آپ کوکیاتکلیف ہے؟
29 نومبر 2019 2019-11-29

میرے مخاطب سوشل میڈیا کے وہ دانشور ہیںجو سپریم کورٹ کی طرف سے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاویدباجواہ کے عہدے کی مدت میںچھ ماہ کی توسیع اور اس حوالے سے قانون سازی کی ہدایت پر نئے، نئے نکتے نکال کرلا رہے ہیں ، مان لیا کہ آپ میں سے بہت ساروںکے کئی کئی ہزار فالوورز ہیں مگر کیاآپ ان ججوں اور وکیلوں سے زیادہ قانون سمجھنے والے ہیں جنہوںنے اپنی پوری زندگی اس شعبے میں بسر کردی۔ آپ ان سیاستدانوں سے زیادہ معاملہ فہم ہیں جو اس وقت اپنی حکمت عملی سے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہیں یا پارلیمنٹ کے رکن ہیں، آپ نیشنل سیکورٹی کے معاملات کو یقینی طور پر ہمارے جرنیلوں سے بہتر نہیں جان سکتے لہذا آپ سب کے لئے یہ صلاح نہ تو غیر منطقی ہے اور نہ ہی ناقابل فہم کہ حکومتوں ،عدالتوں اور فوجوں کے کام حکومتوں،عدالتوں اور فوجوں کو ہی کرنے دیں۔

دیکھیں، سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ عدالت میں جانے کا حق اسی کا ہے جو کسی فیصلے سے متاثرہ فریق ہواورآپ سب جو سوشل میڈیا پر دھڑا دھڑ ٹوئیٹیں اور پوسٹیں کررہے ہیں آپ میں سے کسی ایک نے بھی جنرل قمر جاویدباجواہ کے ریٹائر ہونے پرآرمی چیف نہیں بنناتھا لہذاآپ کابراہ راست تعلق تو یہیں ختم ہو گیا، ہاں، اگرکسی کو کوئی براہ راست اعتراض ہوسکتاہے تو ان لیفٹیننٹ جنرلزکو ہی ہوسکتا ہے جنہیں تھری سٹارجنرل کہاجاتاہے۔یہ عہدہ میجر جنرل سے اوپر اور فل جنرل سے نیچے ہوتا ہے۔ ایک لیفٹیننٹ جنرل عمومی طور پر ایک کورکی کمانڈکرتاہے اور ان میں سے ہی کسی سینئرموسٹ کو آئین میں دئیے گئے اختیارات کے مطابق وزیراعظم فوج کا سربراہ مقرر کرتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ہمارے تھری سٹارجرنیلوںمیں سے چھ سینئر موسٹ اگلے برس دسمبرکی بیس تاریخ کوریٹائر ہو رہے ہیں۔ اداروں میں ریٹائرمنٹ اور پروموشن کے معاملات پرمتاثرہ فریق ہی کسی متعلقہ فورم پراپیل دائر کرتے ہیں مگر یہاں ایسا کچھ نہیںہواکیونکہ پاک فوج ایک ڈسپلنڈ فورس ہے۔

میری نظر میں پاک فوج جتنی اہم فریق پاکستان کی حکومت ہے ،اس وقت ملک میں مارشل لانافذنہیں لہذا آئین کے تحت بنا ہواوزیراعظم ہی اس فیصلے کا اختیار رکھتا ہے کہ پاک فوج کی قیادت کون ساجرنیل کرے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ میں فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے خود وطن عزیز میں جمہوریت کی خاطر جانوں کی قربانیاں دینے والے پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت اپنے وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کومدت ملازمت میں توسیع دے چکی ہے تاہم نواز لیگ والے ضرور باتوں باتوںمیں کریڈٹ لیتے ہیں کہ ان کے سربراہ نے بطور وزیراعظم جنرل راحیل شریف کو ایکسٹینش نہیں دی تھی مگر اس کے بعد یہ بھی دیکھنے والی بات ہے کہ اب وہ کہاں ہیں۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ جب وزیراعظم، کابینہ اور پوری حکومت کو کوئی اعتراض نہیں بلکہ جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی خاطر پہنچ رہے ہیں تو نظر آ رہا ہے کہ ان کے چہرے کامیابی اور فتح کی سرخی سے چمک رہے ہیں۔ خود وزیراعظم عمران خان فیصلہ آنے کے تھوڑی ہی دیر کے بعد کئے گئے ٹوئیٹ میں عدلیہ بالخصوص چیف جسٹس آف پاکستان کو اس فیصلے پر خراج تحسین پیش کر چکے ہیں۔ اس ملک کو حکومت نے ہی چلانا ہے اور جب پوری حکومت اس پر متفق و متحد ہے کہ پاک فوج کے سربراہ کو اس کے عہدے پر برقرار رکھا جانا چاہئے تو پھر ایرے غیرے نتھو خیرے اس پر کمنٹ کرتے ہوئے اچھے نہیں لگتے۔

چلیں، مان لیتا ہوں کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جس میں سرکاری جماعت کو حرف آخر نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ یہاں اپوزیشن بھی موجود ہے مگر میں پورے ادب اور احترام سے درخواست گزارہوں کہ اپوزیشن کی کسی ایک جماعت نے بھی حکومتی فیصلے کی مخالفت کی ہو تو رہنمائی کیجئے۔ یہ درست ہے کہ میاں نواز شریف بیمار ہیں اور وہ سیاسی بیان بازی نہیں کر رہے مگر ان کی پوری پارٹی موجود ہے، اس پارٹی کے ایک صدر ہیں جو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں، میاں نواز شریف کی ایک صاحبزادی بھی ہیں جو ٹوئیٹر پر بہت متحرک ہوا کرتی تھیں اور مجھے بتایا گیا تھا کہ جب نواز شریف اور شہباز شریف وطن سے روانہ ہو رہے تھے تو انہوں نے اپنی پارٹی کی قیادت کے لئے سینئر رہنماوں کی ڈیوٹیاں لگائی تھیں۔ اس پارٹی کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال ہیں جو ہر چھوٹے موٹے ٹوئیٹ پرپروفیسری کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جبکہ مسلم لیگ نون کے علاوہ پیپلزارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتیں بھی موجود ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا ٹوئیٹر اکاونٹ بھی خاصا متحرک ہے۔

آپ فیصلوں کو مانیں یا نہ مانیں مگر اس ملک میں تنازعات کو طے کرنے کا سب سے بڑا فورم سپریم کورٹ آف پاکستان ہی ہے اور رہ گیا کسی بھی فیصلے سے خوشی اور دُکھ کا سوال تو اس پر یاد کیجئے کہ جب میاں نواز شریف کو ایک سزا یافتہ قیدی ہوتے ہوئے خود ان کے اور ان کے چھوٹے بھائی کے پچاس، پچاس روپوں کے معمولی اشٹام پیپروں پر بیرون ملک علاج کی اجازت دی جا رہی تھی تو کیا وہ بھی ایک مختلف فیصلہ نہیں تھا مگر جو لوگ آرمی چیف کو ملنے والی توسیع کے فیصلے پر ناراض ہیں وہ نواز شریف کو ملنے الی اجازت کے فیصلے پر خوش تھے اور جو اِس فیصلے پر خوش تھے وہ اُس فیصلے پر ناراض تھے۔ جب حکومت خوش اور بضد ہے کہ وہ جنرل قمر جاوید باجواہ کی مدت ملازمت میں توسیع کرے، جب پاک آرمی کے دو درجن سے رزائد تھری سٹار جرنیلوں کوااس پر کوئی اعتراض نہیں جن میں سے کچھ کی پروموشن اس سے براہ راست متاثر ہوسکتی ہے، جب پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں اس فیصلے پر اعتراض کرتی ہوئی دکھائی نہیں دیتیں تو ان تمام سٹیک ہولڈرز کے مقابلے میں ٹوئیٹر پر مٹھی بھر دانشوروں کوایکس ٹینشن میں توسیع کی ری جیکشن کا ٹرینڈ چلانے کی کیا ضرورت ہے،اگر یہ سب اپوزیشن پارٹیوں کے کارکن ہیں تو دیکھ لیں گے کہ ان کی قیادتیں پارلیمنٹ کے اندر کیا موقف اختیار کرتی ہیں۔

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ سیاسی جماعتوں سے عدلیہ تک ، فوج سے حکومت تک سب غلط ہیں اور وہ اپنے گھریا دکان میں بیٹھا ہوا زیادہ عقل مند ہے تو اسے شیشے میں اپنا منہ ضرور دیکھنا چاہیئے۔ اسے بتانا ہے کہ اقتدار اورعزت دینے والی ذات اللہ عزوجل ہی کی ہے ۔ کسی کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ سب جگہوں پرسب غلط بندے بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ اکیلا صحیح اور درست ہے۔ اگر کسی کو کسی انقلاب کی توقع ہے تو اسے بھی ٹھنڈا پانی پینا چاہئے اور جان لینا چاہئے کہ پاکستان اسی طرح چلتا آ رہا ہے اور اسی طرح چلتا رہے گا۔ میرے کچھ دوستوں کو مولانا کے آزادی مارچ کے موقعے سے ہی تبدیلی کے خواب آنا شروع ہو گئے تھے مگر میرا اسی کالم میں کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ مجھ پر اعتماد کیجئے ، تھوڑا ریلیکس کیجئے، سوشل میڈیائی دانشوری کو چھوڑئیے اور جو آپ کا اصل کام ہے وہ کیجئے۔ دکاندار ہیں تو دیکھیں کہ وہ اپنی سیل کیسے بڑھا سکتے ہیں، ملازم ہیں تو سوچیں کہ وہ اپنے باس کو کیسے خوش کر سکتے ہیں، خاتون خانہ ہیں تو باورچی خانے پر دھیان دیں اوراس وقت ٹماٹر کے بغیر مزے دار ہانڈی پکانا حکومت، فوج اور عدلیہ کے معاملات میں استانی بننے سے زیادہ اہم ہونا چاہئیے۔


ای پیپر