حضرت عمرؓکی جرأت پہ جائوں قرباں
29 نومبر 2019 2019-11-29

نبیؐ کا لب پر جو ذکر ہے بے مثال آیا، کمال آیا

جو ہجر طیبہ میں یاد بن کر خیال آیا، کمال آیا

عمرؓ کی جرأت پہ جاوں قرباں ہیں آج کافر بھی ان سے لرزاں

عمرؓ کے آنے سے کفر پر جو زوال آیا، کمال آیا

ربیع الاول کے مبارک مہینے کے حوالے سے منعقدہ محفل میلاد میں ایک نعت کے یہ دو اشعار سنے تو ذہن اس مقام پر چلا گیا کہ جب دعوت اسلام کے ابتدائی دور میں چھپ چھپ کر گھروں میں نمازادا کی جاتی تھی اور جیسے ہی حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کیا تو مسلمانوں نے بلا خوف و خطر خانہ کعبہ میں اعلانیہ نماز ادا کی اور اس کے بعد اسلام کی دعوت میں بہت تیزی آگئی اور واقعی حضرت عمرؓ کی جرأت سے کافر آج بھی لرزاں ہے اور ان کے اسلام لانے کے بعد کفر پر ایک عجیب سا زوال طاری ہوگیا تھا۔

مولانا مجیب الرحمان انقلابی اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کی قوت میں بھی بہت اضافہ ہوا۔

حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام ہمارے لئے ایک فتح تھی اور ان کی امارت ایک رحمت تھی۔ خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔ پس جب وہ اسلام لائے تو آپ نے مشرکین مکہ کا سامنا کیا یہاں تک کہ انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا۔ تب ہم نے خانہ کعبہ میں نمازپڑھی۔تاریخ خلیفہ دوم عمر فاروقؓ کی خدمت، جرات، عدل، عظیم کردار وشاندار فتوحات سے بھری پڑی ہے۔

ایک روزپیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور آپ کے ہمراہ دائیں بائیں ابو بکر ؓ وعمرؓ بھی تھے اور آپ ان دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اسی حالت میں آپ نے فرمایا کہ قیامت کے روز ہم اسی طرح اٹھیں گے۔ (ترمذی)

سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ کو عوام کی فلاح کی بہت زیادہ فکر رہتی تھی اسلیے کوئی بھی گورنر مقرر کرتے وقت لوگوں کے ساتھ معاملات اور دیانت کے بارے میں خوب تحقیق کرتے اوربعد میں اس کی مسلسل نگرانی بھی کرواتے۔

آپ اپنے حکام کی گرفت کرتے اور ان کو مقرر کرتے وقت ایک پروانہ لکھ کر دیتے جس پر یہ ہدایات درج ہوتیں!

باریک کپڑا نہ پہننا

چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہ کھانا

اپنے مکان کا دروازہ بند نہ کرنا

کوئی دربان نہ رکھنا تاکہ جس وقت بھی کوئی حاجت مند تمہارے پاس آنا چاہے بے روک و ٹوک آجاسکے

بیماروں کی عیادت کو جانا

جنازوں میں شرکت کرنا۔

الغرض

اگر ہم ان کی جرات کی بات کریں تو سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نے بیت المقدس کو فتح کرنے کے ساتھ ساتھ قیصر وکسریٰ کا غرور خاک میں ملایا۔

آپ کے عہد خلافت میں شام، مصر، عراق، جزیرہ خوزستان، عجم، آرمینہ، آذر بائیجان، فارس، کرمان، خراسان اور مکران سمیت دیگر کئی علاقوں میں اسلام کی عظمت کا پرچم لہرایا گیا محکمہ خزانہ،عدالتیں، قاضی، فوجی چھائونیاں،جیل خانے، پولیس،فوجی دفتر،دفترمال،،مردم شماری، مہمان خانے، مکاتب و مدارس،نہریں، شہر آباد کروانا یہ سب آپ ہی کے عظیم کارنامے ہیں۔

علامہ شبلی نعمانیؒ سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کی سوانح عمری ’’الفاروقؓ‘‘ میں بیان کرتے ہیں۔

کہ! تمام دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا حکمران دکھا سکتے ہو....؟

جس کی معاشرت یہ ہو کہ قمیص میں دس دس پیوند لگے ہوں، کاندھے پرمشک رکھ کر غریب عورتوں کے ہاں پانی بھر آتا ہو، فرش خاک پر سو جاتا ہو، بازاروں میں پھرتا ہو۔ اور پھر یہ رعب و ادب ہو کہ عرب و عجم اس کے نام سے لرزتے ہوں اور جس طرف رخ کرتا ہو زمین دہل جاتی ہو، سکندر و تیمور تیس تیس ہزار فوج رکاب میں لے کر نکلتے تھے جب ان کا رعب قائم ہوتا تھا، عمر فاروقؓ کے ’’سفر شام‘‘ میں سواری کے اونٹ کے سوا اور کچھ نہ تھا چاروں طرف (شورو) غل پڑا تھا کہ ’’مرکز عالم‘‘ جنبش میں آگیا ہے۔

آپ اتنے صائب الرائے تھے کہ قرآن پاک کے متعدد احکامات آپ رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق نازل ہوئے مثلاً اذان کا طریقہ، عورتوں کے لئے پردہ کا حکم اور شراب کی حرمت۔ آپ رضی اللہ عنہ شجاعت، بلاغت اور خطابت میں یکتا تھے۔

حضرت عمر کا عہد کو یاد کیا تو پھر دل اداس ہونے لگا کہ آج ہمارے جذبوں میں وہ حرارت نہیں ہے کہ ہم اپنے دین کی خاطرکفر سے لڑ سکیں ہم صرف نام کے مسلمان ہیں جو صرف تماشا دیکھ رہے ہیں مگر عملی طور پر اسلام کے احیا کے لیے کوئی جدوجہد نہیں کر رہے۔ ہمارے حکمران نہ تو دین کی عظمت اور نہ ہی عوامی فلاح کے لیے کوئی کام کر رہے ہیں۔ بلکہ یہ تو بچا کھچا دین بھی برباد کر رہے ہیں دنیا بھر میں مسلم حکمرانوں کا وطیرہ دیکھ کر تو یہی لگتا ہیْ۔

جبکہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں افواج ہونے کے باوجود غزہ، کشمیر،شام سمیت دنیا بھر کے مسلمان کسی خدائی مدد کے منتظر ہیں مگر افسوس!

شاید اللہ کو یہ مایوسی پسند نہیں آئی اور پھر اگلے ہی لمحے ان آنکھوں نے وہ نظارہ دیکھا جب عمر الیاس امت مسلمہ کا ہیرو بن گیا ۔

گزشتہ دنوں ناروے میں ایک اسلام مخالف ریلی کا انعقاد کیا گیا جہاں مذہبی انتہاپسند کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی اور اسے جلانے کی کوشش کی گئی تاہم وہاں موجود عمر الیاس نامی ایک نوجوان نے اس احتجاج کی تمام رکاوٹوں کو عبور کیا اور لارس تھورسن نامی اس ملعون پر چھلانگ لگاتے ہوئے حملہ کیا۔ نوجوان کی کمال جرات اور بہادری کی وجہ سے اسے سخوب سراہا جارہا ہے جبکہ اسے‘اللہ کے اسلام کا محافظ’اور‘قرآن کا محافظ’بھی قرار دیا جارہا ہے۔

اس با ہمت نوجوان نے ہزاروں کافروں کے سامنے بے مثال جرات کا مظاہرہ کیا اور قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے شخص پر حملہ کیا۔

اس دل کو اطمینان ہوگیا کہ

عمر کل بھی محافظ اسلام اور قرآن تھا ، عمر آج بھی محافظ قرآن ہے

عمر الیاس شاباش!

اس جرات مند مسلمان کی ایک لات کئی مسلم ممالک کی ہزاروں افواج کے اسلحوں سے بڑھ کر ہے۔

جس نے اس دور میں نام عمر کی لاج رکھ لی واقعی یہ نام بہت ہی جرات دیتا ہے۔

اس نے ثابت کیا کہ مومن کی زندگی میں بس ایک ہی لمحہ ہوتا ہے جو فیصلہ کن ہوتا ہے باقی ہم جیسے تو بس ایک دوسرے پر الزام تراشی ہی کرسکتے ہیں۔ عمر الیاس کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ ناروے میں باقاعدہ قانون نافذ کردیا گیا ہے کہ قرآن کی بے حرمتی پر اب باقاعدہ گرفتاری ہوگی۔اس کامیابی کا سہرا عمر الیاس کے سر جاتا ہے۔

آخر میں ایک اور حوصلہ افزا بات کہ کسی نے بھی عمر الیاس سے اس کا مسلک نہیں پوچھا؟

عمر کی جرات پرتمام مسلمانوں کا عمر الیاس کو اپنا ہیروسمجھنا اتحاد کی روشن علامت ہے؟

قرآن پاک کی بے حرمتی کامعاملہ ہو یا پھر توہین رسالت کا، دنیا کے سب مسلمان ان دو باتوں پر سارے مسلک بھلاکر ایک ہو جاتے ہیں۔

مجاہد اسلام عمر الیاس کا گزشتہ دنوں ناروے میں اینٹی اسلامک احتجاج پر ایک عیسائی کے طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی پر دیے جانے والا ردعمل بہت مثبت ہے اور۔ناروے میں قران پاک کی بے حرمتی کے واقعہ کے بعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور سڑکوں پر قران پاک کی تلاوت شروع کردی جو دشمن کو بہترین جواب ہے۔

اس سے عیاں ہوتا ہے کہ تمام مسلمان آج بھی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔اس لیے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے اور شمع سے شمع جلاتے رہنا چاہیے تاکہ پوری دنیا میں اسلام کا نور دمکتا رہے۔


ای پیپر