Ch Farrukh Shahzad, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
29 May 2021 (11:23) 2021-05-29

انڈیا میں کرونا نے پاکستان کی نسبت کہیں زیادہ تباہی مچا رکھی ہے مگر اس کے باوجود ان کی معیشت مستحکم ہے۔ حال ہی میں عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی Crisil نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کرونا کی وجہ سے انڈیا کی جی ڈی پی یا معاشی شرح نمو 11 فیصد سے کم ہو کر 8.5فیصد تک گرنے کا امکان ہے۔ یہ وہی شرح نمو ہے جو پاکستان میں نواز شریف حکومت کے آخری سال 5.5 فیصد تھی جبکہ تحریک انصاف کے گزشتہ تین سال میں مجموعی اوسطاً سالانہ 1.75 فیصد بنتی ہے جو معاشی طور پر ڈوب جانے اور اخلاقی طور پر ڈوب مرنے کا مقام ہے کیونکہ ہم ہر معاملے میں انڈیا سے موازنہ کرنے کے عادی ہیں جس نے انتہائی ایمرجنسی میں بھی 8.5 فیصد شرح نمو کو یقینی بنایا ہے جبکہ پاکستان کی گزشتہ سال کی شرح نمو 0.5 فیصدتھی جسے آئی ایم ایف نے تسلیم نہیں کیا بلکہ 0.3 فیصد قرار دیا ۔

لیکن اس ہفتے نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (NAC) کے اجلاس میں ایک ایسا چمتکار ہوا ہے جسے نہ آئی ایم ایف سمجھ رہی ہے نہ ورلڈبینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کو سمجھ آ رہا ہے نہ کریڈٹ ٹرینگ ایجنسیاں کچھ سمجھ رہی ہیں اور تو اور اسٹیٹ بینک پاکستان کو بھی اس پر تحفظات ہیں مگر حکومت بضد ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں سب سچ ہے۔ آئی ایم ایف میں پاکستان پر ہمیشہ Figur Fudging یا اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کا الزام لگتا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے یہ بلا امتیاز ہر حکومت اور ہر سیاسی پارٹی کرتی آئی ہے مگر اس بار تو حد ہو گئی پاکستان کی وزارت خزانہ نے موجودہ مالی سال کے لیے شرح نمو کا ہدف 2.1 رکھا تھا ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے معاشی اہداف کبھی پورے نہیں ہوئے اس میں صدر ایوب خان کا دوسرا 5 سالہ منصوبہ واحد مثال ہے جب کوریا جنگ کی وجہ سے پاکستان کی توقع سے زیادہ شرح نمو حاصل ہوئی۔ 

بات 2.1 فیصد شرح نمو کے ہدف کی ہو رہی تھی جس کا تعین وزارت خزانہ نے کیا تھا۔سٹیٹ بینک کا اندازہ تھا کہ 3 فیصد تک شرح نمو ممکن ہے۔آئی ایم ایف نے اسے 2 فیصد پر رکھا تھا جبکہ ورلڈ بینک نے 1.5 فیصد کا اندازہ لگایا تھا مگر گزشتہ ہفتے جب پاکستان بیورو آف سٹیٹکس یا ادارۂ شماریات نے 4 فیصد شرح نمو کا اعلان کیا تو سننے والوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے یہ ایسے ہی تھا جیسے کوئی بچہ یہ دعویٰ کر دے کہ اس نے 100 میں سے 150 نمبر حاصل کر کے امتحان میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ 

نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اس اجلاس کی تفصیلات بڑی دلچسپ ہیں مگر اس موقع پر مجھے 

رویت ہلال کمیٹی کی 2021ء کی عید الفطر بڑی کثرت سے یاد آ رہی ہے جب آدھی رات کے وقت اہل وطن کو عید کے چاند کی مبارکباد دی گئی۔ جو کام ہر سال مفتی پوپلزئی کیا کرتے تھے وہ اس دفعہ حکومت نے ریاست کے اس مفتی اعظم سے کروا لیا جس کے ذمے 22 کروڑ مسلمانوں کے روزے کی حفاظت تھی۔ صورت حال معلوم ہونے پر بہت سے پرہیز گار مسلمانوں نے عید کے دوسرے دن روزہ رکھا تھا کہ جو روزہ قضا ہوا ہے وہ پورا ہو سکے۔ 

نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے رویت ہلال سے زیادہ بڑی واردات کی ہے جسے سادہ الفاظ اور سمجھنے کے لیے اس دودھ فروش کی مثال لے لیں جو 2 کلو دودھ میں 2 کلو پانی ملا کر اسے 4 کلو بنا دیتا ہے حکومت نے یہی کیا ہے۔ کمیٹی کی 103 دیں میٹنگ منسٹری آف پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے سیکرٹری حافظ یعقوب کی صدارت میں ہوئی جب ادارہ شماریات نے 4 فیصد گروتھ کی رپورٹ دی تو وزارت خزانہ کے نمائندہ ڈاکٹر امتیاز احمد اور سٹیٹ بینک کے چیف اکانومسٹ ڈاکٹر محمد علی نے اس سے شدید اختلاف کیا اور اس کو ماننے سے انکار کر دیا لیکن کابینہ کے ایک غیر منتخب رکن نے NAC کو پیغام دیا کہ مذکورہ ہدف منظور کریں ورنہ آپ کو دیکھ لیں گے۔ 

ہماری بیورو کریسی کی روایت ہے کہ وہ سیاسی فیصلوں کے آگے ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ انہیں اپنی نوکری بچانی ہوتی ہے۔ چنانچہ اس اجلاس کو 2 گھنٹے کے لیے برخاست کر دیا گیا۔ ان دو گھنٹوں کے دوران سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ نے اپنے اپنے افسروں کو فون کیے کہ وہ اپنے اعتراضات واپس لیں جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو 4 فیصد کی بجائے 3.94 فیصد پر اتفاق رائے ہو گیا اور پھر پورے ملک میں مبارکباد کا سلسلہ شروع ہو گیا کہ ہم نے کووڈ کے باوجود 3.94 فیصد گروتھ حاصل کی ہے (انڈیا کے 8.5 کے مقابلے میں) جس کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے۔ عالمی ادارے حیران ہیں بیورو کریسی پشیمان ہے اور عوام پریشان ہیں کہ جب معیشت اتنی ہائی گیئر میں ہے تو اتنی مہنگائی کیوں ہے۔ معیشت سے تھوری بہت سمجھ بوجھ رکھنے والا پاکستانی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہ شرح نمو محض کاغذی ہے۔ 

ایک اور Myth تخلیق کی جا رہی ہے کہ اس سال پاکستان کی ایکسپورٹ گزشتہ سال کے مقابلے میں تین گنا ہو چکی ہیں۔ اس کے لیے جادو کی چھڑی یہ استعمال کی گئی ہے کہ حکومت نے اپریل 2020ء وہ ٹائم تھا جب کووڈ نیا نیا آیا تھا اور پوری دنیا جمود کا شکار تھی ۔ چائنا جیسا ملک زیر و پر آ گیا تھا پاکستان نے پٹرول کی درآمد تک بند کر رکھی تھی یہ اس دور سے موازنہ کے بعد کہتے ہیں کہ ایکسپورٹ 3 گنا بڑھ گئی ہے یہ بدنیتی ہے۔ اسی طرح مارچ کے مہینے کی ترسیلات زر 2.7 بلین کو تاریخی قرار دیا گیا مگر اپریل 2021ء میں ترسیلات زر کم ہو گئیں مگر قوم سے وہ اعداد و شمار چھپائے جا رہے ہیں ہر معاملے میں رویت ہلال جیسے فیصلے پردہ داری اور من مانی کی جا رہی ہے یہ کس طرح کی گورننس ہے۔ چائنا ، انڈیا ، بنگلہ دیش جیسے ممالک اس وقت ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں بحران کا شکار ہیں۔ یہ ایک سنہری موقع تھا کہ ہم اپنی ایکسپورٹ بڑھاتے مگر ملک میں کپاس کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں 28 فیصد کم ہونے کی وجہ سے چینی اور گندم کے بعد اب کپاس بھی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تا کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ متاثر نہ ہو مگر اس کے باوجود ہم کامیابی کا ڈھول اتنا پیٹ رہے ہیں کہ خطرہ ہے کہ یہ ڈھول کہیں پھٹ نہ جائے۔وزارت خزانہ چوتھی دفعہ تبدیل ہوئی ہے دیگر اہم وزارتوں کا بھی یہی حال ہے۔ غیر منتخب ماہرین متواتر تبدیل ہو رہے ہیں مگر کارکردگی صفر جمع صفر کا مجموعہ صفر ہے اعداد و شمار کو چھوڑیں یہ بہت بڑا دھوکہ ہے۔ 


ای پیپر