امریکہ اپنی فوج کو عزت دیتا ہے
29 نومبر 2019 2019-11-29

پاکستان میں نومبر کا مہینہ پہلے موسموں کی طرح سرد نہیں ہوتا۔ عالمی درجۂ حرارت نے ہمارے روایتی نومبر سے اس کی وہ ٹھنڈک چھین لی ہے جو کبھی اس کا حصہ ہوا کرتی تھی مگر مثبت پہلو یہ ہے کہ ہمارے موجودہ نومبر میں کچھ نہ کچھ پرانی خصوصیات ابھی باقی ہیں مثلاً یہ وہ مہینہ ہے جس میں راتیں لمبی ہو جاتی ہیں اور دن چھوٹے لگتے ہیں۔ مگر دن تو ان معاشروں کو چھوٹے لگتے ہیں جہاں کام کی عثمت کی بات ہوتی ہے ۔ ہماری قوم میں تو وقت گزاری ایک خانہ پری ہے اس لیے ہمیں دن چھوٹے ہونا اچھا لگتا ہے جب کچھ کرنا ہی نہیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ دن چھوٹا ہے یا لمبا۔ البتہ ہم لمبی راتوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ضائع نہیں کرتے اور ہمارے بہت سے لوگ تو سمجھتے ہیں کہ سردیاں ہوتی ہی سونے کے لیے ہیں جو قومیں خواب دیکھنے کی عادی ہوں انہیں لمبی راتیں بھی چھوٹی لگتی ہیں جبکہ محنت کرنے والوں کو 21 جون یعنی سال کا سب سے بڑا دن بھی چھوٹا لگتا ہے یہ اپنی اپنی سوچ کی بات ہوتی ہے دن اور رات سب کے وہی ہوتے ہیں مگر اپنی اپنی سرگرمیاں نتائج بدل دیتی ہیں۔

امریکہ والوں سے تمام تر اختلافات کے باوجود ہمیں امریکہ کی ایک بات بڑی پسند ہے وہ اظہار تشکر میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتے وہ اپنے باتھ روم صاف کرنے والے کو بھی تھینک یو کہتے ہیں اور اُسے سلام کرنے میں پہل کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے لوگوں کے سلام کا جواب دینا غیر ضروری سمجھا جاتا ہے حالانکہ وہ بھی ہمارے جیسے انسان ہیں۔ امریکہ دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں اظہار تشکر کو ایک سالانہ تہوار کی شکل دی جا چکی ہے اور ہر سال نومبر کی چوتھی جمعرات کو Thankesgiving day کہا جاتا ہے اس سال یہ دن 28 نومبر کو تھا۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جس میں ہر اس شخص کی خدمات کا اعتراف اور شکریہ ادا کیا جاتا ہے جس نے پورا سال کسی نہ کسی حیثیت میں آپ کے لیے کچھ نہ کچھ خدمت سر انجام دی۔ یہاں تک کہ اس دن اجنبی اور نا واقف لوگوں کو بھی پھول پیش کیے جاتے ہیں اس دن ملک میں عام چھٹی ہوتی ہے ۔ اس دن کی تاریخ بہت پرانی ہے کہتے ہیں کہ پہلا Thanksgiving day 1621 میں امریکی آبادکاروں اور امریکہ کے اصل باشندوں یعنی ریڈ انڈین نے مل کر منایا تھا۔ امریکہ بنیادی طور پر زرعی ملک ہے اور نومبر کا مہینہ وہاں harvest یا فصلوں کی کٹائی کا اختتام ہوتا ہے اور یہ دن منانے کا پس منظر یہ ہے کہ ان کی فصلوں میں بہتر پیداوار کے لیے جس جس نے مدد کی ہے اس کا شکریہ ادا کیا جائے۔

امریکیوں نے حالیہ عرصے میں tanksgiving یا اظہار تشکر کو سیاسی بنا دیا ہے آپ نے دیکھا ہو گا کہ 28 نومبر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ غیر اعلانیہ خفیہ طور پر افغانستان پہنچے اور امریکی فوجیوں کی اپنے ملک کے لیے خدمات کے اعتراف کے طور پر وہ دن اپنے فوجیوں کے ساتھ منایا اور رات کا کھانا بھی ان کے ساتھ کھایا۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا گزشتہ 18 برسوں میں ہر امریکی صدر نے یہ دن افغانستان میں تعینات فوجیوں کے ساتھ منا کر امریکی قوم کو پیغام بھیجا ہے کہ ہم اپنی فوج سے پیار کرتے ہیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ ہر امریکی صدر کو اپنا یہ دورہ خفیہ رکھنا پڑتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان پر اب بھی طالبان کی گرفت مضبوط ہے اور امریکی سکیورٹی ایجنسی کی سفارش پر دورہ خفیہ رکھا جاتا ہے تا کہ امریکی صدر پر حملہ نہ ہو جائے۔ جب امریکی صدر افغان حدود سے باہر نکل جاتا ہے تو دورے کی خبر نشر کی جاتی ہے ۔

امریکیوں کی اپنی فوج سے محبت کی ایک اور مثال ملاحظہ کریں امریکہ کے مقبول ترین جریدے ٹائمز میں ہر سال پر سن آف دی ایئر کا اعلان کیا جاتا ہے جس میں ہفتہ روزہ میگزین کے سرورق پر مذکورہ شخصیت کی تصویر شائع کی جاتی ہے ۔ عراق پر امریکی حملے کے بعد 2003ء میں ٹائمز میگزین نے امریکی فوجیوں کو پرسن آف دی ایئر ایوارڈ دیا اور میگزین کے ٹائٹل پر عراق میں تعینات سارجنٹ رونالڈ بکسم اور اس کے دو ساتھیوں کی گروپ فوٹو شائع کی سارجنٹ رونالڈ کا کارنامہ یہ تھا کہ اس کی جیپ پر دشمن نے ہینڈ گرینڈ پھینکا اس نے فوری طور پر جلتا ہوا ہینڈ گرینڈ اٹھا کر گاڑی سے باہر پھینکنے کی کوشش کی گرینڈ اس کے ہاتھ میں پھٹ گیا اور اس کا بازو ضائع ہو گیا۔ ٹائمز میگزین نے حوالدار رونالڈ کے انتخاب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اس کی شخصیت کی نہیں بلکہ اس کی ڈیوٹی کی اہمیت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔

یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ جس دن امریکی صدر ٹرمپ بگرام ایئر پورٹ پر کہیں طالبان حملے کے خوف سے چھپ کر امریکی فوجیوں کے ساتھ ڈنر کررہے تھے اسی Thanksgiving کے دن پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت میں پاکستان کی فوج کے سب سے بڑے عہدیدار کے بارے میں یہ سوال زیر بحث تھا کہ انہیں نوکری میں توسیع دینی ہے یا نہیں۔ کیس کی سماعت کے دوران منصفان عدل کے بولے گئے جملوں سے ایسا تاثر مل رہا تھا کمانڈر کی نوکری میں ان کا کوئی ذاتی مفاد ہے ۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت میں یہ مقدمہ جہاں جہاں سے گزر کر پہنچا تھا وہ سارے مراحل اپنی جگہ افسوسناک تھے۔ شاعر مشرق نے فرمایا تھا

حقیقت خرافات میں کھو گئی

یہ اُمت روایات میں کھو گئی

اس مقدمے کی گونج بارڈر پار تک سنی گئی اور انڈین میڈیا نے اس پر ایسے ایسے تبصرے کر ڈالے جس میں ریاست پاکستان کی توہین کی جھلک صاف نظر آتی تھی۔ ایک خالصتاً تکنیکی ایشو کو رائی کا پہاڑ بنا کر دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع دیا گیا۔ یہ سب نہ ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا اس مقدمے کے لاتعداد ضمنی پہلوؤں میں سے حکومت کا اناڑی پن سب سے نمایاں ہے ۔ حکومت کو بیورو کریسی نے دانستہ یا نادانستہ شرمندگی کا بھرپور سامان فراہم کیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیر قانون کو پہلے مستعفی کرایا گیا اس لیے کہ حکومت کے پاس ان سے اچھا کوئی وکیل نہیں تھا مقدمے کے بعد 2 دن کے وقفے سے انہیں پھر دوبارہ وزیر بنا دیا گیا کیونکہ دوسری دفعہ پھر حکومت یہ سمجھتی تھی کہ ان سے اچھا وزیر قانون ڈھونڈنے سے نہیں ملے گا۔

صدر پاکستان جب وزیر قانون سے حلف لے رہے تھے تو عبارت کا ایک فقرہ یہ تھا کہ میں اپنی ذاتی پسند نا پسند کو اپنے فرائض پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا۔ معزز وزیر قانون نے اس کی بجائے یہ پڑھ ڈالا کہ میں اپنی ذاتی پسند ناپسند کو اپنے فرائض پر نظر انداز نہیں ہونے دوں گا۔ شاید یہ دنیا کا پہلا بیرسٹر ہے جو الفاظ کے استعمال میں اس قدر غیر محتاط ہے اور اسی وجہ سے ہی حکومت کو عدالت میں جا کر سوئی کے ناکے سے گزرنا پڑا مگر پھر بھی سبق حاصل نہیں کیا گیا اور تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے 23 کروڑ لوگوں میں اس کا متبادل ملنا محال ہے ۔ ویسے اس نئی حلف برادری پر ایک اور سوموٹو بنتا ہے ۔ جہاں تک ان کی بار بار تعیناتی کا معاملہ ہے وہ پنجابی کی مثال فرب المثل ہے کہ نانی نے خصم کیتا برا کیتا کر کے چھڈیا ہور برا کیتا۔ جب انہیں ہٹا ہی دیا گیا تھا تو دوبارہ لگانے کی کیا ضرورت تھی کیا وہ اتنے ہی ناگزیر ہیں۔


ای پیپر