شان الحق حقی۔ ایک یاد اور ہمارے رویئے
29 نومبر 2019 2019-11-29

تم سے الفت کے تقاضے نہ نبھائے جاتے

ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

دل کے ماروں کا نہ کر غم کہ یہ اندوہ نصیب

زخم بھی دل میں نہ ہوتا تو کراہے جاتے

نئی نسل میں کتنے ایسے ہیں جو یہ جانتے ہوں کہ مندرجہ بالا شہرہ آفاق شاعری کس شاعر کی ہے۔ یہ صرف انفرادی جرم نہیں بلکہ اجتماعی خودکشی ہے کہ نئی نسل اپنے نامور بزرگ ادیبوں اور شاعروں کے لٹریچر سے ناواقف ہو گئی ہے لیکن اُن محترم بزرگ ادیبوں اور شاعروں کی بے پناہ محبت اور انکساری کا مظاہرہ دیکھئے کہ مندرجہ بالا شعر کے خالق آگے چل کر کہتے ہیں کہ:

دی نہ مہلت ہمیں ہستی نے وفا کی ورنہ

اور کچھ دن غمِ ہستی سے نبھائے جاتے

جی ہاں! یہ اور ایسی ہی بیشمار تخلیقات کے مالک شان الحق حقی جب زندہ تھے تو ہمیں اُن کی زندگی کی اہمیت کا احساس کم تھا۔ اب جب وہ نہ رہے تو اُن کے نہ رہنے کا احساس بھی ہمیں بہت کم ہے لیکن لٹریری ہسٹری کا مئورخ شان الحق حقی کو یاد کرتے ہوئے لکھے گا کہ ’’ شان صرف اُن کا نام ہی نہیں بلکہ وہ اردو ادب کی شان تھے‘‘۔ گلاب پیدا ہونے سے لے کر مرجانے تک گلاب ہی رہتا ہے۔ اس کا مقابلہ چمن میں کوئی پھول نہیں کرسکتا۔ گلاب ہی پھولوں کا بادشاہ کہلاتا ہے۔ 20 ویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں دہلی میں ایک ممتاز ادیب، محقق، عالم اور مولوی عبدالحق کے دوست احتشام الدین حقی رہتے تھے۔ انہوں نے بہت سی کہانیاں لکھنے کے علاوہ حافظ ایک مطالعہ، ترجمان الغیب اور دیوانِ حافظ کا منظوم ترجمہ جیسی معروف کتابیں تخلیق کیںاور ایک نایاب لغت ’’کبیر لغت‘‘ بھی مرتب کی۔ احتشام الدین حقی کے ہاں 15 ستمبر 1917ء کو ایک گلاب کھلا جسے ہم شان الحق حقی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ شان الحق حقی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد سینٹ سٹیفنز کالج دہلی سے انگلش لٹریچر میں ایم اے کیا۔ انہوں نے پہلی مرتبہ اپنا کلام اپنے کالج کے ایک سالانہ مشاعرے میں سنایا۔ اس کے بعد اُن کی وفات تک ان سے ان کا کلام سننے کی طلب لوگوں میں بڑھتی ہی گئی۔ اب ان کی جگہ ان کی کتابیں یہ پیاس بجھا رہی ہیں۔ 87 برس کی زندگی میں انہوں نے جو ادب تخلیق کیا اور جو تحقیق کی اس کے معیار اور اثرات کو جانچنے کے لئے کئی 87 برس کم ہوں گے۔ اُن کی چند شہرہ آفاق تخلیقات میں نظموں کے دو انتخاب ـتار پیراہن، حرف دل رس، غزلوں کا مجموعہ دل کی زبان، ادبی تنقید کی کتاب نقدو نگارش، مقالاتِ ممتاز، کہانیوں کا مجموعہ شاخسانے، حافظ ہوشیار پوری کی تخلیقات کی تدوین کے کام کی کتاب مقام غزل، ملی شاعری کا انتخاب شہید حریت، مضامین نکتہ راز، بھگوت گیتا اردو ترجمہ، مختلف زبانوں کی شاعری کا ترجمہ درپن درپن، انتخابِ کلامِ ظفر، قطعاتِ تاریخِ وفاتِ اہلِ قلم و متعلقینِ اہلِ قلم، لسانی مسائل ولطائف، نذر خسرو پہیلیاں کہہ مکرنیاں، آئینہ افکار غالب، نوک جھونک، سہانے ترانے، پھول کھلے ہیں رنگ برنگے، جیک شیفرز کے ناول شین کا اردو ترجمہ انجان راہی، سیاست اور معیشت پر لکھے گئے بین الاقوامی اہم مضامین کا اردو ترجمہ تیسری دنیا، بنگالی شاعر قاضی نذر الاسلام کی نظموں کا اردو ترجمہ صورِ اسرافیل، پاکستان کے 40 لوک شعراء کے کلام کا انتخاب خیابانِ پاک، شیکسپیئر کے ڈرامے انٹونی کلوپٹرا کا اردو ترجمہ اور اچاریہ چانکیہ کی شہرہ آفاق کتاب کا پہلا اردو ترجمہ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ وہ اپنی ملازمت، ادب اور تحقیق کی مصروف زندگی کے ساتھ ساتھ 22 جلدوں پر مشتمل ایک ڈکشنری تیار کرنے کے لئے اردو لغت بورڈ سے بھی 17 برس تک وابستہ رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دو اورلغات فرہنگِ تلفظ اور آکسفورڈ انگلش اردو ڈکشنری بھی تیار کی۔ ان کی کتابیں دنیا کی بیشتر اہم لائبریریوں سمیت لائبریری آف کانگریس اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو لائبریری میں بھی موجود ہیں۔ شان الحق حقی کو حکومتِ پاکستان نے ستارہ امتیاز اور تمغہ قائداعظمؒ سے نوازا۔ ان کی آپ بیتی اردو جرنل افکار میں قسط وار شائع ہوئی ہے۔ جمیل الدین عالی نے 2010ء کو اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ ’’ماہر لسانیات، لغت نویس اور مجاہد اردو شان الحق حقی کی برسی بھی ملک کے ادبی و علمی اداروں کی بے حسی کے سبب خاموشی سے گزر گئی۔ نہ کوئی ادبی ریفرنس نہ کوئی خراج عقیدت کا جلسہ۔ حقی شاعر، افسانہ نگار، مترجم، لغت نگار، ماہر اشتہارات، کاپی رائٹر، مصور اور نہ جانے کیا کچھ تھے۔ ہم ان جیسا آج ایک بھی اپنے درمیان نہیں پاتے۔ جمیل الدین عالی نے 9برس پہلے مندرجہ بالا نوحہ خوانی کرکے ہمارے ادیبوں اور دانشوروں کی غیرت کو جگانے کی کوشش کی تھی لیکن 2019ء میں بھی شان الحق حقی کی برسی پر کسی سرکاری یا ذاتی ادبی حلقے کی آنکھوں سے کوئی آنسو نہ نکلے۔

جب نمازِ محبت ادا کیجئے

غیر کو بھی شریکِ دعا کیجئے


ای پیپر