واجد ضیا کی بطور ڈی جی ایف آئی اے تعیناتی
29 نومبر 2019 (23:26) 2019-11-29

اسلام آباد:وفاقی بیوروکریسی میں اعلی سطح کے تقرر و تبادلوں کی زد میں ایف آئی اے بھی آ گیا، واجد ضیا کی ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے تعیناتی کے بعد مزید 7 افسران کے تقرر و تبادلے،پولیس سروس گریڈ 20 کے محمد وصال فخر سلطان کو ایف آئی اے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیدیاگیا۔

پولیس سروس گریڈ 20 کے محمد وقار عباسی کو ایف آئی اے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے ،پولیس سروس گریڈ 20 کے محمد طارق چوہان کو ایف آئی اے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے ۔ پولیس سروس گریڈ 20 کے اختر حیات کو ایف آئی اے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے حکم دیا گیا ہے۔پولیس سروس گریڈ 20 کے عرفان علی بلوچ کا سندھ سے ایف آئی اے ،پولیس سروس گریڈ 20 کے فیصل علی راجہ کا نیکٹا سے ایف آئی اے تبادلہ کردیاگیا ۔پولیس سروس گریڈ 19 کے عمر ریاض کی خدمات نیشنل پولیس اکیڈمی سے ایف آئی اے کے سپردکردی گئیں ۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تقررو تبادلوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ گریڈ 21 کے 14 افسروں کی گریڈ 22 میں ترقی کے نو ٹیفکیشن بھی جاری کر دیے گئے۔ایف آئی اے کے چار ڈائریکٹر تبدیل کر دیے گئے۔ایف آئی اے کے تبدیل کئے گئے ڈائریکٹر ز کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ایف آئی اے میں تین نئے ڈائریکٹر بھی تعینات کر دیے گئے۔ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔

ذرائع کا کہناہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود وفاقی تحقیقاتی ایجنسی(ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل(ڈی جی) بشیر میمن کو عہدے سے ہٹاکر واجد ضیا کو نیا ڈی جی تعینات کردیا۔سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو موجودہ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے تبادلے سے روک رکھا ہے تاہم سپریم کورٹ کےاحکامات کے باوجود ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کوہٹایا گیا۔سپریم کورٹ نے اصغرخان کیس میں بشیر میمن کو تحقیقاتی افسر مقرر کر رکھا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک بشیر میمن کو عہدے پر رکھنے کا حکم دیا تھا۔


ای پیپر