لاہور ہائی کورٹ کا اورنج ٹرین منصوبے سے متعلق بڑا حکم ,صرف 5روز کی مہلت
29 نومبر 2018 (22:11) 2018-11-29

لاہور : اورنج ٹرین منصوبے کے لیے تعلیمی اداروں کے گراونڈز کے استعمال کا معاملے پر لاہور ہائیکورٹ نے 5 روز میں تمام گراونڈز بحال کرنے کا حکم دےدیا۔

جمعرات کے روز لاہور ہائیکورٹ میں اورنج ٹرین منصوبے کے لیے تعلیمی اداروں کے گراونڈز کے استعمال کے معاملے پر سماعت ہوئی‘جس میں زیر زمین پانی نکالنے پر واسا نے ٹھیکیداروں کو بھجوائے گئے بل کی کاپی عدالت میں پیش کر دی۔عدالت میں پیش کیے گئے بل کے مطابق 2 ٹھیکیداروں کو 67 لاکھ کا بل بھجوایا گیا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر 10 دن میں بل جمع نہ کروائے گئے تو ٹھیکیداروں کے اثاثے منسلک کر کے پیسے وصول کر لیے جائیں گے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ پانی کتنا استعمال کیا گیا اس کا کسی کو ہوش ہی نہیں۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تمام گراونڈز کی بحالی کا کام جاری ہے‘چار دیواری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔عدالت نے کہا کہ کھیلوں کے میدان سب کے ہیں‘ ڈی جی ایل ڈی اے خود کہہ چکی ہیں کہ بحالی کا کام تسلی بخش نہیں تھا۔ عدالت نے حکم دیا کہ 5 روز میں تمام گراونڈز بحال کیے جائیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ میں اورنج لائن ٹرین کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ایم ڈی اورنج ٹرین نے بتایا تھا کہ 30 جولائی 2019 تک ٹرین چل سکے گی۔ ایم ڈی نے بتایا کہ مکینیکل، سول اور کنسلٹنٹسی چارجز کے لیے قرض دیا گیا۔ایم ڈی کے مطابق منصوبہ 22 ماہ بند رہا‘ 5 ثقافتی جگہوں پر کام مکمل ہونا باقی ہے۔انہوں نے بتایا تھا کہ منصوبہ کیلئے چین کے بینک سے 162 کروڑ ڈالر سے زائد قرض لیا گیا ہے‘ منصوبے کا اسی فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔


ای پیپر