Western countries, political face, Islam, Quran, Emmanuel Macron
29 نومبر 2020 (12:05) 2020-11-29

معرکۂ خیر وشر، معرکۂ ایمان ومادیت ہر سو جاری ہے۔ امریکی فوج مسلمانوں کی کڑی نگرانی کے لیے ان میں مقبول ایپس کا ڈیٹا خرید رہی ہے۔ (پہلے نگرانی میں کون سی کسر اٹھا رکھی ہے؟) قرآن ایپس، مسلم پیرئر، مسلم پرو جیسی ایپس! ویسے اگر طالبان انہی کی طرح دنیا بھر کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے والی فحش ایپس کا ڈیٹا خریدنے لگ جائیں تو ایک طوفان برپا ہوجائے۔ آزادی پر قدغن اور نجی زندگی میں دخل اندازی کے نام سے ہمیں عار دلایا جائے گا۔ ادھر فرانسیسیوں کی انتہاپسندی ملاحظہ ہو۔ صدر میکرون نے الٹی میٹم جاری کیا ہے کہ مسلمان نیا میثاق قبول کریں۔ دین اسلام کو ایک سیاسی تحریک کی بجائے صرف ایک مذہب سمجھا جائے گا۔ (تم جو چاہو سمجھو، مسلمانوں سے ان کی سمجھ کیونکر چھین سکتے ہو؟) حکومت کی مرضی سے اماموں کا تقرر ہوگا۔ مسلمان بچوں کو گھر میں تعلیم نہیں دی جاسکے گی۔ ان بچوں کو الگ آئی ڈی دی جائے گی۔

مغرب اسلام کے سیاسی چہرے سے اتنا خوفزدہ کیوں ہے؟ کیونکہ اسلامی سیاست، شریعت خلافت یا بالفاظ دیگر مالک کائنات کو اس گلوب پر حکمران بنانے کی بات کرتی ہے۔ قرآن ہی تو کہتا ہے۔ الا لہ الخلق والامر… خبردار! مخلوق اللہ کی ہے اس پر حکمرانی اللہ (خالق) ہی کی ہوگی! ان الحکم الاللہ… (دنیا پر) حکم صرف اللہ ہی کا چلے گا۔ کیا وجہ ہے کہ ایوینجلسٹ( صہیونی بھی) کٹر عیسائی بش سے لے کر بائبل پر حلف اٹھاتے ٹرمپ، یہودی نیتن یاہو، قدامت پرست عیسائی پوٹن، انتہاپسند ہندو مودی اور بدھ برما پر خونی سوچی تو حکمران ہوسکتے ہیں مگر حقیقی مسلمان کی حکمرانی، شریعت کے قوانین کی حکمرانی کی اجازت نہیں ہے؟ مقدس ترین خطۂ زمین اس حال کو پہنچا دیا جائے کہ نبوت وخلافت کی سرزمین پر سعودی حکام نے ان دو ججوں کے خلاف انکوائری کھول دی جنہوںنے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں مردوں کے لیے داڑھی مونڈنا ممنوع اور تمباکو نوشی جرم ہے۔ سو جس سرزمین پر مایہ ناز قاضی شریحؒ نے فیصلے سناتے شریعت کی دھاک بٹھائی وہاں یہ حوالہ اب جرم قرار پا گیا؟

اسرائیل، امریکا کے سایۂ عاطفت میں امارات اب کیا کرنے چلا ہے سافٹ امیج کے نام پر! پہلے تو موم کی ناک کا محاورہ تھا۔ یہاں مسلمان پورا ہی مومی پتلا بن کر رہ گیا۔ غیرت کی جگہ اب… ڈالر ہے بڑی چیز جہان تگ دو میں، سو اب بے حیائی کا ایک طوفان اٹھنے کو ہے۔ پارٹنر شپ کی کھلی اجازت۔ شراب نوشی جائز۔ اظہار غیرت جرم ہوگیا۔ حتیٰ کہ طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ خودکشی کو بھی اب جرائم کی فہرست سے نکال دیا ہے! یعنی اتنے مستحسن عمل پر اسلام نے پابندی لگا رکھی تھی؟ اب خودکشی کے لیے سارے دروازے کھل گئے! (نظریاتی خودکشی کے نتیجے میں!) حکام کہتے ہیں کہ یہ اصلاحات ملک میں زیادہ باصلاحیت افراد لانے کا سبب بنیںگی۔ یعنی بے نکاح رہنے سے صلاحیت کا اظہار ہوتا ہے؟ باصلاحیت لوگ شراب پیتے ہیں، اب کھل کر پی سکیںگے تو غل غپاڑے بھری صلاحیت ملک کو چار چاند لگائے گی؟ نیز یہ کہ باصلاحیت لوگ بے غیرت ہوتے ہیں، خودکشی کرتے ہیں؟ ان اصلاحات سے غیرت کا سدباب اور موت اپنے ہاتھ میں لینے کا اہتمام ہوگا تو ترقی بام عروج پر پہنچا دے گی؟ پھر جب ہم کہتے ہیں کہ … خلل ہے دماغ کا، تو یہ تشخص ترقی پسندوں کو پسند نہیں آتی! AFP  نے یہ پوری رپورٹ دینے کے بعد اگلی راہ دکھاتے ہوئے پوچھا کہ: ’یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ بحر مرداریے عمل اور حرام بچے جننے کی اجازت ہوگی یا نہیں؟‘ (جو ترقی پسندی، روشن خیالی، سافٹ امیج کا اصل پیمانہ ہے!) ایک برطانوی جوان نے کہا: تادیر پارٹنر کے ساتھ رہتے ہوئے مصیبت میں پھنسنے کا دھڑکا رہتا تھا۔ اسی طرح اب تک شراب کے لیے بھی ہچکچاہٹ رہتی تھی، اب مسئلہ حل ہوگیا۔ اب یہ ہچکی آپ کو نہیں لگے گی۔ پاک زندگی گزارنے کے طلب گاروں کو ہچکی لگے گی، گھگھی بندھے گی!

ہمارے ہاں بھٹو دور سے قائداعظم یونیورسٹی نے کئی دین بیزار، دین دشمن پروفیسروں، الحادیوں کمیونسٹوں کی پرورش کی تھی۔ ان میں سے ایک وفاداری بشرط استواری پر ڈٹے ڈاکٹر پرویز ہود بھائی تسلسل سے تین یونیورسٹیوں میں نوجوان نسل میں نظریاتی زہر بوتے رہے۔ امارات کی مذکورہ ’اصلاحات‘ پر ان جیسے سیکولرسٹوں پر شادیٔ مرگ کی کیفیت طاری ہے۔ ساری تفاصیل لکھ کر سرخوشی میں بغلیں بجاتے فرماتے ہیں: ’امارات میں جو ناقابل تصور تھا ہوگیا۔ مگر کوئی اندرونی احتجاج نہیں تھا… سعودی عرب بھی اسی راہ پر چل رہا ہے۔‘ پھر سہانے خواب دیکھتے ہوئے اظہار اطمینان کرتے ہیں کہ آخر ٹیلی وژن پوری مسلم دنیا میں قبول کیا جاچکا ہے… پاکستان میں بھی باشرع مرد اور الہدیٰ کی خواتین سیلفیاں لیتی اور انہیں واٹس ایپ پر پھیلاتے ہیں۔ ادھر ڈاکٹر موصوف اماراتیوں کو ہدایات دے رہے ہیں کہ اپنے عوام کے سامنے وہ یہ توجیہہ پیش کرسکتے ہیں کہ مغرب بھی آہستہ آہستہ بدلتی اقدار قبول کرنا سیکھ گیا ہے۔ 1960ء تک یورپ امریکا میں بھی پارٹنر شپ ناقابل قبول تھی مگر پھر مذہبی مخالفت نرم پڑ گئی اور زیادہ تر مذاہب یہی کررہے ہیں۔ خواب موصوف کا یہ ہے کہ پاکستان ان تبدیلیوں سے سبق سیکھے۔ وہ لبرلز م کی ہوائیں جو مسلم دنیا میں چل رہی ہیں! اس ضمن میں پاکستان کا گومگو میں رہنا ان کے لیے باعث تاسف ہے! بات یہاں تک پہنچی تھی تو آنکھ کھل گئی۔

 علامہ خادم حسین رضوی کے اچانک انتقال نے پورا منظرنامہ بدل دیا۔ پاکستانی قوم کا وہ ایکسرے سامنے آن کھڑا ہوا جو لبرلز کی سٹی گم کردے۔ خادم ناموس رسالت، ختم نبوت، شان صحابہؓ کا سب سے بڑا محافظ بن کر کھڑا ہونے والا دنیا سے رخصت ہوا۔ ساری سیاست، نام نہاد تفرقے، مسلک پرستی کی دھند چھٹ گئی۔ تمام دینی جماعتوں، پاکستانی قوم نے علامہ خادم حسین کو تحفظ شان رسالت کی علامت بناکر شایان شان احترام دیا۔ امام احمد بن حنبلؒ کے قول کے مطابق جنازے نے موقف کی مضبوطی اور قوم کے ریفرنڈم کا واشگاف اظہار کردیا۔ ممتاز قادریؒ شہید کے جنازے کی بھی یاد تازہ ہوگئی۔

 پاکستان کو امارات بنا دینا ممکن نہیں۔ اسلام، شعائر اسلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے قوم کی وفاداری، محبت لازوال ہے۔ یہی نسبت قیمتی ترین متاع اور گنہ گاری کے عالم میں مسلمان کا پہلا اور آخری سہارا ہے جو اللہ کے حضور کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔ تاریخ اسلامی میں یہ نسبت قوس قزح کے رنگ لیے ہوئے ہے۔ کھجور کا وہ تنا امر ہوگیا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگاکر کھڑے ہوتے تھے مسجد نبویؐ میں وہ اونٹ جو مبارک شانے پر سر رکھ کر شکایتاً رو دیا، اس کے تذکرے آج بھی ہوتے ہیں۔ جس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صحبت پا لی آپؐ کو دیکھ لیا، صحابیؓ ہوگیا۔ رضائے الٰہی کا پروانہ پا گیا۔ جس نے صحابیؓ کو مل لیا وہ تابعی ہوگیا، جو تابعی سے ملا وہ تبع تابعی کا لقب پا گیا۔ تین ادوار تک یہ نسبت چلی۔ خالد بن ولیدؓ جیسے قدآور سپہ سالار، موئے مبارکؐ اپنی ٹوپی میں سلواکر رکھتے اور فتوحات میں شجاعت اس نسبت سے پاتے۔ جن قوموں کی ترقی کا پیمانہ حرام بچوں کی پیدائش جائز قرار دینا ہو (مذکورہ AFP  رپورٹ بسلسلہ امارات) نسبت سے محروم یہ کم نصیب ہماری اقدار، تہذیب، نسبتوں کی عظمت کو کیا جانیں! دجل وجہل دنیا پر حکمران ہیں جبکہ ہمارا شاعر کہتا 


ای پیپر