جو شخص قاضی بنا بغیر چھری ذبیح ہوا
29 May 2020 2020-05-29

قارئین، میں سمجھتا ہوں کہ علم کا تقاضہ ہے ، کہ انسان کو باعمل ہونے کے لئے اپنا علم خواہ جتنا بھی ہو، دوسروں تک بھی پہنچانا ضروری ہے۔

ہمارے راہبر و ہادی حضور قاضی ، یعنی ایک منصف اور جج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ابوجعفر منصور کے دور حکومت میں امور شرعیہ کے انتظام کے لئے قاضی کی ضرورت تھی ، اور اس وقت چار آدمی اس منصب کے اہل تھے، امام ابوحنفیہؓ، دوسرے سفیان توری ، تیسرے مسربن کرام اور شریح ان کو بلانے کے لئے ہرکارہ آجکل کی زبان میں (RIDER) بلانے کے لئے آیا۔

راستے میں امام ابو حنفیہؓ سے باقی تینوں نے کہا، کہ میں اپنی عقل کے مطابق آپ سب کو مشورہ دینا چاہتا ہوں، سب متوجہ ہوئے اور کہا کہ فرمایئے آپ نے کہا، کہ میں کسی حیلے بہانے سے قاضی بننے کے منصب کی مصیبت سے بچنے کے لئے پوری کوشش کروں گا، میرا مشورہ ہے، کہ مسرؒ اور سفیانؒ اپنے آپ کو دیوانہ ظاہر کرے، اور دوسرا راہ فرار اختیار کرے، شریع راستے میں فرار ہو گئے، اور کشتی میں سوار ہو گئے اور بولے، مجھے بچاﺅ، کیونکہ یہ میرا سر کاٹ رہے ہیں ان کا اشارہ حضور کے اس ارشاد مبارک کی طرف تھا، کہ ” جو شخص قاضی بنا وہ بغیر چھری کے ذبح ہوا“ لہٰذا کشتی کے ملاح نے ان کو چھپا لیا باقی تین لوگ بھی ابو منصور حکمران کے پاس دربار پہنچے، پہلے ابو حنیفہؓ کی باری آئی آپ نے حکمران وقت سے کہا کہ میں تو عربی انسل نہیں ہوں۔

عرب کے سادات ، میرے اس منصب پہ فائض ہونے پہ خوش نہیں ہوں گے، حکمران ابو منصور نے کہا ، کہ اس عہدے کے لئے ذات نہیں ، بلکہ علم کی ضرورت ہوتی ہے، تم تو علماءکے پیش رو ہو۔

امام ابو حنیفہؓ نے اس موقعے پر کمال بات کی کہ میں اس عہدے کے لئے معذور ہوں، اور اس کام کے بالکل لائق نہیں ہوں، اور اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو جھوٹا آدمی قاضی نہیں بنایا جا سکتا، آپ خلیفہ وقت ہیں، دروغ گو اور جھوٹے آدمی کو قاضی نہ بنائیں، اور اپنی رعایا کے جان و مال رعایا کا اعتماد ، عزت و ناموس ، اس کے سپرد نہ کریں اس طرح سے ان کی جان بچ گئی ، اور وہ بقول شاعر یہ کہتے ہوئے کہ

اگرچہ کام مشکل ہے، مگر ہم بھی قلندر ہیں

تیری ضدوں کو اے خالق! کبھی ہم جوڑ ہی دیں گے

مسرؒ کی جب باری آئی تو بجائے اس کے کہ وہ حکمران کی طرف توجہ دیتے، انہوں نے امام ابوحنیفہؓ کو پکڑ لیا، اور پوچھنا شروع کر دیا کہ تم کیسے ہو ، تمہارے بال بچے کیسے ہیں؟

خلیفہ منصور نے ان کی اس طرح کے طرز تکلم اور جسمانی حرکات و سکنات کو دیکھ کر کہا کہ ان جیسے دیوانے شخص کو باہر نکال دو اس کے بعد شریحؒ کو اس عہدے کو سنبھالنے کا جب حکم دیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میرا دماغ بہت کمزور ہے، اور میں سودائی مزاج آدمی ہوں، خلیفہ منصور نے کہا، کہ اپنا علاج کراﺅ، اپنے مزاج کے مطابق دوائیاں ، مشروبات استعمال کرو، تا کہ دماغ ٹھیک ہو جائے، اور یہ عہدہ ان کے سپرد کر دیا گیا، مگر خلیفے نے ان سے بات نہ کی اور خود رخصت ہو گئے۔

یہ واقعہ امام ابوحنیفہؓ کی شان و عظمت کا بین نشان ہے، وہ اپنی عقلمندی اور فراست سے سب لوگوں کا میلان طبع سمجھ گئے ، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بقول حضرت ہجویریؒ اپنی ذات کو مصیب سے محفوظ کر لیا، کیونکہ خلق یعنی لوگوں سے دور رہنا ، اس امر کی دلیل ہے کہ صورت حال اور سلامتی ، ان عہدوں سے کنارہ کشی میں ہے، آج کل سب اہل علم اس کام یعنی قضا، عدل و انصاف کے قاضی بننے کو پسند کرتے ہیں ، دراصل وہ نفسیاتی خواہشات میں مبتلا ہوتے ہیں ، اور راہ حق سے نعوز ہیں امیروں کے دولت کدے ان کے قبلہ گاہ ہیں۔ قارئین اگر ہم ان باتوں کا اطلاق پاکستان کے نصیب و قسمت میں آنے والے قاضی القضاءیعنی چیف جسٹس صاحبان جو حکمرانوں کے بچوں کی سالگرہ ، شادیوں اور نجی تقریبات میں شرکت کرتے نظر آتے ہیں، اسی لئے پھر ان کی ان سرگرمیوں کی وجہ سے ظالموں کے گھر آباد ہوتے ہیں ، اور وہ ہر اس چیز کو جو ان کے مزاج کے خلاف ہو تی کہ وہ اس چھوٹی سی بات پہ توجہ نہیں دیتے، کہ کپڑے پر اس قسم کے پہننے جائز نہیں کہ جو عورتوں کو پہننے کی اجازت ہے، اس لئے عدم انصاف و عمل سے خدا کی پناہ مانگنی چاہئے۔

ہمارے ہم وطن والوں نے انہیں حرکات و خرافات کا خمیازہ اس طرح سے دیکھا، کہ ان منصفوں کے بال نوچے گئے، گریبان پھاڑے گئے، اور پھر وہ اپنے گھر کی بالکونیوں سے بقول شاعر مظفر شاہ

عام دیدار کی منادی ہے

اس سہولت سے استعفادہ کر

ہو گی آساں تبھی شب ہجراں

سرمئی شام نذر بادہ کر

مگر پھر بھی پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین وکیل ان کا ڈرائیور بن کر کتنی دیر اس کی خدمات بجا لاتا رہا ، سنا ہے ، کہ اس کے پاکستان کے کئی ججوں سے تعلقات خاص ہیں ، اور وکیل رکھنے کی بجائے جج رکھ دو، بھی اسی کا نعرہ مستانہ ہے، جو نئے پاکستان یعنی ”تحریک انصاف“ میں بھی ابھی تک گونج رہا ہے ، پتہ نہیں کیوں موجودہ چیف جسٹس میری بات سے قطعاً اتفاق نہیں کرتے یا پھر حزب اختلاف والوں کو ان سے اتفاق نہیں !!!


ای پیپر