سیاستدانوں کے فون ٹیپ ہو تے ہیں،پاکستانی سیاست اور حکمرانی کی اندرونی کہانی
29 May 2020 (16:43) 2020-05-29

بھٹو نے جب مجھے پرائم منسٹر ہائوس لگایا، میری ڈیوٹی کا تعین نہیں تھا کہ میرے ذمے کیا کام ہے۔ جب آپ ایسی جگہ پر چلے جاتے ہیں خاص طور سے جب آپ کا انٹیلی جنس سے تعلق ہو تو سیاست اور انٹیلی جنس میں بہت کم فرق رہ جاتا ہے اس لیے کہ اندرونی انٹیلی جنس ساری کی ساری سیاست ہے، اس میں آپ کو سیاسی لیڈروں پر نگاہ رکھنا پڑتی ہے۔ ان کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے پڑتے ہیں، ان کی سوچ معلوم کرنی پڑتی ہے جو پلاننگ وہ کرتے ہیں اس پر نظر رکھنا پڑتی ہے۔مطلب یہ کہ اندرونی انٹیلی جنس ایک طرح سے سیاست ہے، اس لیے جب تک انسان کو سیاست پر عبور نہ ہو، سُوجھ بُوجھ نہ ہو، وہ انٹیلی جنس میں کامیاب نہیں ہوسکتا، اس کے تعلقات وسیع ہوں۔ روابط ہوں اس کو صحیح خبریں ملتی رہیں، اس کیلئے سے سیاست دانوں سے بھی ملنا پڑتا ہے۔

سب سے اہم کام وہاں نیشنل انٹیلی جنس بورڈ کا تھا جو بھٹو صاحب نے تشکیل دیا تھا، مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں، انٹیلی جنس بیورو اور سپیشل برانچ کی ڈائریاں اور ان کی رپورٹیں ہمارے پاس پہنچتیں ہم تقریباً ہر مہینے میٹنگ کرتے تھے، اندرونی اور بیرونی انٹیلی جنس کو صحیح طور سے پیش کر کے رائے دیتے، کیا اندرونی خطرات ہیں، کیا بیرونی خطرات ہیں، کیا اندرونی حالات ہیں، پھر یہ کہ ان انٹیلی جنس ایجنسیوں پر نگاہ رکھی جائے کہ کس مسئلے کے متعلق کیا قدم اُٹھایا جائے۔بھٹو صاحب خود اس کے چیئرمین تھے، اس میں چند ایک منسٹرز تھے مثلاً خان قیوم، حفیظ پیرزادہ، رفیع رضا، اس کے علاوہ تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں مثلاً آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر اس کے ممبر تھے۔ میں اس کا سیکرٹری تھا۔ سب انٹیلی جنس رپورٹیں اور ڈائریاں میرے پاس آتی تھیں۔ میں ان کا نچوڑ بھٹو صاحب کو لکھ کر بھیجتا تھا۔

پرائم منسٹر ہائوس کی سکیورٹی بھی میرے ذمہ تھی۔ اس کا سٹاف سلیکٹ کرنا، کمی بیشی نظر آئے تو اس کو دیکھنا، میری جاب کچھ ایسی تھی جو بھٹو صاحب نے صرف میرے لیے کریٹ (Creat ) کی تھی چونکہ مجھے وہ ڈائریکٹر انٹیلی جنس نہیں لگا سکے تھے، اس لیے انہوں نے مجھے استعمال کرنے کے لیے میرے لیے جاب پیدا کی، جس میں ڈیوٹی کا تعین نہیں تھا ،جو کام انہوں نے مناسب سمجھا میرے سپرد کردیا لیکن جو بھٹو صاحب کے ذہن میں تھا اور جس کے بارے میں ہر وقت وہ سوچتے رہتے تھے، وہ تھا الیکشن۔ ظاہر ہے سیاسی لیڈر تھے، جمہوری وزیراعظم تھے، سب سے اہم بات یہ تھی کہ دوبارہ کس طرح جیتا جائے۔ انہوں نے مجھے کہا، تم خاص طور سے پنجاب کے متعلق مجھے نوٹ بنا کے دو کہ الیکشن کے متعلق کیا سوچ ہے۔ میں نے ان کو وہ نوٹ بنا کے دیا، وہ اس نوٹ سے اتنا متاثر ہوئے کہ وہ انہوں نے رفیع رضا کو اور باقی لوگوں کو بھی دکھایا، پھر میں نے محسوس کیا کہ وہ الیکشن کے متعلق سارا کام آہستہ آہستہ میرے کندھوں پر ڈالتے جارہے ہیں۔ انہوں نے مجھے کہا بھی، بات یہ ہے، الیکشن جیتنا ہے، ظاہر ہے میری حکومت کے لیے یہ سب سے اہم کام ہے، الیکشن سیل کا میں آپ کو چارج دینا چاہتا ہوں۔

ساری حکومتی مشینری ایک طرح سے الیکشن پر لگی ہوئی تھی۔ جمہوری گورنمنٹ کا یہی ہوتا ہے کہ ہر وزارت کو بتانا پڑتا ہے کہ انہوں نے پانچ سال میں کیا کیا اور آئندہ کیا کریں گے، اس لحاظ سے جتنی بھی رپورٹیں آرہی تھیں وہ الیکشن کے متعلق تھیں اور میرا اپنا وقت بھی اسی میں صرف ہوتا تھا۔

لیکن میں وہاں ایک طرح سے نیا تھا، آپ کسی محفل میں جائیں یا کسی نئی جگہ پر جائیں تو ہر آدمی آپ کو رزسٹ کرے گا، اندر گھسنے سے روکے گا۔ اس کی مثال اس طرح سے ہے۔ ریل کا ڈبہ ہے جیسا ہمارے ہاں ہوتا ہے۔ بڑا رش ہوتا ہے جو باہر سے آتے ہیں۔ اندر والے ان کو روکتے ہیں، پرائم منسٹر ہائوس کا حال یہی تھا جو اندر پہنچے ہوئے تھے، ان کی کوشش تھی کہ باہر سے کوئی نہ آئے میں نے دُنیا دیکھی تھی تیس پینتیس سال کی نوکری تھی، میں نے پورے پاکستان کی خاک چھانی تھی۔ بلوچستان میں بھی رہا تھا۔ آزادکشمیر میں بھی رہا تھا۔ ہر قسم کے حالات سے واقف رہا تھا۔ ان چیزوں سے میں گھبرانے والا نہیں تھا۔ میں 22ویں گریڈ کا سیکرٹری تھا۔ افضل سعید بھی 22ویں گریڈ کے سیکرٹری تھے، میرے جانے سے چونکہ ان کی معتبری میں فرق پڑتا تھا، ان کی اجارہ داری میں فرق پڑتا تھا اس لیے وہ ناخوش تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے یہ کوشش کی کہ کس طرح سے مجھے چھوٹا سا دفتر دے دیا جاے، جہاں کوئی پُرانی میز کُرسی پڑی ہو تاکہ پتہ چلے کہ اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔

بالآخر انسان کا کام، اس کا کردار اس کی اہمیت بناتا ہے۔ میرے جانے سے جو امپارٹنٹ (اہم) فائلیں تھیں جو انٹیلی جنس کی فائلیں تھیں جہاں اصلی خبریں ہوا کرتی تھیں۔ وہ افضل سعید کے پاس سے ہو کے آنی شروع ہو گئیں، میرا ہمیشہ یہ ذہن رہا ہے کہ آدمی کام اتنا کرے جتنی اس سے توقع ہو یا جو اس پر فرض بنتا ہو۔ اپنے فرض سے زیادہ پاٹے خانی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا مثلاً بھٹو صاحب کی عادت تھی کہ سارا سارا دن کام کرتے تھے بغیر کھائے پیئے کام کرتے رہتے تھے۔ ان کے ساتھ رہ کے انسان کا اپنا وقت نہیں رہتا تھا اس لیے میں کوشش کرتا تھا کہ اتنا دور رہ کے اپنا کام کرو کہ اپنا روٹین بھی رہے مثلاً یہ کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں، میں چلا گیا، کھانا کھایا اور سو گیا جو میرا روٹین تھا، میں نے ہر میٹنگ میں ٹانگ پھنسانے کی کوشش نہیں کی۔ اگر انہوں نے نہیں بلایا تو ٹھیک ہے ورنہ مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں خواہ مخواہ وہاں جا کے اپنا وقت ضائع کروں، میں شام کو سیر کرتا تھا، گھوڑسواری کرتا تھا۔ اس کے برعکس افضل سعید کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ ہر فائل وہ ضرور دیکھیں اور ہر میٹنگ میں چاہے ان کی ضرورت ہے یا نہیں ہے، وہ ضرور ہوتے تھے مثلاً یہ کہ نیشنل انٹیلی جنس بورڈ کے وہ ممبر نہیں تھے وقار بھی ممبر نہیں تھے، اس کی پہلی میٹنگ ہوئی تو جو ممبر نہیں تھے، ان کو نہیں بلایا گیا اگلی میٹنگ سے پہلے افضل سعید صاحب نے مجھے فون کیا میں ممبر تو نہیں ہوں اگر میں اس میٹنگ میں آجائوں ، آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں۔ میں نے کہا: مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے، اگر آپ مناسب سمجھتے ہیں تو آجائیں چنانچہ وہ اس میٹنگ میں باقاعدہ طور سے شریک ہوئے۔ پھر اسی طرح سے انٹیلی جنس کی فائلیں ان کی معرفت جانے لگی تو انہوں نے مجھے کہا کہ بات یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی آدمی ایسا ہونا چاہیے جسے ساری فائلوں کا پتہ ہو۔ کدھر جاتے ہیں کدھر نہیں جاتے، چلو یہ ٹھیک ہے کہ جب فائل آپ بھٹو صاحب کو بھیجتے ہیں تو میرے تھرو (ذریعے) نہ جائیں لیکن واپس آتے ہیں تو میرے تھرو آئیں، اس پر میں یہ سمجھا کہ شاید وہ یہ چاہتے ہیں کہ جو بھی انفارمیشن پرائم منسٹر کے پاس ہو اس میں سے کوئی انفارمیشن ایسی نہ ہو جو کہ ان کو معلوم نہ ہو، کیا مقصد ہوسکتا تھا اور کس وجہ سے وہ یہ کرتے تھے اس کا میرے پاس کوئی صریح حوالہ تو نہیں لیکن جب بھٹو صاحب کے خلاف ایجی ٹیشن شروع ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ ایک فائل جو صرف بھٹو صاحب نے میں نے اور افضل سعید نے دیکھی تھی اس کی خبر اخبارات میں آگئی۔

وہ خبر اخبار میں آئی تو میں نے بھٹو صاحب کو کہا کہ یہ بات اخبارات میں آئی ہے، یہ فائل میں نے دیکھا ہے آپ کو میں نے دکھایا، افضل سعید نے دیکھا، پھر یہ خبر کیسے اخبار میں آئی۔ پتہ چلا کہ افضل سعید مولانا مودودیؒ کے رشتے داروں میں سے ہیں اور شاید مولانا مودودیؒ کی بیگم کی افضل سعید صاحب کی بیگم سے بڑی قریب کی رشتے داری ہے، یہ بھی پتہ چلا کہ ان لوگوں کی اصغر خان کی بیوی سے بھی رشتے داری ہے۔ یہ سب بھٹو صاحب کے خلاف ایجی ٹیشن میں پیش پیش تھے۔ آپس میں ان لوگوں کا بڑا قریبی تعلق تھا لیکن بغیر کسی شہادت کے کسی کے خلاف کوئی بات کہنا زیادتی کی بات ہوتی ہے اور اب بھی میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ افضل سعید نے بھٹو صاحب سے کوئی غداری کی ہو یا ان کی خبریں باہر دیتے تھے، تیسری بات یہ کہ شعیب جو سی آئی اے کا مسلمہ ایجنٹ تھا۔ افضل سعید اس کے جوائنٹ سیکرٹری رہے تھے۔ شعیب جو ایوب خان کے فنانس منسٹر تھے اور بھٹو صاحب کے بہت مخالف تھے۔

اس سے دو چیزیں ثابت تھیں۔ ایک تو بھٹو صاحب کی فراخدلی کہ اس کے باوجود انہوں نے افضل سعید کو نہ صرف وہاں رکھا بلکہ اس پر بڑا اعتماد کیا اور دوسری طرف افضل سعید کی یہ کوشش کی کہ ہر بات کا اسے پتہ ہو، ہر فائل اس سے مارک ہو کے جائے، ہر میٹنگ وہ اٹینڈ کرے اور اس کے بعد انکوائری میں پھر ان کا جو کردار رہا، انہوں نے بھٹو صاحب پر جو الزام لگایا کہ ابوظہبی سے شیخ النہیان الیکشن کے لیے بھٹو صاحب کو حسن عابدی کے ذریعے پیسے بھیجتے تھے۔ یہ انہوں نے فوج کے سامنے بیان دیا، جب ہم سب کی انکوائریاں ہورہی تھیں ہم سب کو فوج نے نظربندی میں رکھا ہوا تھا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ بھٹو صاحب کے سب سے قریب جو انسان تھے وہ افضل سعید تھے۔ سب سے زیادہ انفارمیشن بھی انہی کے پاس ہونی چاہیے تھی لیکن فوجی حکومت نے جب پکڑا تو بھٹو صاحب کے علاوہ ہم چار آدمیوں کو پکڑا، وقار احمد، مسعود محمود، اکرم شیخ اور میں لیکن افضل سعید کو نہیں پکڑا گیا۔

ہمیں مارشل لاء لگنے سے پہلے پکڑلیا۔ مجھے مارشل لاء کا پتہ اس طرح سے لگا کہ میں اپنے گھر سو رہا تھا۔ رات کے بارہ بجے فوجی پہنچ گئے۔ سب سے پہلے مجھے پکڑ کے لے گئے۔ افضل سعید کو انہوں نے نہیں پکڑا بلکہ وہ دفتر بھی جاتے رہے اور جنرل ضیاء الحق سے وہ ملتے بھی رہے۔

٭٭٭


ای پیپر