کال کوٹھڑی،اہم واقعات، اہم انکشافات
29 May 2020 (16:32) 2020-05-29

پچھلے شمارے سے اگلا حصہ ۔۔۔۔

پہلے مجھے یوں لگا کہ شاید کبوتر بلی کو دیکھ کر شور مچا رہا ہے یا پھر اس قسم کی کوئی اور بات ہو گی لیکن یہ آواز رات ڈھلنے تک آتی رہی۔ جب صبح کی روشنی پھیل گئی تو میں نے اس شور کا سبب معلوم کرلیا۔ ہمارے سیل کے اندر ایک قوی ہیکل آدمی پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا اور دو آدمی اسے مساج کررہے تھے۔ معلوم ہوا کہ وہ کوئی مقامی پیر تھا اور قتل کے الزام میں اسے جیل کی سزا ہوئی تھی۔ اگلے روز مجھے کلاس بی کے بیرک میں منتقل کردیا گیا جہاں تقریباً آٹھ قیدی تھے۔ ان میں سے کچھ ریٹائر فوجی بھی تھے۔ جیل کا سپرنٹنڈنٹ اپنے سٹاف کے ہمراہ انسپکشن کرنے آیا۔ ہم سب اپنی چارپائیوں کے پائیوں پر کھڑے ہو گئے۔ سپرنٹنڈنٹ نے ہدایت کی کہ اس بیرک میں کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہو گی۔ اگر مجھے کسی کی طرف سے خلاف ورزی کی رپورٹ ملی تو اسے واپس سی کلاس کے بیرک میں بھیج دیا جائے گا۔ میں نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ صاحب! مجھے سیاسی الزامات کے تحت جیل بھیجا گیا ہے اور اس پر مجھے کوئی شرمندگی بھی نہیں۔ میں تو سیاسی باتیں کروں گا اور بھٹو کو بُرا بھلا کہوں گا۔ آپ کے جو جی میں آئے کریں۔ سپرنٹنڈنٹ میری بات سُن کر خاموشی سے چلے گئے۔ اس سے ظاہر ہورہا تھا کہ وہ ایک اچھا آدمی تھا۔ گجرات جیل میں جتنا عرصہ میں نے گذارا، سپرنٹنڈنٹ نے میری ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کی۔

بی کلاس کے قیدی ہونے کے ناطے مجھے باہر سے کھانے پینے کی چیزیں منگوانے کا حق حاصل تھا۔ میرا کھانا روزانہ چوہدری ظہورالٰہی کے گھر سے آتا تھا جبکہ وہ خود حیدرآباد جیل میں چارسال قید کی سزا بھگت رہے تھے۔ گجرات جیل کے چاروں اطراف سکیورٹی کے کافی سخت انتظامات تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ ایک ملنگ جیل کے گیٹ پر نمودار ہوا۔ یہ وہ ملنگ تھا جو ہر دس پندرہ دن بعد اسلام آباد میں میرے والد کے گھر پر پیسے مانگنے آتا تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے سمجھا کہ وہ جیل کے اطراف کا معائنہ کررہا ہے تاکہ کسی کو جیل سے بھگانے کی کوشش کرے، اس واقعے کے بعد سکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔

مئی 1976ء میں لاہور ہائیکورٹ نے میری درخواست ضمانت کی سماعت کی۔ حکومت نے درخواست کی مخالفت کی۔ جج نے سماعت مکمل ہونے کے بعد اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’گوہرایوب کھلے عام کہہ رہا ہے کہ ایک وزیر نے پاکستان شپنگ کارپوریشن کے لیے آئل ٹینکر خریدنے میں کرپشن کی ہے جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا ہے۔ حکومت کا کام کرپشن ختم کرنا ہے، حکومت کو چاہیے کہ اس الزام کے حوالے سے گوہر ایوب خان سے معلومات حاصل کرے لیکن اس کے برعکس انہیں دبانے کی کوشش کی گئی اور ان پر مقدمات قائم کر کے انہیں جیل میں بند کردیا گیا۔ اگر حکومت یہی کچھ کرتی رہی تو ملک سے کرپشن کیسے ختم ہوگی‘‘۔ اگلے روز میری ضمانت منظور کرلی گئی۔ میرے لیے گاڑی بھجوائی گئی تھی۔ میں اس میں بیٹھ کر ایبٹ آباد آگیا۔ مجھے معلوم تھا کہ صوبہ سرحد میں میرے خلاف بہت سے اور بھی کیس تیار کیے ہوئے ہیں۔ مارچ 1976ء کو بالاکوٹ میں ایک جلسہ عام کا اہتمام کیاگیا۔ قریبی بازار اور جلسہ گاہ کے قرب وجوار میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی مگر جلسہ گاہ میں کوئی نہیں تھا۔ جب ہم بازار میں داخل ہوئے تو لوگ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ وہ جلوس کی شکل میں ہماری گاڑیوں کے پیچھے ہولیے۔ ہم نے کسی دوسری جگہ جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا اور جلسہ کے لیے ایک زیرتعمیر مسجد کا انتخاب کیا گیا۔ وہاں لوگوں کے بیٹھنے کے انتظامات کرنے کا وقت نہیں تھا۔ جلسہ جب شروع ہوا تو وہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں رہی۔ تقریریں شروع ہو گئیں۔ میں نے بھٹو اور ان کی حکومت کے خلاف اپنی تقریر شروع کی اور بتایا کہ انہوں نے لوگوں کے لیے کیا کیا مشکلات پیدا کیں۔ ابھی میری تقریر شروع ہوئے پندرہ منٹ کا وقت گزرا ہو گا کہ ڈپٹی کمشنر اور ڈی ایس پی مسجد میں داخل ہو گئے اور میرے سامنے والی جگہ پر کر کھڑے ہو گئے۔ ڈی ایس پی نے دفعہ 144 کے نفاذ کا حکم نامہ کھول کر مجھے دکھایا تاکہ میں پڑھ سکوں کہ انہوں نے کیا اُٹھا رکھا ہے۔ لوگوں کو تجسس تھا۔ وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ سامنے کیا ہورہا ہے۔ جونہی لوگوں نے پیچھے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں مجھے دھکیلا، میں سیدھا ڈی ایس پی کے اوپر جاگرا۔ ڈی ایس پی نیچے گر گیا اور اسے چوٹیں بھی آئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے بازار میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ میں نے ڈی ایس پی کی پٹائی کردی۔

جلسے سے ایبٹ آباد واپسی پر میں نے اپنی اہلیہ کو بتایا کہ آج تو پولیس کے ہتھے چڑھنے سے بال بال بچ گئے تاہم میرا ضروری سامان تیار رکھنا۔ لمبے عرصے کے لیے جیل جانے کی تیاری کرنی ہو گی۔ پشاور میں خصوصی عدالت قائم کی جاچکی تھی جس کے سامنے میرے خلاف مقدمے پیش ہونے تھے اور میرے خلاف ایک اور مقدمہ چلانے کی تیاریاں مکمل تھیں۔ بھٹو نے اپنا کرنا پورا کردیا تھا۔ خصوصی عدالت کے صدر (جوسرحد اسمبلی کے سیکرٹری بھی تھے)کو ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ سماعت کی کارروائی تیز کی جائے اور تمام مقدمات میں مجھے زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔ توقع کے مطابق آدھی رات کو پولیس پہنچ گئی۔ میں پولیس افسر سے ملنے گھر سے باہر نکلا تو انہوں نے بتایا کہ میں خود کو زیرحراست سمجھوں اور ان کے ساتھ چلوں۔ میں نے پوچھا کہ گرفتاری کا وارنٹ کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے پاس کوئی وارنٹ نہیں۔ مجھے زبانی ہدایت کی گئی ہے۔ میں نے کہا کہ جب تک آپ میری گرفتاری کے وارنٹ نہیں لاتے میں آپ کے ساتھ جانے کو تیار نہیں ہوں، مجھے کیا پتہ کہ تم کون ہو، اس لیے میرا مشورہ ہے کہ ابھی واپس جائیں اور جب دوبارہ آجائیں تو گرفتاری کے وارنٹ اپنے ساتھ لے آئیں۔ میری بات سُن کر پولیس افسر اور ان کے ساتھی واپس چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد وہ میری گرفتاری کے وارنٹ لے کر واپس آگئے جس میں مجھ پر دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ مجھے ہری پور جیل لے جایا گیا جہاں مجھے تین دن رکھا گیا۔ وہاں سے مجھے پشاور لے جایا گیا اور قید تنہائی میں رکھا گیا۔ جس پھانسی گھاٹ میں مجھے رکھا گیا اسے جیل کے اندر ایک اور جیل قرار دیا جاسکتا ہے۔ میرے خاندان کو بھی نہیں بتایا کہ مجھے کہاں رکھا گیا ہے۔ (جاری ہے)

٭٭٭


ای پیپر