Maryam Nawaz, fight, political war, death, grandmother
29 نومبر 2020 (12:12) 2020-11-29

مریم نواز دادی کی وفات کے بعد جاتی عمرہ میں تعزیت کے لئے آئے ہوئے اخبار نویسوں کے ساتھ ملاقات کے دوران غم گرفتہ بھی تھیں اور پرعزم بھی۔ انہوں نے کہا لندن سے والد نے انہیں ہدایت کی ہے ملتان کے جلسہ عام میں ضرور پہنچوں اور خطاب بھی کروں۔ میں اپنا اپنے والد کا آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کی حکمرانی کا مشن لے کر پی ڈی ایم کی تحریک میں بھرپور کردار ادا کرتی رہی ہونگی۔ اس سے پہلے جن حالات میں ماں کی جدائی کا غم برداشت کیا وہ ناقابل بیان ہے۔ اب دادی جان جیسی شفیق ہستی چلی گئی ہے۔میاں نواز شریف غیر آئینی حکمرانوں کے جبر کی وجہ سے اپنے والد کی میت کے ساتھ پاکستان آسکے تھے نہ اپنے ہاتھوں سے والدہ کو سپردخاک کر سکیں گے۔ ہمارا خاندان جس ابتلا میں مبتلا کر دیا گیا ہے، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہیں گے۔ انہوں نے بتایا پشاور کے جلسہ عام کے دوران انہیں قطعی خبر نہ تھی کہ دادی جان اس دنیا سے رخصت ہو گئی ہیں۔ وہ بلاول ہائوس میں بیٹھی تقریر کے لئے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں اچانک مریم اورنگزیب نے آکر کان میں کہا آپ کی دادی جان کی طبیعت بہت خراب ہے۔ میں اس کے چہرے کے تاثرات سے سمجھ گئی اصل بات کیا ہے۔ اس نے گلوگیر لہجے میں میرے خدشے کی تصدیق کر دی۔ خبر بجلی بن کر مجھ پر گری۔ حکمرانوں کا فرض تھا مجھے بروقت اطلاع کر دیتے تو میں سنبھل جاتی۔ انہوں نے غالباً یہ سوچا یہ تقریر کر لے۔ اس کے بعد ہم کہہ سکیں گے۔ اس نے دادی کی موت کے باوجود تقریر کا شوق پورا کیا اور اتنے بڑے صدمے کی پرواہ نہ کی۔ اب جو واقعے کے اڑھائی گھنٹے کے بعد مریم اورنگزیب نے مجھے اطلاع دی تو میں نے اپنے آپ کو تقریر کے قابل نہ پایا۔ اس وقت بلاول بھٹو خطاب کر رہے تھے۔ معاً بعد میری باری تھی۔ میں نے سٹیج سیکرٹری میاں افتخار حسین سے کہا بلاول سے کہیں ایک منٹ کے لئے مجھے مائیک دے دیں تاکہ میں حاضرین کو بتا سکوں۔ بلاول سنتے ہی تقریر روک کر ذرا پیچھے ہٹ گئے۔ میں نے سامنے آکر حاضرین جلسہ کو بتایا میری دادی کا انتقال ہو گیا ہے۔ لاہور واپس جارہی ہوں، خطاب نہ کر سکوں گی۔ حکمرانوں کا منشا پورا نہ ہوا جو اتنے منتقم مزاج ہیں کہ جیل میں مجھے فندش شدہ ادویات اور چوہوں کا منہ لگا کھانا دینا چاہتے تھے۔ اسی لئے میں 

نے والد کو مشورہ دیا ہے وہ میت کے ساتھ واپس نہ آئیں۔ اپنی والدہ کو والد کی مانند دیار غیر سے ہی رخصت کریں۔ دادی کی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا مرحومہ کی اپنی اولاد کے لئے مادرانہ شفقت کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ بیٹے نواز کے ساتھ بے پناہ محبت تھی۔ مشکل ترین حالات میں ڈھارس بندھاتی تھیں۔ شہباز صاحب کو مسلسل نصیحت کرتی رہیں ہمیشہ بھائی کے ساتھ کھڑے رہنا۔ شہباز شریف نے اس نصیحت کا اس طرح پاس و لحاظ کیا کہ آج بھی بھائی کی خاطر جیل کی سزا بھگت رہے ہیں حالانکہ جیسا کہ سب جانتے ہیں ان کا نقطہ نظر قدرے مختلف ہے۔ وہ اس کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن مشکل وقت میں نوازشریف کے بیانیے کے ساتھ آن کھڑے ہوتے ہیں ،ساتھ نہیں چھوڑتے ہیں۔ آج کی بات نہیں خاندان کے کاروباری معاملات میں بھی آپس کی میٹنگوں میں جب کوئی مسئلہ زیربحث آتا تھا تو شہباز صاحب کا اپنا ذہن ہوتا تھا کھل کر رائے دیتے تھے لیکن پابندی بڑوں کے فیصلوں کی ہی کرتے تھے۔ آج بھی وہ اور حمزہ دونوں نواز شریف کی طاقت بن کر جو جیل کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں تو اس میں ہماری دادی جان کی تربیت کا بہت کچھ حصہ ہے۔ وہ بیٹے نواز کے ساتھ والہانہ محبت کرتی تھیں۔ میرے ساتھ بھی بے پایاں شفقت کرتی تھیں۔ آج ہم سب ان کی سرپرستی اور دعائوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ تاہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ غیر آئینی نظام اور اس کے مسلط کردہ حکمرانوں کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر کے دم لیں گے۔ نماز جنازہ کے دو روز بعد ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہو گا میں وہاں ضرور جائونگی۔ مسلم لیگ (ن) پوری مقامی افرادی قوت کے ساتھ اس میں حصہ لے گی۔ تمام رکاوٹوں کو دور کر کے جلسہ گاہ پہنچیں گے۔ کسی قسم کی پابندی کی پرواہ نہ کریں گے۔ غیر جمہوری ہتھکنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

یہ جلسہ کل بروز سوموار ملتان میں منعقد ہو رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اس کی میزبانی کرے گی۔ پی ڈی ایم کی گیارہ جماعتیں اور ان کی لیڈرشپ لنگر لنگوٹ کس کر اپنی اپنی عوامی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس میں شرکت کیلئے تیاریاں کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے بھٹو زرداری خاندان کے ایک اور نوجوان فرد آصفہ بھٹو کو بھی میدان سیاست میں اتارا جا رہا ہے۔ وہ 

بھی تقریر کریں گی۔ لہٰذا پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا جوش و خروش دیدنی ہو گا۔ مولانا فضل الرحمن کی قیادت بھی حسب معمول اپنے جوبن پر ہو گی۔ مسلم لیگ (ن) پہلے سے کشتیاں جلا کر بیٹھی ہوئی ہے۔یوں ملتان کا کل ہونے والا جلسہ اپوزیشن الموسومہ بہ پی ڈی ایم کی جنوبی پنجاب میں طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ ہو گا۔ دوسری جانب حکومت بھی جس نے کرونا کی فضا میں گوجرانوالہ، کراچی ، کوئٹہ کے جلسہ ہائے عام تو چار و لاچار ہونے دیئے اب اس مہلک بیماری کی آڑ لے کر ملتان کے جلسے کے انعقاد کو ہر حالت میں روکنا چاہتی ہے۔ جلسہ گاہ قاسم باغ کی چاروں جانب کنٹینر کھڑے کر دیئے گئے ہیں۔ پولیس فورس پوری طرح حرکت میں ہے۔ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے مقامی لیڈروں اور کارکنوں کی گرفتاریاں تک ہو چکی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی وزراء نے پی ڈی ایم کی لیڈرشپ کو نشانہ بنا کر الفاظ کی گولہ باری کا دھواں دار سماں باندھ دیا ہے۔ یہاں تک کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی زوردار بیان داغ دیا ہے کہ جلسے کے انعقاد کی ہرگز اجازت نہ دی جائے گی۔ حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے آن کھڑی ہوئی ہیں، ٹکرائو ہوتا نظر آرہا ہے۔ بڑا تصادم جنم لے سکتا ہے، پولیس لاٹھی چارج کرے گی، آنسو گیس کے گولے پھینکے گی، اپوزیشن کے کارکنان زخمی اور بے ہوش ہونگے۔ اموات کا بھی خدشہ ہے۔ یوں ایک بڑا سیاسی طوفان جنم لے سکتا ہے جس سے پورے ملک کے اندر ایسی ہلچل پیدا ہو گی جو سیاست کو ایسے رخ پر لے جا سکتی ہے جس سے حکومت کا نقصان زیادہ ہو گا۔ اپوزیشن فائدہ میں رہے گی کیونکہ اس کی تحریک کو بہت بڑی مہمیز ملے گی۔ اس وقت ہفتہ کی دوپہر کو جبکہ یہ سطور لکھی جا رہی ہیں ٹیلیویژن سکرین پر پی پی پی اور لیگ کے کارکنوں پر مشتمل ملتان میں ایک بڑی ریلی کی خبر دی جا رہی ہے جو قاسم باغ کے گرد جمع ہو کر پولیس کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں اور ابھی سے تمام رکاوٹوں کو اٹھا پھینکنے پر اترے ہوئے ہیں۔آخری خبریں آنے تک جیالوں نے تمام رکاوٹیں ملیامیٹ کر کے قاسم باغ پر قبضہ جما لیا ہے۔ 13دسمبر کو لاہور میں جلسے کے انعقاد تک پہنچتے پہنچتے حالات زیادہ بگڑ سکتے ہیں پھر اس کا بھی امکان ہے سیاسی کارکنان لاہور، ملتان اور راولپنڈی وغیرہ نہیں ملک کے کونے کونے سے سڑکوں پر نکل آئیں ، ہنگامے شروع ہو جائیں۔ ہنگامی صورتحال پیدا ہو جائے، امن عامہ کا مسئلہ گھمبیر ہو جائے، حکومت کا فرض ہی نہیں اس کا اپنا مفاد تقاضا کرتا ہے کہ معاملات کو ایسے کسی موڑ تک پہنچنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کرے ورنہ پی ڈی ایم والوں کا دعویٰ درست ثابت ہو سکتا ہے کہ 13دسمبر کو لاہور کے جلسے کے بعد اسلام آباد تک مارچ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

حکومت کے پاس پی ایم ڈی کے جلسے روکنے کے حق میں سب سے بڑی دلیل کرونا کی وباء ہے، جس کے بارے میں حکومت وزراء اور ترجمان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ مسلسل متنبہ کر رہے ہیں کہ اگر عوام کا جم غفیر ایک جگہ جمع ہو گیا تو وبا کے تیزی کے ساتھ پھیلنے اور شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لینے کے بہت امکانات ہیں لہٰذا پابندی ضروری ہے لیکن اپوزیشن کا موقف ہے آپ خود جلسے کریں، وزراء ریلیاں نکالیں، بازاروں اور مارکیٹوں پر رش کنٹرول نہ کر سکیں، لاہور میں مینار پاکستان پر اتنا بڑا جنازہ کرنے کی اجازت دے دی گئی کہ شرکاء کے ریکارڈ ٹوٹ گئے، جس روز پشاور میں ہمارا جلسہ تھا اسی روز سوات میں جماعت اسلامی کے عوامی اجتماع کے انعقاد کو روکا نہ گیا لیکن ہمارے اجتماعات کو روکنے کی خاطر تمام سرکاری وسائل استعمال کئے جا رہے ہیں۔ جلسے کرنا اور جلوس نکالنے کااگر آپ کو حق حاصل ہے، آپ کی فرینڈلی اپوزیشن کو ان کی اجازت ہے مگر ہم احتجاج کا اپنا سیاسی اور آئینی حق استعمال کرنا چاہتے ہیں تو آپ کرونا کی آڑ لے کر سامنے آن کھڑے ہوئے ہیں۔ آپ کے مقاصد سیاسی ہیں۔ ہمارے غیر معمولی طور پر بڑے عوامی جلسے آپ سے ہضم نہیں ہو پا رہے ہیں۔ اگر نوبت اسلام آباد تک مارچ کی آگئی تو آپ سے مقابلے میں کھڑا نہیں رہا جائے گا۔ اس لئے حکومتی تشدد پر اتر آئے ہیں۔ مقابلے میں اہل سرکار کی دلیل ہے جتنے مرضی بڑے جلسے کر لو۔ لاہور تا اسلام آباد تک جلوس نکال کر دیکھ لو حکومتیں ان کی وجہ سے پہلے گری ہیں نہ آئندہ اس کا احتمال پایا جاتا ہے۔ اگر حکومت کی اس دلیل کو سو 

فیصد درست مان لیا جائے تو پھر ڈرکس بات کا جلسے ہونے دیجئے، پی ڈی ایم کو جلوس نکالنے کا شوق پورا کر لینے دیجئے۔ یہ ابتک پرامن ہوئے ہیں آئندہ بھی پرامن ہوں گے۔ آپ کے نمبر بن جائیں گے کہ جمہوری رویہ اختیار کیا لیکن یہاں تو آبیل مجھے مار کی سوچ اور کار فرما نظر آتی ہے جو ڈکٹیٹروں کا وتیرہ ہوتی ہے۔ بالآخر انہیں لے ڈوبتی ہے۔ اگر تحریک انصاف اور اس کے قائدین واقعی سیاست کا مقابلہ سیاست سے کرنے کا زعم رکھتے ہیں اور اپوزیشن کے ساتھ اوچھے آمرانہ ہتھکنڈوں سے عہدہ برا نہیں ہونا چاہتے تو پھر تمام تر تنازعے کا بہترین حل نکالا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم بیان بازی ترک کریں۔ این آر او نہیں دونگا کی رٹ لگانا بند کر دیں جو مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ ایک مدبر سیاستدان اور صرف تحریک انصاف کے نہیں بلکہ پاکستان کے وزیراعظم بن کر قائد ایوان کی حیثیت سے ایک قدم آگے بڑھائیں۔ فراخ دلی کا مظاہرہ کریں۔ ذاتی طور پر پی ڈی ایم کے تمام قائدین سے رابطہ قائم کر کے انہیں اپنے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دیں۔ ایجنڈا اپنی مجوزہ انتخابی اصلاحات اور پی ڈی ایم کے علانیہ آئینی و جمہوری مطالبات تک محدود کریں۔ اس فریم ورک پر آپس میں باقاعدہ مذاکرات کا ڈول ڈالیں۔ اس کے بعد اگر پی ڈی ایم کی قیادت آپ کی دعوت مذاکرات کا مثبت جواب دینے سے انکار کر دیتی ہے اور سیاسی مزاحمت کی پالیسی جاری رکھنے پر اصرار کرتی ہے تو آپ کو عوام کے پاس جانے اور کھل کر اپنا جائز موقف پیش کرنے کا کھلا حق حاصل ہو گا کہ ہم تو پرامن جمہوری اور آئینی سمجھوتہ چاہتے ہیں لیکن پی ڈی ایم سیاسی فساد برپا کرنے اور امن عامہ کی صورتحال خراب کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ پاکستان کے عوام خدا کے فضل سے باشعور ہیں۔ اندھے بہرے نہیں وہ خود دیکھ لیں گے کون آئین و جمہوریت کی بتائی ہوئی راہ عمل پر چلنے کا خواہشمند ہے اور کون سیاسی شائستگی کے ہر اصول کو روند کر دھونس جمانا چاہتا ہے۔ آخر اس میں کیا امر مانع ہے وزیراعظم خود اپنی حکومت کے استحکام اور آئینی مدت پور کرنے کی خاطر اپوزیشن رہنمائوں کو گلے لگانے 


ای پیپر