چاند پکھراج کا ۔۔۔
29 May 2020 (16:48) 2020-05-29

گلزارؔ

شعری روایت سے وابستگی شاعر کے انفرادی اسلوب کی صورت پذیری میں مزاحم نہیں ہوسکتی۔ ثبوت کے طور پر گلزارؔ کی شاعری پیش کی جاسکتی ہے۔ یہ شاعری روایت سے کہیں بھی دست کش نہیں ہوئی مگر اس کے موضوعات، اس کی لفظیات اور اس کے لہجے میں جو انفرادیت ہے، وہ گلزارؔ کے صاحبِ اسلوب شاعر ہونے پر ناقابل تردید دلالت کرتی ہے۔ یہ دیکھ کر مسرت بخش حیرت ہوتی ہے کہ سیلولائڈ کی چمک دمک سے ادھر، گلزارؔ کتنی لگن کے ساتھ مشق سخن میں مصروف رہا ہے۔ فلموں کی ہدایت کاری اور کہانی نویسی اور گیت نگاری کی مصروفیات میں اگر گلزارؔ اعلیٰ پائے کی شاعری کے لیے وقت نکالتا رہا تو یہ اُس کے تخلیقی وفور کا کرشمہ ہے۔ اسی وفور نے اُس سے ایسی ایسی نظم اور غزل اور تردینی کہلوائی ہے کہ دورِحاضر میں اس انداز کی نظم، ان تیوروں کی غزل اور نوکیلی اور چوٹیلی تروینی کی کوئی مثال مشکل ہی سے دستیاب ہو گی۔

جس تخلیقی وفور کا میں نے ذکر کیا ہے اس کے ثبوت میں اس مجموعے میں شامل ایسی نظمیں بھی پیش کی جاسکتی ہیں جن کا موضوع ہی نظم کی تخلیق کا کرب ہے۔ گلزارؔ اس کرب کے اظہار میں بھی فنکار کے منصب کو نہیں بھولتا اور جب کربِ تخلیق کا ذکر کرتا ہے تو صرف یہ کہہ کر الگ نہیں ہو جاتا کہ اظہار میں مشکل پیش آرہی ہے بلکہ وہ کہتا ہے:

لفظ کاغذ پہ بیٹھتے ہی نہیں

اُڑتے پھرتے ہیں تتلیوں کی طرح

اسی نوعیت کی ایک نظم میں گلزارؔ نے شاعر کو ریشم کے کیڑے سے بلیغ تشبیہ دی ہے جو لمحے لمحے کو کھولتا اور پتے پتے کو بینتا ہے اور اپنی اک اک سانس کی لے سُن کر اسے اپنے تن پر لپیٹتا جاتا ہے۔ پھر اس وفور کے اظہار میں جو رکاوٹیں ہیں اُن میں سے ایک کی طرف یوں اشارہ کرتا ہے:

ایک بے چاری نظم کے پیچھے

مسئلے لاکھ روزمرہ کے

اس صورتحال میں اگر گلزارؔ نے ’’ چاند پکھراج کا‘‘ میں ہمارے لیے 123 نظمیں، غزلیں اور تروینیاں جمع کردی ہیں تو جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں، یہ اس کے تخلیقی وفور کا کرشمہ ہے۔

گلزارؔ کے ہاں موضوعات کا تنوع دیدنی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ گلزارؔ کی شاعری میں فطرت اس کے ہمزاد کا کردار ادا کرتی ہے اور فطرت کی وسعتیں کائناتی ہیں۔ وہ دن اور رات، سورج اور چاند ، دھوپ اور چاندنی، ساون اور بارش، درختوں اور پتوں، پیڑوں اور پھولوں، پہاڑوں اور بادلوں وغیرہ کو اپنی تخلیقات میں یوں بے ساختگی سے استعمال کرتا ہے جیسے ہم اور آپ اپنی آنکھوں اور کانوں اور دیگر حواس کو استعمال کرتے ہیں۔ گلزارؔ کے ہاں فطرت کے یہ مظاہر جیتے جاگتے، سانس لیتے اور انسانوں کی طرح جانداروں کا رُوپ دھارتے محسوس ہوتے ہیں۔ شاعر اور فطرت کے یہ مظاہر ان نظموں میں باہم آمیخت ہو کر یک جان ہو جاتے ہیں۔ فطرت باقاعدہ متکلم لگتی ہے اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سا جوار بھاٹا کہاں سے اُٹھا۔ سمندر سے یا گلزارؔ کے ذہن کی حساس رگوں سے۔

فطرت اس کے ہاں استعارے کا کام بھی دیتی ہے، علامت کا بھی اور اس کے افکار کے پس منظر کا بھی۔ اسی لیے جب وہ برسات کا ذکر کرتا ہے تو صرف برسات کا ذکر نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے:

تمام موسم ٹپک رہا ہے

پلک پلک رس رہی ہے یہ کائنات ساری

فطرت کا یہ استعارہ اس کی شاعری کے محبوب موضوع۔ محبت اور پھر محبت کے بنیادی موضوع۔ ہجر ووصال کے اظہار میں اس کا خاص فنکارانہ ہتھیار ہے۔ بہت کم شاعروں کے ہاں محبت کا حسی تجربہ اتنی بے شمار باریک اور مہین پرتوں کے ساتھ بیان ہوا ہے۔

گلزارؔ کی شاعری شاہد ے کہ اس نے محض محبت نہیں کی، ٹوٹ کر محبت کی ہے۔ عشق اس کے رگ وپے میں سرایت کرگیا ہے چنانچہ جب وہ اس موضوع پر بولتا ہے تو جیسے عشق متشکل ہو کر بولتا ہے، ہجرووصال دونوں ایک سی شدت کے ساتھ اس کے ہاں وارد ہوتے ہیں، چنانچہ وہ ایک غزل میں کہتا ہے:

اپنے ماضی کی جستجو میں بہار

پیلے پتے تلاش کرتی ہے

ایک اُمید بار بار آکر

اپنے ٹکڑے تلاش کرتی ہے

اور

آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے

آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے

پھر ایک نظم میں گلزارؔ نے کہا ہے:

تِرے غم کا نمک چکھ کر

بڑا میٹھا لگا ہے زندگی کا ذائقہ مجھ کو

محبت کا یہ وہ مقام ہے جہاں فراق ووِصال شاعر کے دل ودماغ پر اپنی گرفت کے لحاظ سے متحد نظر آنے لگتے ہیں۔ کہیں وہ محبوب سے کہتا ہے کہ تیرے قُرب کی برکت سے میرے جسم سے سینکڑوں فالتو جسم اُتر گئے ہیں اور کہیں عالمِ فراق میں اسے محبوب کی کہی ہوئی باتوں کا لمس بھی سرشار کر دیتا ہے۔ کہیں وہ محبوب کی رُخصت کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:

جیسے جھنا کے چٹخ جائے کسی ساز کا تار

جیسے ریشم کی کسی ڈور سے اُنگلی کٹ جائے

یاوصل کے عالم سرخوشی میں وہ پکار اُٹھتا ہے:

نزدیک سے کچھ بھی تو دکھائی نہیں دیتا

محبت اور اس کی متنوع کیفیات گلزارؔ کا محبوب موضوع ہیں مگر وہ مسائل حیات پر بھی فکر کرتا ہے اور حیران ہوتا ہے کہ موت تو سبھی پر آتی ہے مگر:

زندگی سب پہ کیوں نہیں آتی!

ان چھ الفاظ کے ایک مصرعے میں شاعر نے زندگی کی کربناکی اور سفاکی کو سمیٹ لیا ہے۔ اسی طرح اس کی تین ’’بجھارت نُما‘‘ نظمیں ہیں جن کے موضوعات غصہ، نشہ اور غم ہیں۔ ’’بجھارت‘‘ کے لفظ سے یہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ ممکن ہے یہ محض دماغی کرتب ہوں مگر ان تینوں کی فکری کیفیت نہایت گہری ہے۔ یہ گہرائی کاغذ کی کشتی کے استعارے میں بھی موجود ہے جہاں یہ کھلونا اس کرب میں سے گزرتا ہے جو اسے اپنے وجود کے شعور سے حاصل ہوتا ہے یا پھر ’’ریفیوجی‘‘ میں بھی یہی شعور ایک بچے سے اس کا بچپن چھین لیتا ہے۔ فکر کا یہ عنصر گلزارؔ کی شاعری میں ایک انڈرکرنٹ کی طرح رواں رہتا ہے۔

ظاہر ہے اس انتہا کا سوچتا ہوا ذہن اپنے آس پاس کی زندگی سے آنکھیں بند نہیں رکھ سکتا۔ گلزارؔ حقائق کی دُنیا سے بھاگتا نہیں بلکہ اس سے نمٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ روزانہ اخباروں کی لرزا دینے والی خبریں پڑھ کر وہ بتاتا ہے کہ:

سارا دن میں خون میں لت پت رہتا ہوں

اس نے ایک نظم میں زندگی کو ٹین کے خالی ڈبے سے تشبیہ دی ہے جو تیز ہوائوں میں، دیوار ودَر سے ٹکراتا پھر رہا ہے۔ اسی طرح وہ ایک جلاہے سے بے داغ اور بے گرہ زندگی کی تکمیل کا درس لینے جاتا ہے۔ پومپیئے کے سینکڑوں برس پرانے آثار کا ذکر کرنے کے بعد وہ اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ غربت وامارت اور ظلم وجبر کے جو نقشے پومپیئے کی کھدائی میں برآمد ہوئے ہیں وہ آج اس ترقی یافتہ، مہذب اور ماڈرن معاشرے میں بھی پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہیں۔ گلزارؔ کا عصری اور سماجی شعور اس کی محبت کی ہمہ گیری اور پھیلائو کے برعکس بے حد نوکیلا ہے۔ اسے معاشرے کی ناہمواریاں اور ناانصافیاں شعور کی انتہائی گہرائی تک متاثر کرتی ہیں۔ نظم ’’ایک پتہ‘‘ میں اس نے پسی ہوئی انسانیت کی نقشہ کشی بڑی دردمندی سے کی ہے۔ سرسری نظر ڈالنے والوں سے یہ جزئیات پوشیدہ رہ جاتی ہیں۔ انہی جزئیات کے حوالے سے وہ خدا سے بھی چند سوال کرتا ہے۔ گلزارؔ کے اس رویے میں ایک اپنائیت سے مملو بغاوت ہے جو سوال کرنے کا حوصلہ دیتی ہے اور اختلاف کرنے کی طاقت عطا کرتی ہے، یوں اس کے ہاں کہیں کہیں طنزیہ لہجہ بھی در آتا ہے۔ وہ جب مصور سے افلاس کی تصویری بنانے کو کہتا ہے یا اس شاعر کا ذکر کرتا ہے جسے افلاس کی سچی نقشہ کشی کے بدلے خلعتِ کم خواب ملتی ہے تو یہ طنزیہ لہجہ عروج پر پہنچ جاتا ہے۔

عالمِ انسانیت کے ماضی کے آئینے میں وہ جب حال کا عکس دیکھتا ہے تو طنز کی کاٹ نہایت شدید ہو جاتی ہے۔ وہ کھنڈروں میں قدیم راتوں کی بوسیدہ قبریں، گزرے دنوں کی شکستہ صلیبیں، شفق کی چتائیں، وقت کے ٹوٹے گُرز اور ڈھیر پر پڑی صدیاں دیکھتا ہے اور اسے عالی شان ایوانوں کی باقیات میں سے:

ایک جھینگر کی آ رہی ہے صدا

کا المیہ دستیاب ہوتا ہے۔ کھنڈر اور میوزیم اور اپنے مکان سے گزر کر جب وہ پومپیئے پر اپنی وہ غیرفانی نظم لکھتا ہے جس کا ذکر اُوپر آچکا ہے تو وہ ہمیں بتاتا ہے کہ:

شہر کھودا تو تواریخ کے ٹکڑے نکلے

اور وہاں اسے وقت کے پتھرائے ہوئے صفحے اور فراموش شدہ تہذیب کے پُرزے اور منجمد لادے میں اکڑے ہوئے انسانوں کے گچھے دکھائی دیتے ہیں۔ تب وہ گھبرا کر اپنے آس پاس دیکھتا ہے مگر وہاں بھی اُسے پومپئے ہی کے مناظر نظر آتے ہیں اور وہ سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ کہیں آج کا انسان ترقی معکوس میں مبتلا نہیں ہے! ایسی صورت حال کے بارے میں سوچتے تو شاید بہت سے لوگ ہیں مگر اس کا اتنہائی فنکارانہ اظہار گلزارؔ اور اس کی قبیل کے معدودے چند شعراء ہی کے حصے میں آیا ہے۔

گلزارؔ کی لفظیات دورِحاضر کی اُردو شاعری کے برعکس قطعی طور پر منفرد حیثیت رکھتی ہیں۔ یہاں میں الفاظ نہیں گنوائوں گا، اظہار کے صرف چند کرشموں، چند پیکروں کا ذکر کروں گا جو گلزارؔ کی نظموں اور غزلوں میں ایک کے بعد ایک وارد ہوتی چلی جاتی ہیں جن سے ثابت ہو گا کہ گلزارؔ اپنے جذبہ واحساس میں برش ڈبو کر ایسی تصویریں پینٹ کررہا ہے، مثلاً گہنائے ہوئے چاند کی دھجی، (گہرا نشیب ظاہر کرنے کے لیے) لڑھکی ہوئی وادی، لکڑی سی بے حس پڑی رات، پیٹھ پھیرے ہوئے دروازے، بادلوں کے جزیرے، شب کا نیلا گنبد، ماضی کی خشک شاخیں، گزرے ہوئے لمحوں کے پتے، دروازے پر چراغ کی لو کا ٹیکا، سناٹوں کی دُھول، آواز میں لپٹی خاموشی، روشنی کی سفید کرچیں، آنکھوں پر دُھوپ کے تیزاب کے چھینٹے، اُفق کی ٹہنی پر بیٹھی سنہری کونجیں، آنکھوں کے حروف، آواز کو دیکھنا ۔

٭٭٭


ای پیپر