Bazdar government, PTI, steps, welfare, Punjab
29 نومبر 2020 (11:28) 2020-11-29

ہم قائد اعظم کی تصویر کرنسی نوٹوں پر دیکھ کر خوش ہونے والی قوم ہیں۔بانی پاکستان کی تصویر پر خوش ہونا  اچھی بات ہے۔لیکن کیا ہی اچھا ہوتا ہم بابائے قوم کے ان مقاصد کو بھی آگے بڑھاتے۔جن کی بدولت یہ وطن عزیز حاصل کیا گیا ہے۔میرا خیال یہ ہے کہ کرنسی نوٹ پرمحمد علی جنا ح کی تصویر ہم سے استفسار کررہی ہے کہ وہ پاکستان کو جیسا دیکھنا چاہتے تھے۔اْ ن کے اس خواب کو پورا کرنے کے لیئے ہم اپنا کتنا حصہ ڈال رہے ہیں۔قائداعظم محمد علی جنا ح پاکستان کو ویلفیئر اسٹیٹ کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔جہاں بسنے والے تمام افراد کے لیئے عدل و انصاف اور برابری ہو۔مرد و خواتین ہمارے بزرگ ،نوجوان اور بچے سب کو حقوق حاصل ہوں۔ماضی کی حکومتیںملک میں فلاحی اقدامات سے دور بھاگتی رہیں۔تاہم پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے نئے پاکستان بنانے کا جو عہد کیا ہے۔وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اب قائد اعظم کے وہ تمام خواب پورے ہوں گے۔ جن کی بنیاد پر پاکستان معرض وجو د میں آیاہے۔

 ان مقاصد کو پورا کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب کی سربراہی میں صوبائی حکومت پنجاب کو فلاحی اسٹیٹ بنانے کے لیئے انتہائی موثر اقدامات کررہی ہے۔اس سلسلے میں احساس پروگرام کے تحت باہمت بزرگ پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔پنجاب بھر میں 65سال اور اس سے زائد عمر کے مستحق بزرگوں کی مالی معاونت کے لیئے ہر تین مہینے کے بعد 6ہزار روپے دیئے جائیں گے۔اس پروگرام کے لیئے ابتدائی طور پر 2ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔یہ خالی باتیں ہی نہیں ہیں بلکہ باہمت بزرگ پروگرام کے لیئے عملی طور پر پنجاب کے 36اضلاع میں باقاعدہ سنٹرز بنائے جارہے ہیں۔ان مراکز پر پنجاب بنک کا نمائندہ موجود ہوتا ہے۔ جو بزرگ مرد وخواتین کی بائیومیٹرک تصدیق کے بعد ان کو ATMکارڈ جاری کرتا ہے۔اس کارڈ کے ذریعے یہ بزرگ حکومت کی جانب سے ملنے والی رقم نکلواسکتے ہیں

اس حوالے سے ڈسٹرکٹ بہاول پور میں 3900افراد کے لیئے تحصیلوں سمیت 6سنٹرز بنائے جارہے ہیں۔اسی طرح دوسرے اضلاع میں بھی یہ سہولت مہیا کی جارہی ہے۔

 وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار قدم بقدم آگے بڑھ رہے ہیں ویلفیئر اسٹیٹ ان کی منزل ہے۔اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا ایک اور اچھا اقدا م یہ ہے کہ وہ پنجاب میں نئی ملازمتوں کے لیئے ماحول بنارہے ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ فیصل آباد میں ٹیکسٹائل اور پاور لومز کی صنعتیں بحال ہوگئی ہیں۔ایکسپورٹ میں اضافہ ہورہا ہے۔بیرون ملک سے آرڈر ملنا شروع ہوگئے ہیں۔جس کے باعث مزدور طبقہ کے لیئے روزگار کے مواقع پید ا ہوئے ہیں۔بند صنعتیں کھولی جارہی ہیں۔صنعتوں کے موجودہ یونٹس کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

ملک میں 1960کے بعدپہلی مرتبہ انڈسٹریز کے لیئے پالیسی بنائی گئی ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیئے سہولیات پیدا کی جارہی ہیں۔ FBR کے اندر ریفارمز اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ جس سے پاکستان کے صنعتی مراکز میں خوشحالی آتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس طرح 2لاکھ افراد کے لیئے روزگار کے مواقع پید ا ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے انڈسٹری ریلیف پیکج کا اعلان کیا۔ جس کے تحت صنعتوں کو سستی بجلی دی جارہی ہے۔ ان صنعت کاروں کے FBRکے ذریعے پچھلے دس سالوں کے 248ارب روپےrefundہورہے ہیں۔ ریفنڈ کے اس پروسس کو بہتر بنایا جارہا ہے۔

صوبہ سندھ کو پسماندگی کی دلدل میں دھنسادینے کی ذمہ دار اس کی حکمران پیپلزپارٹی ملتان میں بڑے اجتماع کا ڈھونگ رچانے کے لیئے بیچارے عوام کو اس میں شرکت کی دعوت دے رہی ہے۔وہ ایسا کرکے لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔لیکن لوگ ان کے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ 

قوم مشکل حالا ت میں ثابت قدم رہے تو وہ ایک مضبوط قوم بن کر ابھرتی ہے۔کورونا وائرس کی اس دوسری لہر کے دوران ایک اچھی خبریہ ہے کہ سائنسی ڈپلومیسی پاکستان کے تحت COVID-RAIDکا جدید سافٹ ویئر بنایا جارہا ہے۔جس میں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں کورونا وائرس کا شکار مریض کے پھیپڑوں کی تشخیص کی جائے گی۔ جس میں 90%درست دینے کی صلاحیت ہے۔اس سافٹ ویئر کا استعمال ایئر پورٹ پر بھی کیا جائے گا۔ 

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار خواتین کی عزت کرتے ہیں۔وہ برملا کہتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت خواتین کے حقوق کی نگہبان ہے۔ اب خواتین پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کے تحت کال فری نمبر 1043پر اپنی شکایت درج کروا سکتی ہیں۔ان شکایات کا فوری ازالہ کیا جاتا ہے۔ جبکہ وزارت انسانی حقوق کے تحت ایک ہیلپ لائن 1099کا 2018میں اجرا کیا گیا ہے۔اور ایک ایپلی کیشن بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ ہیلپ لائن کے تحت اب تک 4لاکھ 50ہزار سے زائد کالز  موصول ہوئی ہیں۔جن میں 49%کالز خواتین کے حقوق سے متعلق تھیں۔جن کا فوری حل کیا گیا ہے۔

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار صوبہ کے حالات بدلنے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ حالا ت ایک دن میںنہیں بدلے جاسکتے تاہم ان کی بہتری کے لیئے بدلائو کا عمل شروع ہوچکا ہے۔بارش کی بوندیں بھلے چھوٹی ہوں لیکن اگر لگاتار برستی رہیں تویہ 


ای پیپر