اے خیر کے طالب آگے بڑھ
29 May 2020 (16:35) 2020-05-29

(نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان)

تمام اہل ایمان کو عیدالفطر مبارک ہو۔ رحمتوں، برکتوں، عظمتوں اور مغفرتوں کا مہینہ گزر گیا۔ رمضان کی پہلی رات جب آئی اللہ کے مُنادی نے پکار دی کہ اے خیر کے طالب آگے بڑھ ، اے شر کے شائق رُک جا۔ آپؐ نے فرمایا کہ ’’تمہارے پاس رمضان آیا ہے، مبارک مہینہ‘‘۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’تمہارے پاس رمضان بابرکت مہینہ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مہینے میں تمہیں اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لیتا ہے۔ وہ اپنی رحمت نازل کرتا ہے اور گناہوں کو مٹاتا ہے، دعائوں کو قبول کرتا ہے، وہ تمہاری رغبت، چاہت اور جوش وخروش کو دیکھ کر فرشتوں پر فخر کرتا ہے اس لیے تم اللہ کو اپنی طرف سے بھلائی دکھائو، جو اس مہینہ میں اللہ کی رحمت سے محروم ہو گیا وہ انتہائی بدبخت ہے‘‘۔ (طبرانی، مسنداحمد)

روزہ جس نے ایمان واحتساب سے رکھا وہ ہی کامیاب رہا۔ اسلام بندہ مومن کو اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے تیار کرتا ہے۔ وہ اُن مقاصد سے کہیں اعلیٰ وبرتر اور عظیم الشان ہیں جن کے لیے ایک فوجی کمانڈر کو تیار کیا جاتا ہے۔ کمانڈر کے پیش نظر صرف اپنی قوم اور فوج کی فتح وسربلندی ہوتی ہے جبکہ بندہ مومن روزہ، تلاوت قرآن، راتوں کے قیام کی عبادات سے گزر کر اپنے مالک، اپنے آقا، اپنے رب کی کبریائی کے لیے جدوجہد کرتا ہے، اس کی نظر اس فانی دُنیا سے آگے کی منزلوں پر ہے، وہ تر خشک پہاڑوں، تپتے صحرائوں اور گہرے سمندروں میں محبوب کی رضا اور خوشنودی کے مقام، جنت کی خوشبو کو محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے روزہ تقرب الٰہی کے حصول کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ بندہ مومن اپنے ربّ کی کبریائی کو تسلیم کر لیتا ہے۔ کتاب ہدایت اور بے شمار نعمتیں ملنے پر اپنے رب کے حضور تشکر کرتا ہے۔

جو اہل ایمان عید کا دن پاتے ہیں، وہ مبارک اور خوشی کے حق دار ہوتے ہیں۔ ان کا ایمان افروز حال خود رسول اللہ ﷺ سے سنیے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’جب عید کی صبح نمودار ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو ہر شہر اور بستی کی طرف روانہ کر دیتے ہیں۔ فرشتے زمین پر اُتر کر ہر گلی اور ہر راستے کے موڑ پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور پکارتے ہیں، ان کی پکار ساری مخلوق سنتی ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے ، وہ پکارتے ہیں ’’ اے محمدؐ کی اُمت کے لوگو! نکلو اپنے گھروں سے اور چلو اپنے پروردگار کی طرف، تمہارا رب بہت ہی زیادہ دینے والا اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف کرنے والا ہے‘‘۔ پھر جب اہل ایمان عید کی نماز کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے مخاطب ہو کر سوال کرتے ہیں۔’’اس مزدور کا صلہ کیا ہے جس نے اپنے ربّ کا کام پورا کیا‘‘۔

فرشتے کہتے ہیں اے ہمارے معبود، اس مزدور کا صلہ یہ ہے کہ اسے بھرپور مزدوری دی جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’تم سب گواہ ہو جائو کہ میں نے اپنے بندوں کو جو رمضان بھر روزے رکھتے رہے اور راتوں کو قیام کرتے رہے، اُس کے صلے میں اپنی خوشنودی سے نواز دیا اور اُن کی مغفرت فرما دی‘‘۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کہتے ہیں: ’’میرے پیارے بندو! مانگو جو کچھ مانگتے ہو، مجھے میری عزت کی قسم! مجھے میرے جلال کی قسم! آج عید کے اس اجتماع میں تم اپنی آخرت کے لیے مجھ سے جو مانگو گے اُس میں بھی تمہاری بھلائی کو پیش نظر رکھوں گا۔ جب تک تم میری طرف رجوع کرتے رہو گے میں تمہاری خطائوں پر پردہ ڈالتا رہوں گا۔ مجھے میری عزت اور جلال کی قسم! میں تمہیں مجرموں کے ساتھ ہرگز ذلیل ورُسوا نہ کروں گا، جائو تم اپنے گھروں کو بخشے بخشائے لوٹ جائو، تم مجھے راضی کرنے میں لگے رہے ہو میں تم سے راضی ہو گیا‘‘۔

فرشتے اس بشارت پر خوشی سے جھوم اُٹھتے ہیں اور اللہ کی اس بخشش پرخوشیاں مناتے ہیں جو وہ اپنے بندوں پر فرماتا ہے۔ یوم عید مبارکباد کا دن ہے اور تعزیت کا دن بھی۔ مبارکباد اس کے لیے جس سے رمضان خوش خوش رُخصت ہوتا ہے، افسوس اور تعزیت اس کے لیے جس سے رمضان رُخصت ہو گیا اور وہ اس کے ذریعے بخشش سے محروم رہا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز اپنے منبر کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے فرمایا ’’آمین‘‘۔ صحابہ کرامؓ کے استفسار پر رسول اللہﷺ نے بتایا کہ جبرائیلؑ ارشاد فرما رہے تھے ’’اللہ اُس شخص کو ہلاک کردے جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور پھر بھی اپنی مغفرت کا سامان نہیں کیا‘‘۔ جبرئیلؑ کی اس تنبیہ پر آپؐ نے آمین کہا۔رسول اللہﷺ نے اُن خوش نصیبوں کی خبر دی ’’رمضان کی آخری رات میں اُمت کی مغفرت اور بخشش کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ صحابہ کرامؓ نے دریافت کیا یارسول اللہ! کیا وہ شبِ قدر ہوتی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: لیلتہ القدر تو نہیں ہوتی لیکن بات یہ ہے کہ عمل کرنے والا جب اپنا عمل پورا کردے تو اُس کو پوری اُجرت مل جاتی ہے‘‘۔ (مسند احمد) یہ ہی خوش نصیب اہل ایمان یہ خوشخبری پا کر خوشی خوشی اپنے ربّ کے حضور جھک جاتے ہیں۔ عید کا دوگانہ ادا کرتے ہیں اور اُن کا پورا جسم اللہ کے شکر کی تکبیر بلند کرتا ہے۔

اللہ اکبر، اللہ اکبر، لاالہ الااللہ ، وللہ اکبر، اللہ اکبر وللہ الحمد o

عید کا چاند نظر آنے سے لے کر عید کی نماز کی ادائیگی تک کثرت سے تکبیریں پڑھنا مسنون ہے۔ صدقہ فطر عید کی نماز کی ادائیگی سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ جذبہ شکرگزاری کے ساتھ صدقہ فطر ادا کیا جائے تاکہ خوشی کے اس دن کوئی مسلمان بھائی بہن وسائل کی کمی کی وجہ سے خوشی منانے سے محروم نہ رہے۔ صاحب خانہ اپنے گھر کے تمام افراد کی جانب سے صدقہ فطر ادا کردے۔ نمازعید کے لیے جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھانا سنت ہے اور پھر خوشی خوشی عید کی نماز کے لیے چل پڑتا ہے۔ (صحیح بخاری)

نمازعید کی دو رکعتوں سے پہلے اور بعد کوئی دوسری نفل نماز نہیں ادا کرتا، بندہ مومن عید کے روز مسواک کرتا ہے، غسل کرتا ہے، اچھا لباس پہنتا ہے اور مرد خوشبو لگاتا ہے۔ نمازعید کے لیے خواتین کو بھی ترغیب دی گئی ہے، یوں پورا خاندان اللہ کا شکر ادا کرے۔ اپنے رب کے حضور جھک جائے (صحیح بخاری)

بندہ مومن عیدگاہ جانے اور آنے کے لیے الگ الگ راستے اختیار کرتا ہے تاکہ بستی کا ہر راستہ اس کی خوشی میں شریک ہو۔

یوم عید اہل ایمان اور ایمان واحتساب سے روزے رکھنے والوں کے لیے کامیابی کا دن ہے جن کے لیے یہ اعلان ہو جائے ’’سنو بے شک تمہارے رب نے تمہاری مغفرت کردی، پس رُشد وہدایت کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹ جائو، یوم عید ایسے لوگوں کے لیے بدلے کا دن ہے، یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، اللہ کے لیے بغض رکھتے ہیں، اللہ کی رضا کے لیے دیتے ہیں اور اللہ جہاں روک دے رُخ جاتے ہیں پس ایسے لوگوں کا ایمان کمال کو پہنچ گیا۔ اللہ کرے رمضان کی عبادات بخشش کا ذریعہ بن جائیں۔

آپ کو عید مبارک ہو، آپ کا ہر لمحہ بھلائی کے لیے ہو، آپ کی ہر کوشش جنت کے حصول کے لیے ہو۔ عید کے دن خوشی کے اظہار کے لیے ایک دوسرے سے ملتے ہیں، ایسا اہل ایمان کی بستیاں اُن کے ایمان واطاعت کے جذبات کی گواہ بن جاتی ہیں۔ عید کے روز عزیز واقارب سے احباب سے، ہمسایوں سے ملاقات، باہمی محبت واحترام بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔ صحابہ کرامؓ اس موقع پر ایک دوسرے کو دعا دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہماری رمضان کی عبادات کو قبول فرمائے، آمین۔

عید کا دن ایسا موقع ہے کہ خوشی کے اظہار میں شائستگی، عاجزی اور رمضان کی عبادات کا عکس ہونا چاہیے۔ اپنی ضروریات کے باوجود اپنا وقت، صلاحیت اور پسندیدہ مال صرف اللہ کی رضا کے لیے مستحق افراد پر خرچ کرنا چاہیے۔ اللہ کے دین کے فروغ کے لیے اللہ کے دیئے ہوئے مال کو خرچ کیا جائے۔ حقوق العباد تو بندہ کا بندہ پر حق ہے۔ مصروفیاتِ زندگی اس قدر ہیں کہ عزیز واقارب سے دوری ہو جاتی ہے، یہ ایسا دن ہے قریبی عزیزواقارب سے ملیں، حالات سے باخبر رہنے اور اُن کی خدمت کرنا خوشگوار موقع ہے۔

ماہ رمضان اور عیدالفطر کرونا وباء میں ہی ہے۔ دُنیا بھر کے تمام انسان اس سے متاثر ہیں۔ لاک ڈائون، سماجی فاصلوں نے ایک نیا معاشرتی ضابطہ ترتیب دیا ہے۔ علماء کرام نے کمال حکمت ودوراندیشی سے اجتماعی عبادات کے لیے ماحول بنایا، مساجد کو تالہ بندی سے بچایا، ابھی کرونا وباء جاری ہے، لاک ڈائون کی سختیاں نرمی میں بدلی ہیں۔ جب احتیاطی تدابیر کی بار بار تلقین ہورہی ہے اس اہل ایمان، اجتماعی عبادات کا ذوق شوق رکھنے والے یہ ضرور پیش نظر رکھیں۔

٭سماجی فاصلہ، ہاتھ ملانے کی کوشش نہ کرنا، پاکیزگی اختیار کرنے کا ضابطہ قائم رکھا جائے۔

٭منڈیوں، بینکوں، بازاروں، معاشرتی، تجارتی مراکز پر احتیاطیں ٹوٹ پھوٹ اور بکھر گئی ہیں لیکن اس کی پیروی کی بجائے عید نماز کے نمازی اپنا باوقار، سماجی ضابطوں کی پابندی اور عمل برقرار رکھیں۔ ڈسپلن کے پابند علماء اور نمازیوں کا وقار بڑھا ہے۔

٭لاک ڈائون، تجارتی، صنعتی سرگرمیوں پر بندش رہی، اس بحران سے مل کر نکلنا ہے۔ اس لیے غریب، مستحق لوگوں اور ہمسایوں کا خیال رکھا جائے۔

٭٭٭


ای پیپر