کہاں کہاں لیے پھرتی ہے جستجو رسولﷺ....(4)
29 نومبر 2018 2018-11-29

میں چاہتا تو پہلے سے تھا، کہ آپ کو حسین منصور حلاجؒ کی زندگی کے آخری لمحات کے بارے میں تفصیلاً بتاتا، مگر موضوع سخن آقائے دوجہاں ﷺ تو کتابوں کا متقاضی ہے، حسین منصور حلاجؒ کا ذکر تو ایک واصل حق کا ذکر ہے، دنیا برصغیر کے مشہور شاعر اسداللہ خان غالب کو ایک قصیدہ گو، اور شرابی کے طورپر بھی جانتی ہے، مگر جہاں خدا کا معاملہ اور خالق ومالک کا ذکر ہوا، تو وہ بھی پکاراٹھا کہ

نہ تھا، کچھ تو خداتھا ، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا !

قرآن پاک میں مسلمانوں کو غوروفکر کرنے کا درس دیا گیا ہے، ہم میں سے کتنے ایسے ہیں کہ جو اس پر عمل کرتے ہیں، تو پھرتوکل کی انتہا اس نہج پہ پہنچ جاتی ہے وہ مراد حاصل کرنے کی بجائے بے مراد ہونا زیادہ پسند کرتاہے، اور وہ شیطان کی دشمنی میں پڑنے کی بجائے، رحمن کی دوستی کو ترجیح دیتا ہے، اور طلب میں اضطراب کی جھلک اظہار عبرت لگتی ہے، اور وہ مقام عبدیت پہ نازاں ہو جاتا ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ بندے کے گمان کے قریب ہوتا ہے، اور راضی برضا رہنا تو فقیر کی شان ہوتی ہے۔

جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اللہ کے دوست یعنی ولی اللہ ہونا ہر مسلمان کے لیے ممکن ہے، بشرطیکہ اس کا کھانا ، پینا، اٹھنا، بیٹھنا ، چلنا پھرنا یعنی معمولات زندگی، اور روز وشب اسلاف کے اسوہ حسنہ کے عین مطابق ہو، خصوصاً اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی خاطر محبت کرنا، اور ایک دوسرے سے ملنے والے کے درجے پر انبیاءاور شہداءبھی رشک کریں گے۔

حدیث مبارکہ ہے کہ تم میں وہ لوگ بہتر ہیں، جنہیں دیکھنے سے خدا کی یاد آئے جن کے عمل کو دیکھ کر دوسروں کو بھی نیک عمل کرنے کی ترغیب ملے اگر کسی ولی اللہ سے کرامت ، دانستہ یا غیراختیاری سرزد ہوجائے، تو اس سے انکار ممکن نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ بی بی مریم علیہم السلام کاواقعہ بھی قرآن پاک میں تفصیل سے موجود ہے، کہ حضرت زکریاعلیہ السلام انہیں حجرے میں مقفل کر جاتے تھے مگر پھر بھی ان کے پاس ہرقسم کے کھانے پینے کا سامان موجود ہوتا تھا، حضرت بی بی مریم ؓ تو نبی نہیں تھیں، ان پہ یہ اعتراض بھی مناسب نہیں کہ کوئی اور شخص وہاں رکھ جاتا ہوگا، یہ اعتراض اس لیے ہمیں منظور نہیں کہ ان کے کمرے میں سردیوں میں گرمیوں کا پھل ، اور گرمیوں میں سردیوں کا پھل بھی موجود ہوتا تھا۔ قرآن پاک میںہے حضرت آصف بن برخیاء، جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے وزیر تھے انہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی مرضی اور خواہش پہ حضرت بلقیس ؓ کا تخت پلک جھپکنے پر منگوا لیا تھا، جس پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان کی تعریف بھی کی تھی۔ اور انہیں خدارسیدہ سمجھا، اسی لیے تو یہ تعریف کی گئی تھی کہ ھذا من فضل ربی۔

اب سوال یہ پیداہوتاہے ، کیونکہ یہ سوچنے کی بات ہے، کہ حضرت آصفؓ نے کس کی مددسے یہ تخت اتنی دور سے منگوایا تھا، کیا ان کے تابع فرمان جنات تھے، اگر ایسی بات ہوتی، تو جنات اور دیو تو حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع تھے، مگر کہا یہ جاتا ہے کہ حضرت آصف ؓ نے قرآنی آیات، اور علم قرآن شریف کی بدولت یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا۔ اور یہ دعویٰ بالکل ٹھیک ہے کیونکہ حدیث شریف میں آقائے دوجہاں حضرت محمد مصطفیٰﷺکا فرمان ہے کہ جب بندہ نوافل کے ذریعے مجھ سے قرب حاصل کرلیتا ہے، تو میں اسے اپنا لیتا ہوں ، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ کام کرتا ہے، حتیٰ کہ اس کے پاﺅں بن جاتا ہوں، جس سے وہ چلتا ہے، وہ میری طرف چل کے آتا ہے، تو میں بھاگ کر اس کے پاس آتا ہوں۔

قارئین، سبحان اللہ، قربان جائیے اللہ تعالیٰ کی رحمت، اور کرم نوازی کے کہ وہ اپنے انسانوں کا اس قدرخاطرخواہ ہے کہ وہ حضورﷺ کے فرمان کے مطابق پاﺅں بن جانے کی مثال دینے سے بھی گریز نہیں کرتا، جیسے وہ انسانوں کو سمجھانے کے لیے قرآن پاک میں مکھی اور مچھر کی مثال بھی دے دیتا ہے ، قرآن پاک میں دنیا بھر کے مسائل کا حل موجود ہے، قرآن فہمی کوئی راز نہیں مگر اگر واقعی انسان قرآنی رازوں کو جاننا چاہتا ہے ، تو اس کی تفسیر رات کو خصوصاً رات گئے سمجھنے کی کوشش کرے، تو بہت سے عقدے حل ہوجاتے ہیں، اور ایک آیت کے بے شمار معنی ومطالب سمجھ میں آتے ہیں کہ انسان حیران ہوکر سجدے میں گر جاتا ہے، اور شان کریمی کے نظارے کرتا ہے۔ حضرت آصف ؓ کے پاس یہی علم ہی تو تھا، کچھ عرصہ پہلے ایک صاحب راز کتاب اپنے طلباءکو سمجھا رہے تھے، کہ اگر آپ صاحب کمال بننا چاہتے ہیں، تو اس کے لیے ”کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی“ کی زندہ مثال بن جاﺅ۔ مثال کے طورپر اگر اس کمرے میں پڑی ہوئی اس کرسی کو کہو، کہ یہ باہر عمارت کے گرد چکر لگاکے آجائے، تویہ ایسے ہی ہوگا، اور قارئین دیکھتے ہی دیکھتے، ان کے ایسا کہنے پہ کرسی واقعی چکر لگاکر واپس آگئی ۔

قارئین میں یہ محیرالعقول باتیں اور واقعات اپنی طرف سے نہیں بلکہ وجود میں آنے والے واقعات، وخیالات کے بارے میں آپ سے گفتگو کرتا رہتا ہوں کیونکہ میری رائے کے مطابق انسان کو اگر کسی چیز کا علم ہو، تو اسے دوسروں تک پہنچانے سے گریز اور بخل سے کام نہیں لینا چاہیے، اسی لیے تو کہتے ہیں کہ کسی بھی نیکی کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہیے، کیا پتہ اللہ تعالیٰ کو انسان کی کون سی بات پسند آجائے، مجھے ایک صاحب نے بتایا تھا، کہ ایک دفعہ ایک صاحب جو اپنے طلباءکو حدیث وتفسیر پڑھاتے تھے، ان کا انتقال ہوگیا، تو ان کے دوست کو وہ خواب میں نظر آئے، دوست نے ان سے پوچھا کہ آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کیا معاملہ فرمایا ، تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے کہا کہ انہیں جہنم میں لے جاﺅ ان کی ساری نیکیاں ریا کاری تھیں، مگر بعد میں اللہ تعالیٰ نے انہیں دوزخ میں ڈالنے سے بچا لیا، اور کہا کہ ان کی ایک نیکی ایسی تھی کہ جس کی وجہ سے میں نے اسے بخش دیا ہے، ایک دفعہ گرمیوں کے دن تھے، اور یہ کچھ لکھ رہے تھے کہ ایک مکھی ان کے لکھے ہوئے کسی لفظ پہ بیٹھ گئی، اور سیاہی چوسنے لگی ، اس شخص نے اس پیاسی مکھی کو نہیں اڑایا کہ یہ اپنی پیاس بجھالے اور اسی کے صلے کے طورپر اللہ تعالیٰ نے اسے جنت عطا کردی۔

اب اگر اسی واقعے کو مسلمانوں کے کرداروعمل پر جانچیں تو کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہوتا، خواہ وہ کتنا ظالم ، کتنا بخیل اور کتنا ہی برا کیوں نہ ہو، اس نے چھوٹی یا بڑی کوئی نہ کوئی نیکی ضرور کی ہوتی ہے، اور سب سے بڑی نیکی تو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی نیکی ہوتی ہے، اللہ نے سزا اور جزا کا ایک نظام تو قائم کردیا ہے، مگر وہ اتنا غفور ورحیم ہے، کہ اس کی صفات میں ساری رحمت ہی رحمت ہے، اور صرف ایک دفعہ اللہ کے لیے ”قہار“ بولا جاتا ہے، تو پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے، کہ منصور حلاجؒ کا انجام ایسا عبرت ناک کیوں ہوا؟ حضرت علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں

پرورش دل کی اگر مدنظر ہے تجھ کو

مردمومن کی نگاہ غلط انداز ہے بس


ای پیپر