آزادی سے آزادی تک
29 نومبر 2019 2019-11-29

یہ ۱۹۹۳ کی بات ہے جب مجھے بی بی سی میں بطور رپورٹربمشکل چار پانچ ماہ ہی گزر چکے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب میں دنیائے صحافت کے ابتدائی سیڑھیوں پر قدم جما رہا تھا۔پاکستان میں اس وقت کے بیورو چیف ڈینیل لیک اسلام آباد میں ہوئے ایک مظاہرے کا احوال بیان کرتے ہوئے کہنے لگے کہ آج اسلام آباد میں حکومت وقت کے خلاف ایک پرامن مظاہرہ ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے شرکت کی۔ خبر کو سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گو کہ اس مظاہرے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع تونہیں ملی لیکن بظاہر یہ مظاہرہ اپنے اہداف کے حصول میں بری طرح ناکام رہا۔ میں بڑی دیر تک انکے الفاظ کے چنائو اور مطالب و معانی پر غور کرتا رہا لیکن یہ بات اس وقت میری سمجھ میں بالکل نہیں آئی کہ اگر مظاہرین کی آواز پرامن طریقے سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ گئی تو اس مظاہرے کو ہم ناکام کیسے کہہ سکتے ہیں۔بہرحال یہ حقیقت مجھ پر اس وقت آشکارا ہوئی جب مجھے مملکت خدادداد کے سیاسی داو وپیچ سے قدرے شناسائی ہوئی۔ بعد میں مجھے اندازہ ہوا کہ پاکستان جیسے ملک میں پرامن مظاہرے کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ مظاہرہ تب ہی کامیاب ہوگا جب سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچے گا۔ لاشیں گریں گی، تھوڑپھوڑ ہوگی، شیشے ٹوٹیں گے، ٹائر جلیںگے اور سڑکیں بلاک ہونگی۔ جانی اور مالی نقصانات کا تخمینہ جتنا زیادہ ہوگا، اتنا ہی کامیاب وہ مظاہرہ کہلائے گا۔ کیونکہ بین الاقوامی میڈیا تب ہی خبر بنائے گا جب اسکو متعلقہ خبر میں اپنی دلچسپی کا سامان نظر آئے گا ۔پاکستان کو آزاد ہوئے ۷۲ سال گزرگئے لیکن ہم ابھی تک آزاد نہیں ہوئے۔ ہم اپنے آپ سے اپنے آپ کو ابھی تک آزاد نہیں کراسکے۔ حکومت وقت کے خلاف دھرنے، احتجاج اور مظاہروں کی سیاست یہاں کا معمول بن چکا ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں پرامن احتجاج اور مظاہرے اپوزیشن کا حق اور جمہوریت کا حسن ہے لیکن جمہوری روایات کے اندر رہ کر اس حق کا استعمال کرنا ہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں آزادی مارچ کے قافلے اسلام آباد سے ہوتے ہوئے ملک کے اہم شاہراہوں پر ڈیرے جمائے بیٹھے ہیں۔ جائیز مطالبات کے حق میں پرامن مظاہرہ کرنا بالکل انکا حق ہے لیکن چالیس پچاس ہزار کا مجمع اکھٹا کرکے اگر مولانا صاحب ایک جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم کو استعفٰی پر مجبو کرکے گھر بھجوانے پر بضد ہیں تو یہ کونسی سیاست اور کس قسم کی جمہوریت ہے۔ مولانا صاحب کو کیا حق پہنچتا ہے کہ مٹھی بھر لوگوں کی رائے کو ۲۲ کروڑ عوام کی رائے پر فوقیت دیں۔ ۱۹۷۳ کے آئین کے مطابق پاکستان اسلامی جمہوری ملک ہے لیکن نہ تو ہم یہاں پر اسلامی اقدار کا پاس رکھ سکے اور نہ جمہوری روایات کو پروان چڑھاسکے۔پچھلے چار پانچ سالوںمیں آزادی مارچ، ملین مارچ اور دھرنوں کی سیاست نے عوام کو سیاست اور سیاستدانوں سے اتنا متنفر کردیا کہ وہ اس لفظ کو سننے سے کتراتے ہیں۔ سیاسی الزام تراشیاں، طعنہ زنی اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا پاکستانی سیاست کے نمایاں پہلو ہیں۔کیا سیاست اسی کو کہتے ہیں ، کیا جمہوریت اسی کا نام ہے۔رحیم یار خان میںتیزگام کے ایک المناک حادثے میں ۷۴ قیمتی جانیںضائع ہوگئیں اور تقریبا چالیس کے قریب زخمی۔ پچھلے چودہ ماہ کے دوران اسی طرح کے تقریبا ۸۰ چھوٹے بڑے واقعات میں ۱۰۰ سے ذائد افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ جمہوری اقدار کا تقاضا تو یہ ہے کہ ر یلوے کے وزیر اپنی غلطی کا اعتراف کر کے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہوجائیں لیکن موصوف دھڑلے سے یہ کہ کر اپنے آپ کو بری الزمہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ٹرین میں آگ لگنے کی ذمہ داری ریلوے حکام پر نہیں بلکہ ان تبلیغی حضرات پر عائید ہوتی ہے جو اپنے ساتھ ٹرین میں گیس سلنڈر لے کے جارہے تھے۔کیا ریاست مدینہ کی طرز پر معاشرہ تشکیل دینے والے وزیراعظم کو یہ سب کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ جمہوریت نام ہے برداشت کا، باہمی مشاورت کا، عوامی رائے کے احترام کا، ایک دوسرے کی بات سننے کا، لیکن ہماری سیاست کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ ایک حقیقی جمہوری معاشرے کی تشکیل کی خاطر حکومت کو حزب مخالف کی رائے کا احترام کرنا ہوگا۔انکی بات کو تحمل سے سننا پڑے گا اور انکے جائیز مطالبات کو باہمی افہام وتفہیم کے ساتھ ماننا پڑیگا لیکن اسکے لئے ضروری ہے کہ حزب مخالف کے مطالبات آیئن وقانون کے دائیرے کے اندر اور ملک وقوم کے مفاد میں ہوں۔ مغربی معاشروں میں حزب مخالف کا کردار کئی حوالوں سے حزب ۱قتدارسے اہم ہوتا ہے۔ انکے اپنے شیڈو محکمے ہوتے ہیں اور وہ حکومتی اداروں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھتے ہیں تاکہ حکومت کو وقتا فوقتا اپنی کوتاہیوں سے باخبر رکھیں اورانکے ازالے کیلئے مفید مشورے دیتے رہیں۔ ہم کب تک ملک وقوم کے فیصلے پارلیمنٹ کی بجائے سڑکوں پر کریں گے۔ جب تک ہم اپنے اہداف کا تعین نہیں کریں گے اوران اھداف کے حصول کیلئے کسی واضح حکمت عملی کو ترتیب نہیں دیں گے، تب تک ہم مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں نہ اسلامی کہ سکتے ہیں اور نہ جمہوریہ۔


ای پیپر