ملک میں بحران نئی شکل میں
29 نومبر 2019 2019-11-29

تین روزہ تک ملک کی سیاسی اور انتظامی فضا پر چھائی ہوئی سموگ بظاہر تو ختم ہوگئی، لیکن اس خاتمے کے بعد ملک کے سیاسی بحران نے نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے آرمی چیف کوعہدے میں چھ ماہ کی مشروط اجازت دیتے ہوئے اس عہدے پر تقرر اور اس سے متعلق قوانین پارلیمنٹ سے واضح کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ سپریم کورٹ نے ایک شخص کی درخواست کو مفاد عامہ میں قرار دیتے ہوئے یہ کیس ہاتھ میں لیا۔ اس کیس کی اس وجہ سے بھی اہمیت ہے کہ جنرل باجوہ کی بطور آرمی چیف کے ریٹائرمنٹ کے چار روز پہلے یہ درخواست سامنے آئی۔ جبکہ خود جسٹس کھوسہ بیس دسمبر کو ریٹائر ہونے والے ہیں۔ اس سے پہلے ملک میں چار اہم واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں دھرنا دیا، کسی نے ان کے کان میں کچھ کہا، تو اچانک راتوں رات مولانا سامان سمیٹ کر کے چل دیئے۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو عدالت کو بیچ میں ڈال کر بیرون ملک علاج کے لئے بھیجا گیا۔

ایک ہفتہ قبل اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو سنگین غداری کے مقدمے کا فیصلہ سنانے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے کے بعد عمران خان کی حکومت جنرل مشرف کو بچانے کے لئے سرگرم ہو گئی۔ اور خصوصی عدالت کا فیصلہ رکوانے کے لئے دو ہائی کورٹوں میں درخواست دائر کی۔ یہ تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ہوا کہ استغاثہ نے فیصلہ رکوانے کے لئے درخواست دی۔ سخت اور ناخوشگوار فیصلے سنانے والے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس زیر سمات ہے، جہاں بعض قوتیں انہیں فارغ کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ بیک وقت کئی دھارائیں چل رہی تھی، جو ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھی، تو بعض کبھی ایک ساتھ مل کر چل رہی تھی۔ پھر یہ بھی ہوا کہ وزیراعظم عمران خان نے نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے پرچیف جسٹس کو طعنہ دیا کہ طاقتور کے لئے ایک قانون ہے اور کمزور کے لئے دوسرا۔ جواباً چیف جسٹس نے کہا کہ کس طرح سے طاقتورکو سزا دی گئی تھی۔ یہ پس منظر موجود تھا کہ آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کا معاملہ عدالت نے اٹھایا۔

معاملہ کھلا تو پتہ چلا کہ حکومت نے اس معاملے پر بعض قانونی تقاضے پورے نہیں کئے۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ہٹ دھرمی اور غرور پر کھڑی حکومت نے قانونی تقاضوں اور باریک بینیوں کو دیکھنا ضروری نہیں سمجھا ۔ اس کا خیال تھا کہ جب مضبوط ادارے ساتھ ہیں تو نہ کوئی کچھ پوچھے گا اور نہ کوئی روکے گا، لیکن چیف جسٹس آصف کھوسہ نے پوچھ لیا۔ عدلیہ کے پوچھنے پر حکومت آئیں بائیں شائیں کرنے لگی۔ کبھی ایک موقف اختیار کر رہی تھی تو کبھی دوسرا۔ صورتحال یہ تھی کہ حکومتی اعلیٰ عہدیداران مشیروں اور قانونی ٹیم کو کہیں چھپنے کے لئے جگہ نہیں مل رہی تھی۔

وزیراعظم عمران خان سابق آرمی چیف کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے کہ سپریم کورٹ نے موجودہ آرمی چیف کو طلب کرلیا۔ اور ان کی معیاد ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکشن معطل کردیا۔ اب ریٹائرڈ جنرل مشرف پر سنگین غداری کا مقدمہ چلانے والی راولپنڈی خصوصی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناعی تسلیم کرنے سے انکارکردیا۔

حکومت نے کو قانونی کوتاہیاں کیں وہ اپنی جگہ پر، جس طرح سے یہ کیس سامنے آیا، اور عدالت نے جو ریمارکس دیئے وہدایات دیں، سوالات اٹھائے وہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ ریمارکس نہ صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہیں بلکہ تاریخ کا بھی حصہ ہیں۔ ’’جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتے، اگر ریٹائر نہیں ہوتے تو پینشن کیوں لیتے ہیں؟ آرمی چیف کا اگر ازسرنو تقرر ہے تو کوئی ریٹائر جنرل بھی اس عہدے پر آسکتا ہے۔ جنرل باجوہ کے تقرر نامے کو شٹل کاک کے طرح چلایا گیا۔ ‘‘ پہلی بار آرمی ایکٹ عدالت میں زیر بحث آیا۔ جس کو بقول عدالت کے، کوئی عام آدمی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔

پاکستان کی تاریخ میں چار جنرل خود کو میعادملازمت میں توسیع دیتے رہے جبکہ دو کو حکومت وقت نے توسیع دی۔ ان چھ مواقع پر کسی ادارے یا وہاں پر بیٹھے ہوئے داناء لوگوں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ اقدام کس حد تک قانونی ہے۔ اب دو ریٹائرڈ جنرلز کی ریٹائرمنٹ اور ان کو ملنے والی سہولیات کے کاغذات بھی کارروائی کا حصہ ہونے کی وجہ سے پبلک ڈاکومنٹ ہوگئے ہیں۔

یہ امر یقینا اہمیت کا حامل ہے کہ عدالت نے یہ درخواست کیوںقابل سماعت سمجھی؟ اس پر الگ بحث کی جاسکتی ہے۔لیکن جب عدالت نے یہ درخواست قابل سماعت سمجھی تو اس کے سامنے تین راستے تھے۔ اول عدالت حکومت کے نئے نوٹیفیکشن کو تسلیم کرلیتی اور بتاتی کہ جن قانونی نقائص کی نشاندہی کی گئی تھی، ان کی تصحیح کردی گئی ہے۔ دوم عدالت حکومت کے نئے نوٹیفکیشن کر قبول نہ کرے اور جنرل باجوہ ریٹائر ہو جاتے۔ اور کسی دوسرے جنرل کو کمان دی جاتی۔ اس صورت میں حکومت کے پاس وقت نہ تھا کہ وہ نیا آرمی چیف نامزد کرتی، یوں حکومت اور ادارہ دونوں مشکل میں آجاتے۔

بہر حال بہاولپور واقعہ کے بعد بھی حکومت اور فوج کے ادارے نے صورتحال سے نمٹ لیا تھا۔ تب آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کے ساتھ چھ جنرل اور چار برگیڈیئر حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔ سوم عدالت نئے نوٹیفکیشن کو قبول کر کے اس عہدے سے متعلق خود قواعد و ضوابط مرتب کرتی۔ دیکھا جائے تو عدالت نے بیچ کا راستہ اختیار کیا ہے۔ جزوی طور پر حکومت کے موقف کا تسلیم کیا کہ موجودہ آرمی چیف فی الحال عہدے پر برقرار رہیں۔ لیکن اس عہدے کے لئے قانون سازی اور قواعد و ضوابط ضروری ہیں۔ یہ کام عدالت نے خود کرنے کے بجائے پارلیمنٹ کے سپرد کیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں معیاد اور شرائط تقرر کا تعین نہیں۔ اس لئے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ نئے قانون اور ضوابط کے بعد موجودہ چیف اس عہدے پر برقرار رہ سکیں گے۔

اس عدالتی فیصلے میں بہت کچھ ہے۔ اس کے فوری اثرات جو مرتب ہونگے سو ہونگے، لیکن اس کے بعض دورس نتائج بھی نکلیں گے، ایسے اثرات جن کا ابھی سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ عدلیہ نے پہلی مرتبہ خود کو بطور سپریم ادارے کے منوانے کی کوشش کی ہے۔اس فیصلے مطابق آرمی ایکٹ اور اس کے معاملات آئین کے تابع ہیں اس لئے عدالت ان معاملات میں جاسکتی ہے۔ اب حکومت آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے مطلوبہ قانون سازی اور قواعد وضوابط کے لئے پارلیمنٹ سے رجوع کرے گی۔

بہرحال عدالت نے بال پارلیمنٹ کی کورٹ میں پھینک دیا ہے۔ پاکستان کی سیاست اور پارلیمنٹ مارشل لاء زدہ رہی ہیں۔ سیاستدانوںنے اس ادارے کے بارے میں کبھی نہ سوچا ہے اور نہ سوچنے کی ہمت کی ہے، ماسوائے ایک مرتبہ میاں نواز شریف کے جنہوں نے کوشش کی تھی لیکن ناکام رہے۔ بظاہر ادارے کے لئے پارلیمنٹ میں اس قانون سازی پر حمایت حاصل کرنا مشکل نہیں لگتاایک بار پھر فیصلہ سازی دو قیدیوں کے ہاتھ میں آگئی ہے۔ یہ قیدی میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری ہیں، جن کی سینیٹ میںحمایت کے بغیر حکومت قانون سازی نہیں کر سکتی۔ یا پھر اس وقت کا انتظار کیا جائے کہ سینیٹ میں حکومت عددی اکثریت حاصل کر لے۔


ای پیپر