ایران کے لیے دسمبر میک اور بریک ثابت ہو گا
29 نومبر 2020 2020-11-29

ایران کے اعلیٰ پائے کے سائنسدان کا قتل خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھائے کا سبب بن گیا۔ایرانی بموں کے باپ کہلانے والے محسن فخری زادے پر جمعہ کو تہران کے قریب ابسارڈ میں نشانہ بنایا گیا۔دہشت گردوں نے پہلے بم اور پر گاڑی پر گولیاں چلائیں، حملہ اتنا شدید تھا کہ سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔سینئر سائنسدان فخری زادرے ریسرچ اینڈ انوویشن آرگنائزیشن کے سربراہ بھی تھے۔فخری زادے پہلے ایرانی سائنس دان نہیں ان سے پہلے بھی کئی سائنسدان قتل کیے جا چکے ہیں۔سائنسدانوں کے قتل کا اولین مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانا ہے۔اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے 2018 میں باقاعدہ ایران کے جوہری پروگروام سے متعلق بریفنگ میں محسن فخری زادے کا نام لیا تھا۔اسرائیل میں فخری زادے ہی کو جوہری پروگرام کا سربراہ قرار دیتے ہوئے اصل ہدف قرار دیا جاتا تھا۔فخری زادے مغرب کی آنکھوں میں مسلسل کھٹکتے تھے امریکا اور اسرائیل کی نگاہیں ان پر لگی ہوئی تھیں۔ ایران نے اپنے جوہری سائنسدان کے قتل کا الزام براہ راست اسرائیل پر عائد کیا ہے۔

موساد کی کارروائیاں 

اسرائیل کی خفیہ ایجنسی "موساد" کی کارروائیاں بھی کچھ اسی طرح کی جاتی رہی ہیں۔موساد اکثر اپنے ہدف کو دفتر آتے جاتے نشانہ بنایا کرتی ہے اور فخری زادے پر حملہ بھی بالکل اسی طرح کیا گیا۔2010 میں سائنسدان مسعود علی محمدی کو تہران میں ان کے گھر کے باہر ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔ایک سال بعد ہی ایک اور سائنسدان ماجد شہریار کو بھی بم دھماکے کے ذریعے ان کی گاڑی میں نشانہ بنایا گیا۔اسی روز جوہری پروگرام کے سربراہ فریدون عباسی دوانی پر بھی حملہ کیا گیا لیکن خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہے۔اسرائیلی ریکارڈ کے مطابق یہ دونوں سائنسدان بابائے بم محسن فخری زادے کے لیے کام کرتے تھے۔2011 میں جوہری سائنسدان داریوش رضائے انجاد کو موٹر سائیکل سواروں نے نشانہ بنایا۔پھر 2012 میں یورینیم افزودہ کرنے والے پروگرام کے نائب سربراہ مصطفی احمدی روشان کو بھی گاڑی میں نشانہ بنایا گیا۔روشان پر مقناطیسی بم کے ذریعے اس وقت حملہ کیا جب وہ گاڑی میں گھر سے دفتر جارہے تھے۔

جنگی جنون 

اب آٹھ سال کے بعد ایران کے بموں کا باپ کہلانے والے سائنسدان پر حملہ اسرائیلی جنگی جنون کا ظاہر کر رہا ہے۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو مسلسل ایران مخالف جارحانہ بیان دیتے چلے آرہے ہیں۔دونوں کے جنگی جنون کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ رواں سال جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اشارہ پر جنرل قاسم سلیمانی کو عراق میں نشانہ بنایا گیا۔ اور اب ایسے موقع پر جب ٹرمپ کے دور اقتدار میں محض چند ہفتے رہ گئے ہیں ایران کے سب سے بڑے سائنسدان کو قتل کرنے کا مقصد خطے پر جنگ مسلط کرنے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔

ایران کیا کرے گا؟

جوہری پروگرام کے ماہر فخرے زادے پر حملے کے بعد ایران پر اندرونی دباو¿ بھی بڑھ گیا ہے۔دشمن ممالک ایران کو کمزور کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں اور ایک ایک کر کے اپنے ہدف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔جنرل قاسم سلیمانی کے بعد فخری زادے کو بھی امریکا اور اسرائیل نے باآسانی راستے سے ہٹا دیا۔ ایران کی اصل طاقت اس کا جوہری اور میزائل پروگرام ہے جس سے سب ہی خائف ہیں۔خطے پر جنگ بادل منڈلا رہے ہیں اور ایسے میں ایرانی بابائے بم کا قتل ہوجانا تہران کیسے برداشت کر سکے گا؟گو کہ ایران نے اس بڑی دہشت گردی کا بدلہ لینے کا اعلان تو کر دیا ہے اور وہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر کہہ کر امریکی بیس پر عراق میں حملہ کیا تھا۔سوال یہ ہے کہ وہ اپنے سائنسدانوں کی حفاظت کرنے میں اب تک کیوں ناکام رہا ہے؟ ایران کا جس کا سیکیورٹی سسٹم انتہائی مضبوط قرار دیا جاتا ہے اور کئی ممالک میں پراکسی جنگوں میں کامیابیاں بھی حاصل کیں لیکن وہی ملک اندر اتنا ہی کمزور دیکھائی دیتا ہے۔دشمن جب اور جہاں چاہے اپنے حدف کو کامیابی سے نشانہ بنائے اور محفوظ ٹھکانے پر پہنچ جائے۔2020 ایران کے لیے اب تک بہت برا ثابت ہوا ہے جنوری میں جنرل قاسم سلیمانی اور اب محسن فخری زادے کی شہادت ہو چکی۔سال ختم ہونے میں ابھی پورا ایک ماہ پڑا ہے ایران نے اگر دسمبر کے مہینے کو اپنے حق میں نہ کیا تو پھر وہ خسارے میں رہے گا۔


ای پیپر