DG ISPR, evidence, Indian terrorism, Pakistan
29 نومبر 2020 (11:37) 2020-11-29

اس وقت مسلمان تقریباً پوری دنیا میں کسی نہ کسی مشکل یا امتحان سے گزر رہے ہیں۔ کشمیری مجاہدین اپنے ملک پر بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ ان کے جلوسوں پر بھارتی فوجی فائرنگ کرتے ہیں تو آگے سے وہ مظلوم مزاحمت کرتے ہیں۔ وہاں حریت پسند تنظیمیں بھی ہیں لیکن اس کا انتقام بھی پاکستانی نہتے اور معصوم عورتوں بچوں پر گولیاں برسا کر لیا جاتا ہے۔یہ تمام ظلم لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کر کے،پاکستان کے اندراپنی زمینوں پر کام کرنے والے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے،۔کبھی کبھی پاکستانی چوکیوں پر بھی بلااشتعال فائر کھول دئیے جاتے ہیں۔ صرف رواں سال 2700 مرتبہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی گئی۔ بھارتی سفارت خانے کے ذمہ دار لوگوں کو وزارت خارجہ طلب کر کے ان سے احتجاج کرنے کے ساتھ احتجاجی خطوط بھی جاری کیے گئے لیکن ہندوستان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ اس وقت انڈیا نے پاکستان میں کئی محاذوں پر جنگ جاری کر رکھی ہے۔کشمیر کے بارڈر کے ساتھ پنجاب کے سیالکوٹ اور لاہور تک اس کی خلاف ورزیاں جاری رہتی ہیں۔ یہ جنگ تو اس نے روزِ اول یعنی 14اگست 1947ء سے جاری کر رکھی ہے لیکن اب انڈیا نے مغربی محاذ فاٹا کی ایجنسیوں جو اب صوبہ خیبرپختونخوا اور پاکستان میں شامل ہو چکی ہیں۔ ان ایجنسیوں، بلوچستان اور گلگت  بلتستان میں نہ صرف مقامی لوگوں کو خرید کر بلکہ اپنے گرینڈ جاسوس کمانڈوز کو بھیج کر وارداتیں کروا رہا ہے۔ جب سے سی پیک کا آغاز ہوا ہے ہندوستان بائولے کتے کی طرح ہر جگہ سے کاٹ رہا ہے۔ بلوچستان میں تو سی پیک کے بعد ایک انقلابی ترقی کا آغاز ہو گیا ہے۔ اسی طرح گلگت بلتستان کے جو حالات تھے وہ میں اپنے گزشتہ کالم میں لکھ چکا ہوں۔ اس علاقے کو ترقی دی گئی اور سی پیک کے بعد وہاں جو کچھ ہونے جا رہا ہے اس کا ہندوستان کو بخوبی اندازہ ہے ۔وہ ترقی نہ اس سے دیکھی جاتی ہے اور نہ اب اس سے ہضم ہو رہی ہے۔ فاٹا کے لوگوں کے ساتھ انتہا کا ظلم کیا گیا۔سکول کالج یا ہسپتال تک نہیں بننے دئیے گئے اور نہ ہی ذرائع آمدورفت کے لئے کچھ کیا گیا اب جبکہ وہاں سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے، سکول اور ہسپتال بن رہے ہیں تو اس کو اندازہ ہوا 

ہے کہ پاکستان تو ہر جگہ ترقی کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہندوستان نے’’را‘‘ سمیت اپنی ایجنسیوں اور دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے اور ہیڈکوارٹرز افغانستان میں قائم کر رکھے ہیں۔ ہماری مغربی سرحد بلوچستان کے ساتھ بہت طویل ہے لیکن اس کے دہشت گردوں کے ٹھکانے قندھار میں ہیں جس کو جنوبی افغانستان کہا جاتا ہے۔ وہاں سے بہت آسانی سے بلوچستان اور فاٹا میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی طرف سارا پہاڑی علاقہ ہے۔ چند دن پہلے وزیر خارجہ اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دنیا کے منصفوں کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمام دہشت گردوں کی کڑیاں جا کر ہندوستان سے ملتی ہیں۔ وزیرخارجہ نے کانفرنس میں بتایا کہ متعدد دہشت گرد تنظیموں کو انڈیا کی طرف سے ملنے والی مالی ، اسلحہ، بارود اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کی کفالت کے پورے پورے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں ۔جن میں باقاعدہ اقوام متحدہ کی نامزد دہشت گرد تنظیموں جماعت الاحرار(جے یو اے)، بلوچ یا بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور تحریک طالبان پاکستان شامل ہیں۔ پاکستان یہ تفصیل اقوام متحدہ، او آئی سی اورP5(چین، امریکہ، روس، برطانیہ اور فرانس) ممالک کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی پیش کر رہا ہے۔ وزیرخارجہ نے ان ممالک اور عالمی برادری سے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ جیسا کہ میں نے کالم میں عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو دنیا کے منصفوںکا نام لے کر آغاز کیا۔ وہ دنیا کے منصف بھی ہیں اور سلامتی کے ضامن بھی ہیں۔ان سلامتی کے ضامنو سے وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردی کرانے کے عمل کو فوری ختم کرے اور ان تمام لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے جو متعلقہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے دہشت گردوں کی حمایت اور مالی مدد کر رہا ہے۔ پاکستان اس سے قبل بھی بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے لیکن اس دفعہ ہم پاکستان کے اندر ہونے والی تمام دہشت گردی میں ہندوستان کے براہ راست مالی کفالت کے ناقابل تردید ثبوت ان ممالک کے سامنے پیش کریں گے جس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر بے گناہ اور معصوم شہریوں جن میں بچے، بوڑھے اور خواتین کی اموات ہوئیں۔ بین الاقوامی برادری کو( دنیا کے منصف اور سلامتی کے ضامن) کسی ایسی ریاست کی بد انتظامی اور لاقانونیت پر اپنی آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیے۔جو بین الاقوامی قوانین اور اجتماع  پر عمل کرنے سے انکار کرتی ہوں۔ وزیر خارجہ نے بڑے ہوش و حواس کے جذباتی انداز سے بین الاقوامی قوتوں پر واضح کیا کہ ہندوستان خطے میں دہشت گردی کا مکمل ذمہ دار اورکفیل ہے جو بدانتظامی رویے کی مسلسل نمائش کر کے دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر پاکستان کو خطے میں کمزور کیا گیا اور بھارتی ایجنڈے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس کا مطلب ہے وہ طاقتیں جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لئے سنجیدہ نہیں جس کے بہت بھیانک نتائج ہوں گے۔ دنیا پر یہ تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستانی بہادر اور نڈر قانون نافذ کرنے والے اداروںاور سیکیورٹی ایجنسیوں نے بہت ہی منظم اور مستحکم حکمت عملی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے جنگیں لڑی ہیں تو زیادہ مناسب ہو گا اور ہر جنگ صرف لڑی ہی نہیں بلکہ جیتی بھی ہیں۔ وہ سوات کی جنگ ہو، فاٹا کی ضرب عضب جنگ ہو، بلوچستان کی جنگ ہو، کشمیر میں بھارتی کواڈہیلی کاپٹر کی جنگ ہو یا ابھی نندن کے ہمراہ ہوائی حملہ ہو۔ اس کے بعد بھی پاکستان ہر محاذ پر اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔ پاکستان کے اندر ہندوستان کی دہشت گردی پھیلانے والی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گا ہم پاکستان کے استحکام کو مجروح کرنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ہندوستان ضدی، ہٹ دھرم اور ظالم ہے وہ یہ تسلیم کرے نہ کرے لیکن تمام بڑی سپر طاقتیں جانتی ہیں کہ ہندوستان کی پالیسیاں پورے خطے کے لئے خطرہ ہیں۔ عالمی طاقتوں کو اب بہت سنجیدگی سے ہندوستان کی پاکستان کے خلاف چاہے وہ پاکستان کے اندر ہوں یا باہرہو ہر قسم کی دہشت گردی  کے لئے مالی مدد اور ہر قسم کا تعاون روکنا ہو گا۔ 


ای پیپر