”بندہ بننے کے راز“ 
29 May 2021 2021-05-29

 پہلے ابو العلامعری کی چند سطریں ملاحظہ ہوں۔ اس کا عنوان ”کہاں کا حج“ ہے 

”اے فریب خوردہ“

تجھے خواہ مخواہ کا ضبط سوار ہے کہ تو دین دار ہے۔

میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ 

تیرا سرے سے کوئی دین ہی نہیں ہے۔

توعبادت اور قربانی کی خاطر خانہ کعبہ تک جاتا ہے۔

حالانکہ تیرا دکھی ہمسایہ اور پریشاں حال دوست تیرے سامنے اپنی مصیبتوں کا رونا رو رہے ہیں۔“

لیکن ٹھہریئے! پہلے ابوالعلاءمعری کے بارے میں جان لیجئے۔ ”معری عہد عباسیہ کا ایک بلند پایہ شاعر ، بے باک نقاد اور آزاد خیال مفکر تھا۔ اس کی آزاد خیالی اور بے باکی کے باعث ، معاصرین اسے ملحد کافر و زندیق کا خطاب بھی دیتے رہے۔ لیکن اس کا کلام فی الحقیقت شاعری کا صحیح ترجمان قرار دیا گیا۔ علامہ اقبالؒ کی ابو العلا معری پر نظم بہت مشہور ہوئی جس کا آخری شعر آپ نے یقینا سن رکھا ہو گا۔ 

تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

ابوالعلا معری شام کے شہر معرہ میں پیدا ہوا تین برس کی عمر میں چیچک کے شدید حملے کا شکار ہو کر آنکھیں گنوا بیٹھا مگر اپنے حافظے اور یادداشت کے زور پر اس نے اہل علم سے استفادہ کیا۔ آنکھوں کی کمی پورا کرنے کے لئے اس نے کچھ ایسے ہمدرد رفقاءپیدا کئے تھے جو اسے ادب و تاریخ کی کتابیں اور مشہور شعراءکا کلام پڑھ کر سناتے رہتے تھے۔ اس نے عربی زبان و ادب پر عبور حاصل کرنے کے علاوہ علم الفلک ، سائنس اور فلسفے میں بھی دلچسپی لی۔ یہی سبب ہے کہ اس کی تحریروں میں کئی علوم کو جھلک ملتی ہے۔ وہ آبائی تقلید ، جمود اور قدامت پسندی کا سخت مخالف تھا۔ وہ ایک بے باک مصلح ، حق کا جویا دانشور تھا۔ طبیعت میں سادگی اور عزلت پسندی کے باعث وہ خوشامد کی ذلت سے بے نیاز رہا۔ اس کا محبوب مشغلہ کائنات پر غور و فکر اور سماج کے حالات کا جائزہ لینا تھا۔ وہ حکومت کو عوام کا خادم سمجھتا تھا۔ وہ خدا کی وحدانیت و خالقیت پر یقین رکھتا تھا۔ اب بلاتبصرہ ابو العلامعری کے افکار عالیہ ملاحظہ فرمائیں اور دیکھیں کہ دنیا آج بھی ویسی نہیں ہے جیسے معری کے دور میں تھی خاص طور پر ہمارے عادات و اطوار ویسے ہی نہیں ہیں؟۔ ایسی کجیوں اور ناہمواریوں کو ابوالعلامعری جیسا دانشور کس طرح موضوع بناتا ہے۔آیئے ملاحظہ فرمائیں!

”اللہ نے مجھے پانی سے بنایا ہے۔ لو دیکھو میں کیسے پانی کی طرح قانون قدرت کے مطابق جس طرف چلایا جاتا ہوں، چلتا ہوں۔ 

٭ خیر نہ روزہ ہے ، جس میں روزہ دار گھلتا ہے۔ نہ نماز اور نہ ہی بون پر اون ڈالنا (صوفی بننا) درصل خیر ہرحال میں برائی کو دور پھینکنا ، اور سینہ کو کینہ اور حسد سے پاک رکھنا ہے۔“

٭ جو برائی سے دشمنی کرے اور پاک دامن رہے میری نظر میں وہی پکا دیندار ہے۔

٭ تنہا رہو کہ اللہ تمہارا رب بھی ایک ہے اور امیروں کی صحبت کا شوق نہ کرو۔انسان خواہ وہ ناکام زندگی گزارے، ساتھیوں کی کمی کے باعث اس کے عیوب پوشیدہ رہتے ہیں، نیز اس کی پریشانیوں میں کمی ہو جاتی ہے۔

٭ دنیا میں سب سے بے نیاز وہ پارسا ہے جو تھوڑی چیز پر راضی ہو۔ کار چوبی ، پوشاک اور تاج سے نفرت کرے اور پہاڑ کی چوٹی پر بسیرا کرے اور سب سے زیادہ حاجت مند وہ بادشاہ ہے جو ہمیشہ فوجی دستوں اور لشکروں کا محتاج رہتا ہے۔

٭ چٹکی میں دبے ہوئے ایک پسو کو آزاد کرنا ، میری نظر میں اس خیرات سے زیادہ بہتر ہے جو تو محتاج کو بخشتا ہے۔

٭ بیشتر انسانوں کی صحبت بھیڑیوں سے مشابہ ہے ، جب تجھے کمزور پائیں گے تو تجھے دبا لیں گے۔

٭ اے ہم نشیں! یہ دنیا مردار ہے اور ہم اس کے اردگرد بھونکنے والے کتے ہیں۔ ناکام ہے جس نے اس میں سے کھایا اور کامیاب ہے جو خالی پیٹ پلٹا۔“

٭ ”حیف ہے اس نفس پر ، جو کھانے پینے کی محبت میں ذلیل بنا ہوا ہے۔“

٭ شادیوں کا گانا نوحہ معلوم ہوتا ہے اور ماتم کرنے والیوں کے نالے دراصل شادی ہیں۔

٭ جب موت آتی ہے تو شہبازوں کے قوی بازو ، چیونٹیوں کے کمزور بازﺅوں کی طرح بن جاتے ہیں۔

٭ میرا خیال ہے کہ لوگ زمین کی سانسیں ہیں باہر کی سانس اس کے اوپر رہنے والے ہیں اور اندر کی سانس زمین کا پیوند بن جانے والے۔ “

شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات


ای پیپر