دیا، کہتے ہیں چاہے کچھ بھی ہوجائے، 30 نومبر کو پی ڈی ایم کی میزبانی کریں گے۔ آصفہ بھٹو ان کی نمائندگی کے لئے ملتان پہنچ رہی ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ حکومت پیپلزپارٹی کے پنجاب میں یوم تاسیس کو دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔

ادھر مولانا فضل الرحمان نے بھی صاف کہہ دیا کہ انتظامیہ جو مرضی کرلے حکومت مخالف تحریک جاری رہے گی۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے جاتی امرا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے والد نواز شریف نے انہیں ہدایت کی ہے کہ ملتان جلسے میں ضرور شرکت کرنا اور کارکنوں سے خطاب بھی کرنا اس لیے وہ ملتان جلسے میں ہر صورت جائیں گی۔

مریم نواز نے کہا کہ دادی کی وفات سے وہ بہت غمزدہ ہیں لیکن عوام کے حق کی بات کرنا بھی ضروری ہے۔


ای پیپر